ملک اتنا خطرے میں نہیں جتنا لوگ سمجھ رہے،منفی تجز ے غلط قرار

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قائم مقام گورنر مرتضیٰ سید نے کہا ہے کہ ملک اتنا خطرے میں نہیں جتنا لوگ سمجھ رہے،ملکی معیشت درست سمت میں چل رہی ہے ، اس پر منفی تجزے درست نہیں۔

قومی بینک کےآفیشل یوٹیوب چینل پر ایک پوڈکارڈ میں گفتگو کرتے ہوئےانکا کہنا تھا اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آئندہ 12 مہینے عالمی معیشت کے لیے بہت مشکل ہوں گے، کورونا وبا سے باہر نکلتے ہوئے ہم محسوس کررہے ہیں کہ اجناس کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافہ ہورہا ہے، ذخائر میں کمی آرہی ہے اور عالمی سیاسی تناؤ بھی موجود ہے، ان وجوہات کے سبب تمام ممالک پریشان ہیں، وہاں مہنگائی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور جن ممالک پر قرضوں کی شرح زیادہ ہے ان پر اس صورتحال کا دباؤ بھی زیادہ پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہامیرے خیال میں اس وقت پاکستان اتنا خطرے میں نہیں ہے جتنا لوگ سمجھ رہے ہیں، اس کی 3 وجوہات ہیں، سب سے پہلے ہمارے قرضوں کی شرح جو ہمارے جی ڈی پی کا 70 فیصد بنتا ہے، گھانا، مصر اور سری لنکا کی طرح جن دیگر ممالک سے ہمارا موازنہ کیا جارہا ہے ان کے قرضوں کی یہ شرح ان کے جی ڈی پی کا 80 فیصد یا اس سے زائد ہے،دوسری چیز بیرونی قرضوں کی شرح ہے، ہمارے بیرونی قرضوں کی شرح جی ڈی پی کا 40 فیصد ہے جبکہ ایسے دیگر ممالک میں یہ شرح زیادہ ہے،اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اندرونی قرضوں کی شرح زیادہ ہے اور اس کو سنبھالنا آسان ہوتا ہے کیونکہ یہ آپ کی اپنی کرنسی میں ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تیسری چیز مختصر مدت کے قرض دیکھے جاتے ہیں، پاکستان کے کُل بیرونی قرضوں کا صرف 7 فیصد مختصر مدت کے قرضوں پر مبنی ہے، دیگر ملکوں کی یہ شرح کافی بلند ہے، ترکی میں یہ شرح 30 فیصد ہے،اس کے علاوہ ایک اور چیز یہ دیکھی جاتی ہے کہ کن شرائط پر آپ نے یہ بیرونی قرضہ حاصل کیا ہے، ہمارے معاملے میں قرضوں کا صرف 20 فیصد کمرشل بنیادوں پر حاصل کیا گیا ہے جبکہ باقی قرضہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دوست ممالک سے لیا گیا ہے اس لیے ان کو لوٹانا ہمارے لیے بہ نسبت ان ممالک کے بہت آسان ہے جنہوں نے بہت کمرشل بنیادوں پر بہت زیادہ قرضہ حاصل کیا ہوا ہے۔

مرتضیٰ سید نے کہادوسری چیز یہ بھی دیکھنی چاہیے کہ پالیسیوں پر کس طرح عملدرآمد کیا جارہا ہے، کورونا سے نکلنے کے بعد ہماری معیشت بہت اچھے انداز میں بڑھ رہی تھی، گزشتہ سال ہمارا گروتھ ریٹ 6 فیصد تھا جو اس سال بھی ہوگا، اس لیے یہ بات خوش آئند ہے کہ اس وقت ہم معیشت کو سلو کرنے کے قابل ہوگئے ہیں، اس پر ہم نے کام بھی شروع کردیا ہے، شرح سود بڑھادی ہے، اس طرح کے حالات کا سامنا کرنے والے دیگر ممالک سے موازنہ کیا جائے تو اسٹیٹ بینک نے بہت مؤثر انداز میں شرح سود میں اضافہ کیا ہے۔

قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک نے کہاسب سے اہم چیز یہ ہے کہ آئندہ 12 ماہ میں جس ملک کے پاس آئی ایم ایف پروگرام ہوگا وہ محفوظ رہیں گے اور جن کے پاس نہیں ہوگا وہ بہت دباؤ میں ہوں گے، بڑی مشکل سے بالآخر ہمارا آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ ہوگیا ہے، اس لیے ہم اتنے خطرے میں نہیں ہیں جتنا لوگ سمجھ رہے ہیں، سٹاف لیول معاہدے کو معمولی چیز نہیں سمجھنا چاہیے، یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہوتی ہے، اس کا مطلب ہے کہ آئی ایم ایف کا استاف مطمئن ہے کہ ہم نے اس جائزے کو مکمل کرنے کے لیے تمام شرائط پوری کرلی ہیں، اسٹاف لیول معاہدہ ہوجانے کے بعد بورڈ سے منظوری میں بہت آسانی ہوتی ہے۔

انکا کہناتھاہمیں بیرون ملک فنانسنگ کی ضرورت ہے لیکن یہ ہمارے دوست ممالک کی جانب سے آنی ہے جس میں آئی ایم ایف بھی ہماری مدد کرے گا، یہ دوست ممالک بھی کئی بار پہلے بھی ہماری مدد کر چکے ہیں،آئی ایم ایف اچھی طرح اس بات سے واقف ہے کہ اس طرح کے ممالک سے کیسے معاملات طے کرنے ہیں جہاں جمہوری سلسلے میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے، اس لیے وہ پاکستان سے بھی معاملات طے کرنا جانتا ہے اور ہم نے بھی ان سے جو وعدے کیے ہیں وہ سب پورے ہورہے ہیں،ان شا اللہ اگست کے مہینے میں یہ بورڈ میٹنگ بھی ہوجائے گی جس کے بعد ساری دنیا دیکھ لے گی کہ پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور لوگوں کے تحفظات بھی دور ہوجائیں گے۔

قائم مقام گورنر کے عہدے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، کہ اسٹیٹ بینک کے قائم مقام گورنر کے پاس وہ تمام اختیارات ہوتے ہیں جو ایک مستقل گورنر کے پاس ہوتے ہیں، سوائے اس کے کہ وہ آپ کے کرنسی نوٹ پر دستخط نہیں کر سکتا،میں تقریباً ڈھائی ماہ سے قائم مقام گورنر کے عہدے پر فائز ہوں، اس دوران ہم نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 2 اجلاس کیے ہیں، ہماری 2 بورڈ میٹنگز ہو چکی ہیں اور میں نے متعلقہ بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر جاکر پاکستان کی نمائندگی بھی کی ہے، اس دوران ہم نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات بھی کیے اور ایک اسٹاف لیول معاہدہ بھی منظور کروالیا جس پر میرے دستخط ہوں گے۔

مرتضیٰ سید نے کہااس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ جز وقتی یا کل وقتی گورنر ہوں، گورنر، گورنر ہوتا ہے اور اس کے پاس تمام اختیارات ہوتے ہیں، سوشل میڈیا پر پاکستان کی معیشت کے حوالے سے منفی اور بے بنیاد خبریں پھیلائی جا رہی ہیں جبکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے، اس پوڈ کاسٹ کا مقصد ان افواہوں کو دور کرنا تھا، اسٹیٹ بینک ایک ذمہ دار ادارہ ہے، میں عوام سے بھی یہی کہوں گے کہ ان افواہوں پر کان نہ دھریں۔

Related Articles

Back to top button