ڈالر 230 روپے کی کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا

ملک تاریخ میں پہلی بار امریکی ڈالر230 روپے کی سطح پر پہینچ گیا۔

جمعہ کے روز بھی امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گراوٹ کا سلسلہ جاری رہا،اور انٹربینک تجارت میں 230 روپے کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔

فاریکس ایسوسی ایشن کے مطابق روپے کی قدر 0.33 فیصد کی کمی کے ساتھ 75 پیسے گر گئی جو گزشتہ روز 227.75 روپے پر بند ہوا۔اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق شرح مبادلہ پیر کو 215.2 روپے کی بلند ترین بلندی پر پہنچ گئی تھی، یہ منگل کو 222 روپے تک پہنچ گئی تھی جبکہ بدھ کو 224 روپے کی حد عبور کر کے جمعرات کو 226.81 روپے تک پہنچ گئی۔

سعد بن نصیرجوکہ یٹس گلوبل کے ڈائریکٹر ہیں کے مطابق ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں کمی ایک “تلخ حقیقت” ہے لیکن یہ صرف پاکستان کے ساتھ نہیں ہو رہا،صرف روپیہ ہی نہیں تمام کرنسیاں امریکی ڈالر کے مقابلے میں گر رہی ہیں،عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے درکار ضروری اقدامات پر زور تاکہ عوام کو یہ باور کرایا جا سکے کہ پاکستان کسی بھی طرح سے ڈیفالٹ نہیں ہونے والا،برآمد کنندگان کو جلد از جلد ترسیلات زر دینے کا پابند ہونا چاہیے اور یہ وقت ہے کہ مرکزی بینک پوری قوت کے ساتھ حرکت میں آئے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کوئی بھی موجودہ صورتحال کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائے۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایک حد مستقل بنیادوں پر متعارف کرائی جانی چاہیے اور اسٹیٹ بینک کو اس طرح قدم بڑھانا چاہیے جیسا کہ وہ کرنسی مارکیٹ میں روپے کو جمع کرنے کے لیے کرتے ہیں،کسی بھی بحران کی آمد سے قبل سخت اقدامات کی ضرورت ہے اور ہمارے پاس 1998 کی طرح مایوس کن اقدامات کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا،1998 میں اس وقت کی حکومت کی جانب سے شرح مبادلہ کا نیا نظام متعارف کرانے کے بعد پاکستان کو معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ٹریس مارک میں ریسرچ کی سربراہ کومل منصور نے بھی اسٹیٹ بینک سے مداخلت کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ بصورت دیگر روپے کی قدر مزید کم ہونے کا خدشہ ہے،یہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے مشکل ثابت ہو رہا ہے کیونکہ تجارت بے ترتیب ہو چکی ہے اور بندرگاہ پر کنٹینرز کے بیک لاگ کی طرف اشارہ کیا جو اس مسئلے کو مزید بڑھا رہا ہے۔

ظفر پراچہ جوایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ہیں نے موجودہ صورتحال کو غیر یقینی قرار دیتے ہوئے شکایت کی کہ بینک کرنسی مارکیٹ میں قیاس آرائیوں میں ملوث ہیں جبکہ حکومت کا ان پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ جب ماضی میں موجودہ جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تو حکومت اور متعلقہ محکمے ایکسچینج ریٹ کمپنیوں سے ان کی تجاویز کے لیے رجوع کریں گے اور ان کی سفارشات پر عمل درآمد کریں گے،اس سے صورتحال میں بہتری آئے گی اور دعویٰ کیا کہ اس بار موجودہ اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایکسچینج ریٹ کمپنیوں کی طرف سے تجویز کردہ تمام تجاویز پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو جو تجاویز دی ہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ہماری درآمدات کو برآمدات سے منسلک کردیں،ہماری درآمدات کو کسی بھی صورت میں ہماری برآمدات سے زیادہ ہونا چاہیے اور اس تجویز پر عمل درآمد نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔

انکا کہناتھا حکومتی اخراجات میں 30 فیصد سے 40 فیصد تک کٹوتی کی تجویز پیش کرتے ہوئے خبردار کیا کہ بصورت دیگر ہم پہلے کے مقابلے میں انتہائی تیزی سے ڈیفالٹ کی طرف جائیں گے،ایسا لگتا ہے کہ ہماری سیاسی پارٹیوں نے ذہنی طور پر یہ قبول کر لیا ہے کہ ہم ڈیفالٹ کی طرف جا رہے ہیں،سیاسی جماعتوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھیں اور معاشی بحالی کے یک نکاتی ایجنڈے پر متحد ہوجائیں۔

Related Articles

Back to top button