ڈالر کی پرواز سے گاڑیاں 11 لاکھ روپے تک مہنگی ہوگئیں

ڈالر کی قیمت میں ہوشربا اضافے کیساتھ اب گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی 11 لاکھ روپے تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔
لکی موٹر کارپوریشن لمیٹڈ وہ پہلی کمپنی بن گئی ہے جس نے روپے کی قدر میں کمی کے منفی اثرات صارفین تک منتقل کرتے ہوئے گاڑیوں کی قیمتوں میں 11 لاکھ روپے تک کا اضافہ کر دیا۔
ڈیلرز کو جاری کردہ سرکلر میں کمپنی نے کہا کہ پیکانٹو کے 1000 سی سی کی 2 ماڈلز (مینوئل اور آٹومیٹک دونوں) کی قیمت میں 5 لاکھ روپے تک کا اضافہ کر دیا گیا ہے جس کے بعد ان کی قیمت بالترتیب 31 لاکھ اور 32 لاکھ روپے ہو گئی ہے۔
یہ وہی قیمت ہے جس میں تقریباً 3 سال قبل 1800 سی سی ہونڈا سوک گاڑی دستیاب تھی، اسپورٹیج کے 3 ماڈلز (یعنی الفا، ایف ڈبلیو ڈی اور اے ڈبلیو ڈی) کی قیمت اب بالترتیب ساڑھے 62 لاکھ روپے، ساڑھے 67 لاکھ روپے اور ساڑھے 72 لاکھ روپے ہے جو اس سے قبل 55 لاکھ 35 ہزار روپے، 58 لاکھ 58 ہزار روپے اور 63 لاکھ 63 ہزار روپے تھی۔

بالآخر شاہ رخ خان کا بیٹا آریان خان بے گناہ ثابت ہو گیا

اسٹونک ایکس اور ایک پلس ماڈلز کی نئی قیمت 44 لاکھ 69 ہزار اور 47 لاکھ 72 ہزار روپے کے مقابلے میں 45 لاکھ 45 ہزار اور 48 لاکھ 48 ہزار روپے ہے، سورینٹو 2.4 ایل ایف ڈبلیو ڈی کی قیمت 69 لاکھ سے بڑھ کر78 لاکھ ہوگئی جبکہ 2.4 ایل او ڈبلیو ڈی اور 3.5 ایل کی قیمتیں 75 لاکھ 73 ہزار سے بڑھ کر 85 لاکھ ہوگئیں۔
کارنیول جی ایل ایس پی پی کی قیمت اب 11 لاکھ 49 ہزار سے بڑھ کر 12 لاکھ 59 ہزار روپے ہوگئی، کمپنی نے کہا کہ نئی قیمتیں ان صارفین پر لاگو نہیں ہوں گی جنہوں نے 18 جولائی تک اپنی مکمل ادائیگی کر دی ہے یا جنہیں جون یا اس سے قبل ڈلیوری کا کہا گیا تھا۔
ایل ایم سی ایل نے کہا کہ پیکانٹو مینوئل، اسٹونک، سورینٹو اور کارنیول کی بکنگ جاری ہے جس کے لیے صارفین کو بکنگ کی مکمل ادائیگی کرنے کی ضرورت ہے، تاہم کمپنی نے پیکانٹو آٹومیٹک اور اسپورٹیج کی بکنگ روکی ہوئی ہے، لیکن ایک اسمبلر کی جانب سے قیمت میں اضافے کے بعد دیگر بھی جلد اس کی پیروی کریں گے۔
اس حوالے سے ایک کار اسمبلر نے کہا کہ ڈالر کی قدر میں زبردست اضافے اور روپے کی قدر کے حوالے سے غیر یقینی مستقبل کے پیش نظر کاروں کی قیمت میں اضافے کے بارے میں کوئی خاص پیش گوئی نہیں کر سکتے۔
پاک سوزوکی موٹر کمپنی لمیٹڈ نے جی اپنے موٹر سائیکلوں کی فروخت میں مثبت نمو برقرار رہنے کے باوجود اس کی پیداوار رواں ماہ 16 جولائی سے بند کر دی ہے جبکہ اسٹینڈرڈ ورژن کی پیداوار جاری رہے گی، کمپنی نے سرکلر میں اپنے ڈیلرز کو اس کی پیداوار روکنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔

Related Articles

Back to top button