اے ڈی بی کی پاکستان کیلئے 50 کروڑ ڈالر کے قرض کی منظوری

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے کووڈ 19 وبا سے پیدا ہونے والے منفی معاشی اور معاشرتی اثرات کو کم کرنے کی غرض سے پاکستان کے لیے 50 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے دی۔اے ڈی بی سے ملنے والا مذکورہ قرض معاشرتی تحفظ کے پروگرام سمیت صحت کے شعبے کی صلاحیتوں کو بڑھانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
اے ڈی بی کے صدر مساتسوگو آسکاوا نے کہا کہ کووڈ 19 نے پاکستان کو بری طرح متاثر کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم اس مشکل دور میں پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے پُرعزم ہیں۔اے ڈی بی کے صدر نے کہا کہ ’پروگرام کی مدد سے حکومت مختلف شعبوں کی استعداد کار بڑھا سکتی ہے جس میں معاشرتی تحفظ اور صحت کے شعبے شامل ہیں‘۔
اے ڈی بی کے اعلامیے کے مطابق اے ڈی بی کووڈ 19 ایکٹیو رسپانس اینڈ ایکسپینڈیچرسپورٹ (ایس اے آر ای ایس) پروگرام سے پاکستان کو مختلف منصوبے چلانے میں مدد ملے گی جس میں 30 لاکھ یومیہ اجرت والے مزدوروں کو نقد امداد کی ادائیگی اور سماجی کفالت کے تحت 75 لاکھ خاندانوں کو نقد گرانٹ شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ پروگرام کی بدولت پاکستان طبی عملے کے لیے خصوصی لباس اور وینٹی لیٹرز حاصل کر سکے گا جس میں خواتین کے لیے مناسب سائز کے ذاتی حفاظتی سامان بھی شامل ہے۔اے ڈی بی کے مطابق مالی پروگرام سے کاروباری نوجوان طبقہ خصوصاً 25 فیصد خواتین کو سرکاری اسکیموں بشمول ‘کامیاب جوان پروگرام’ کے ذریعے معاونت مل سکے گی۔
واضح رہے کہ ورلڈ بینک سیکیورینگ ہیومن انوسٹمنٹ ٹو فوزٹر ٹرانسفورمیشن (شفٹ) اور ایشین انفرا اسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی جانب سے بھی 50-50 کروڑ ڈالر پر مشتمل پروگرام کے ساتھ اے ڈی بی کے سی اے آر ای ایس پروگرام کورونا وائرس کے تناظر میں استعمال کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ پاکستان کے لیے منظور ہونے والا اے ڈی بی کا پروگرام کووڈ 19 کے خصوصی فنڈز سے جاری ہوا جسے (سی پی آر او) کہتے ہیں۔اے ڈی بی نے 20 ارب ڈالر مختص کیے اور 13 اپریل کو سی پی آر او قائم کیا جس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کو کووڈ 19 میں مالی پروگرام پیش کرکے ان کے اقدامات کو حوصلہ دینا ہے۔
خیال رہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث پاکستان کو پہنچنے والا معاشی نقصان 25 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ان اعداد و شمار پر وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے دوران مختلف قرض دہندہ اداروں اور حکومتی اداروں میں تقریباً اتفاق ہو گیا تھا۔اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے ذریعے پیمائش کیا جانے والا ملکی معیشت کا حجم 440 کھرب سے 25 کھرب روپے کم ہو کر 415 کھرب ہوگیاایشیائی ترقیاتی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے بھی ایشیائی ممالک کو وبا کے باعث پہنچنے والے نقصانات کی عمومی اور پاکستان کے حوالے سے خصوصی پریزینٹیشن دی تھی۔اے ڈی بی کے پیش کردہ اعداد و شمار میں کووِڈ 19 کے بعد کے منظر نامے میں پاکستان کی معیشت کی بحالی کی علامات نمایاں ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button