معیشت پراٹھائے اقدامات پر کوئی شرمندگی نہیں

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ معیشت پر اٹھائے اقدامات پر کوئی شرمندگی نہیں، ملک کی معیشت بہتر ہوئی ہے اور درآمدات میں کمی کی وجہ سے روپیہ پر دباؤ بھی کم ہوگا، اس کے اثرات اگلے ماہ سے پڑیں گے جبکہ اگلے دوماہ کے لیے ڈیزل درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

وزیردفاع خواجہ آصف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا17تاریخ کے بعد سے ڈالر کی مارکیٹ بڑھی ہے اور اب آہستہ آہستہ کنٹرول میں آگئی ہے، اس مہینے کی درآمدات پچھلے سال اور پچھلے مہینے کے مقابلے میں کم ہیں، ڈالر میں دباؤ کی وجہ سیاسی کشیدگی ہے لیکن جیسے ہی اعلان ہوا کہ وفاقی حکومت جاری رہے گی تو مارکیٹ میں ٹھہراؤ آگیا ہے۔

انکا کہنا تھاپچھلے مہینے 7.5 ارب ڈالر کی تاریخی زیادہ درآمدات ہوئی تھیں، میں 3.7 ارب توانائی اور 3.7 ارب دیگر اشیا تھیں، اس کی ادائیگوں کی وجہ سے روپے پر دباؤ آرہا ہے،اسٹیٹ بینک نے بہت قدغنیں لگائی ہیں، اس کی وجہ سے بہت کم ایل سیز کھلی ہیں، اسی لیے اگلے مہینے بھی درآمدات کم ہوں گی اور پچھلے مہینے قدغنیں لگائی تھی تو اس مہینے درآمدات کم ہوئی ہیں۔

مفتاح اسماعیل نے کہا2ارب لیٹر سے زیادہ ڈیزل ملک میں موجود ہے اور یہ 60 دنوں کے لیے لہٰذا ڈیزل درآمد کرنے کی کم سے کم ضرورت ہے، فرنس آئل بھی پورےسیزن کے لیے موجود ہے اور مزید فرنس آئل درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہے،موٹرگیسولین کی طلب میں کم ہوئی ہے، موٹر گیسولین، فرنس آئل اور ڈیزل کی درآمد میں خاطر خوا کمی آئی ہے اور اس کی وجہ سے روپے پر دباؤ کم ہوگا اور اس کے اثرات اگلے ہفتے اور اگلے مہینے سے نظر آئیں گے۔

انہوں نے کہا پاکستان میں بینکوں میں ڈالر کی طلب ہے اور ڈالر کی سپلائی سے کم ہوگی اور یہ چیزیں حکومت کے کنٹرول میں ہے، ایکسچینج ریٹ کے علاوہ معیشت ٹھیک چل رہی ہے۔

مفتاح اسماعیل نےایک سوال پر کہا کہ ہم اگلے ہفتے کے اندر اسٹیٹ بینک کے نئے گورنر نامزد کریں گے اور آج ہی اسٹیٹ بینک کے بورڈ کے نام بھی جاری کریں گے،ہم ڈالر کو قید نہیں کر سکتے کیونکہ ہم ڈبلیو ٹی او اور سب سے اہم آئی ایم ایف سمیت بین الاقوامی معاہدوں میں ہیں، ڈالر کی ٹریڈنگ ہورہی ہے لیکن ہم دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں ٹھیک کھڑے ہیں۔

Related Articles

Back to top button