سٹاک ایکسچینج میں تیزی،100 انڈیکس میں748.97 پوائنٹس کا اضافہ

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں آج کاروباری ہفتے کے دوسرے روز کے ایس ای 100 انڈیکس میں سہ پہر تک 748.97 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور سرمایہ کار آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے ایک ارب ڈالر قرض کی قسط کے لیے معاہدے کے ممکنہ اعلان کے حوالے سے پرامید نظر آئے ۔

سٹا ایکسچینج کی ویب سائٹ کے مطابقویب سائٹ کے مطابق دوپہر 3 بج کر 5 منٹ پر انڈیکس میں 786 پوائنٹس یا 1.88 فیصد اضافہ ہوا۔
رضا جعفری جو کہ انٹرمارکیٹ سیکیورٹیز کے ریسرچ سربراہ ہیں کا کہنا تھا مارکیٹ میں ان رپورٹس پر جوش و خروش ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستانی عملے کی سطح کا معاہدہ طے پانے کے قریب ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر مالیاتی ادارے سے فنڈ جاری ہوتا ہے تو یہ دوسرے ذرائع سے بھی فنڈنگ جاری کرنے کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کر سکتا ہے اور روپے کی قدر میں کسی حد تک اضافہ کر سکتا ہے۔

دوسری جانب عارف حبیب کارپوریشن کے احسن محنتی نے کہا کہ وزیر خزانہ کی جانب سے ایک یا دو دن میں آئی ایم ایف سے مالی فنڈ پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کا اشارہ دینے کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں تیز بظاہر مارکیٹ کی بحالی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے میڈیا سے غیررسمی گفتگو کے دوران کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا آئی ایم ایف 15 فیصد تک تنخواہیں بڑھانے اور 12 لاکھ روپے تک انکم ٹیکس چھوٹ دینے کا مخالف ہے تو وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کا تنخواہ بڑھانے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور 12 لاکھ تنخواہ پر بات ہوجائے گی اور ہم تحفظ دیں گے،صاحب ثروت لوگوں پر ٹیکس لگایا جائے گا لیکن غریب عوام کو ٹیکس ریلیف دیں گے۔آئی ایم ایف سے معاہدے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا تھا کہ امید ہے کہ ایک، دو دن کے اندر معاہدہ ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے جولائی 2019 میں 39 ماہ کے لیے آئی ایم ایف کی 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت پر دستخط کیے تھے، تاہم گزشتہ حکومت کی جانب سے وعدوں کی خلاف ورزی پر آئی ایم ایف نے تقریباً 3 ارب ڈالر روک لیے تھے۔اب پاکستان چاہتا ہے کہ آئی ایم ایف نہ صرف قسطیں جاری کرے بلکہ پروگرام کو مدت اور حجم کے لحاظ سے بھی توسیع دے۔

2روز قبل ہفتے کے روز کو امریکا میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے اسسٹنٹ یو ایس ٹریڈ ریپریزینٹیٹو (یو ایس ٹی آر) برائے جنوبی اور وسطی ایشیا کرسٹوفر ولسن سے ملاقات کی تھی۔ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو وسعت دینے اور پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستانی سفیر مسعود خان کا کہنا تھا ہم پاکستان ریلویز اور ویب ٹیک کے درمیان تعاون کو سراہتے ہیں بالخصوص انجنیئرنگ اور ریل سروسز میں اور ریلوے کے نیٹ ورکس اور پاکستان میں ریل انجنوں کی تیاری کے لیے کمپنی کی مہارت اور جدت سے فائدہ اٹھانے کے منتظر ہیں۔

Related Articles

Back to top button