75 روپے کے کرنسی نوٹ کا استعمال نہ ہونے کے برابر کیوں؟

پاکستان کے قیام کی 75ویں سالگرہ پر جاری ہونے والے 75 روپے کے نوٹ کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے حالانکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے نوٹ کے قابل استعمال ہونے کے متعلق خصوصی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔
حکومت کو یہ وضاحت جاری کرنے کی یہ ضرورت کیوں پیش آئی اس کی وجہ اس کی مالیت اور عوامی سطح پر آگاہی کا فقدان بھی ہے جس کے باعث پاکستان کے قیام کے 75 برس مکمل ہونے پر اجراء کئے جانے والے اس نوٹ سے لوگوں کی لاتعلقی اور اجنبیت نے اس کے استعمال کو انتہائی محدود کر دیا ہے۔
30 ستمبر 2022 کو اجراء کئے جانے والے اس نوٹ کو عوامی لین دین کیلئے عام کردیا گیا تھا لیکن تقریباً سات ماہ ہونے کو آئے ہیں ابھی تک بالخصوص خریدوفروخت میں ان نوٹوں کا استعمال تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ دکاندار گاہکوں سے یہ نوٹ لینے سے انکار کی حد تک گریز کرتے ہیں اس طرح دیگر صارفین بھی یہ نوٹ لینے پر آمادہ نہیں ہوتے.
پٹرول پمپس پر 75 روپے کے نوٹ کا لین دین تقریباً بند ہی ہے کیونکہ وہ پٹرولیم مصنوعات کے لیٹرز کی مجموعی رقم کی وصولی اور ادائیگی کیلئے حساب میں پیچیدگی اور الجھن محسوس کرتے ہیں اور کم وبیش یہی حال گھریلو خواتین کا ہے جو روزمرہ کا سودا سلف خریدتی ہیں جبکہ ناخواندہ لوگ تو اپنی لاعلمی کے باعث اسے جعلی نوٹ بھی قرار دیتے ہیں۔
حتیٰ کہ بینک سے بھی یہ نوٹ لینے سے انکار کر دیتے ہیں، اس کی گنتی میں بھی عام لوگوں کو انتہائی دشواری پیش آتی ہے، پھر اے ٹی ایم ) میں یہ نوٹ اس لئے دستیاب نہیں کیونکہ اس نظام میں 500 روپے کم مالیت کی رقم حاصل نہیں کی جا سکتی اس لئے 500 کا نوٹ اس مشین میں سب سے کم مالیت کا ہے یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ عوام کی اس نوٹ سے غیرمانوسیت اور استعمال میں تذبذب پایا جاتا ہے کیونکہ جب زندگی کے عام اور لازمی شعبوں میں اس کرنسی نوٹ کا لین دین ہی نہیں ہو رہا تو پھر اس کے حصول کا کیا فائدہ۔
اسٹیٹ بینک نے اس مرتبہ عید کے موقعہ پر صرف 75روپے کے نئے کرنسی نوٹ جاری کئے تھے تاکہ عیدی کے طور پر ان نوٹوں کا استعمال ان کی قبولیت اور مانوسیت کا سبب بن سکے لیکن یہ اطلاعات بھی عام ہیں کہ بچوں نے اسے جعلی نوٹ قرار دے کر والدین کی جانب سے عیدی کے نام پر اسے بے وقوف بنانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا، اس لئے ضروری ہے کہ سٹیٹ بینک زیادہ دیکھے جانے والے بڑے چینلز اور بڑے اخبارات میں اس کی مناسب تشہیر کرے تاکہ لوگوں کا ان نوٹوں پر تذبذب ختم اور اعتماد بحال ہو اور وہ بلاجھجک اپنے لین دین میں اسے استعمال کریں۔
30 ستمبر 2022 کو اجراء کئے جانے والے اس نوٹ پر موقعے کی مناسبت سے قائداعظم علامہ اقبال محترمہ فاطمہ جناح اور سرسید احمد خان کی تصاویر موجود ہیں جبکہ عقبی حصے پر مارخور کی ۔
ابتداء میں یہ شکایات بھی سامنے آئی تھیں کہ دیگر کرنسی نوٹوں کی طرح 75 روپے کے نوٹ پر ’’رزق حلال عین عبادت ہے‘‘ درج نہیں تاہم غور سے دیکھنے میں پتہ چلتا ہے کہ ایک چھوٹے سے دائرے میں یہ تحریر باریک لفظوں میں موجود ہے جس پر لوگوں نے مختلف انداز سے تنقید کی۔ پھر عقبی حصے پر مارخور کی تصویر پر بھی اعتراضات آئے، مارخور (پہاڑی بکرا) چونکہ پاکستان کا قومی جانور قرار پایا ہے۔

Related Articles

Back to top button