پاکستانی روپے نے امریکی ڈالر کی کمر کس طرح توڑی؟

امریکی ڈالر کے مزید نیچے آنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے معاشی تجزیہ کاروں نے روپے کی قدر میں بہتری کی چار بنیادی وجوہات بتائی ہیں۔ پہلی وجہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی امریکی عہدیدار کو ٹیلی فون کال ہے جس میں انہوں نے رکا ہوا قرضہ جاری کروانے کے لئے آئی ایم ایف پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا، دوسری وجہ مفرور القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری کی ڈرون حملے میں ہلاکت ہے، تیسری وجہ آئی ایم ایف کا یہ تسلیم کرنا ہے کہ پاکستان نے معاہدے کی تمام شرائط پوری کر دی ہیں۔ چوتھی وجہ الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کے خلاف دیا گیا فیصلہ ہے جس سے سٹاک مارکیٹ میں بھی بہتری آئی ہے۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ان ڈویلپمنٹس کی روشنی میں پاکستانی سرمایہ کاروں کو تاثر ملا کہ امریکہ اور پاکستان کے علاوہ اداروں اور حکومت کے مابین بھی اب معاملات بہتر ہو گئے ہیں لہٰذا انہوں نے فیصلہ کیا کہ ترسیلات زر مارکیٹ میں واپس لائیں اور ڈالر باہر نکالیں۔ جب ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو چھوٹے سرمایہ کاروں کی نظریں بھی بڑوں پر ہوتی ہیں۔ یوں دیکھا دیکھی بھیڑ چال چلنا شروع ہو جاتی ہے۔ یہی کچھ پاکستان میں بھی ہوا اور ایک دم مارکیٹ میں ڈالرز واپس آنے سے اس کی قیمت ایک ہی روز میں 10 روپے تک گر گئی اور ڈالر 238 روپے سے 228 روپے پر آگیا۔ اسکے اگلے روز ڈالر کی قیمت مزید 6 روپے گر گئی اور 122 روپے پر آ گئی، لہٰذا معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ اب جاری رہے گا۔

3 اگست کے روز پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں 10 روپے کی جو کمی ہوئی وہ ایک دن میں ڈالر کی قیمت میں ہونے والی کمی کا پاکستان میں نیا ریکارڈ ہے۔ اس سے پہلے ایک دن میں سب سے بڑی کمی کا ریکارڈ 2 نومبر 1998 کو بنا تھا جب ایک دن میں ڈالر کی قیمت 5 روپے کم ہوئی تھی۔ 3 اگست کے روز کاروبار کے دوران ایک موقع پر ڈالر کی قیمت 12 روپے سے بھی کم ہوئی، تاہم انٹر بینک میں کاروبار کے اختتام پر یہ قیمت 10 روپے کی کمی کے بعد 228 پر بند ہوئی۔ اس سے صرف ایک روز پہلے 2 اگست کو ڈالر کی قیمت 238 روپے پر بند ہوئی تھی۔ دراصل پاکستان میں اپریل کے مہینے کے وسط سے ڈالر کی قیمت میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا جو جولائی کے مہینے میں بہت زیادہ ہو گیا جس کی وجہ ملک میں جون میں ہونے والی ریکارڈ درآمدات تھیں جس نے پاکستانی کرنسی پر دباؤ برقرار رکھا، اس کے ساتھ آئی ایم ایف قرضہ پروگرام کی بحالی میں تاخیر نے بھی ڈالر کی قیمت میں اضافے کے رجحان کو فروغ دیا۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان نے بتایا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ تو درآمدی ادائیگیوں کے دباؤ کا کم ہونا ہے۔ انھوں نے کہا جون کے مقابلے میں جولائی میں دو ارب ڈالر کی کم درآمدات ہوئیں اور اُن کی ایل سی کی ادائیگی اگست کے مہینے میں شروع ہوتی ہے۔ کم درآمدات نے جن میں خاص کر تیل کی ادائیگیاں شامل ہیں، روپے کی قدر کو سہارا دیا ہے۔ واضح رہے کہ جولائی کے مہینے میں پاکستان کے تجارتی خسارے میں 40 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ملک بوستان کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے آنے والا مثبت بیان بھی ڈالر کی قیمت میں کمی کی وجہ بنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آرمی چیف کی جانب سے قرض کے حصول کی غرض سے امریکی حکام کو فون اور اس کے بعد آئی ایم ایف کے قرضے کی اگلی قسط کے جاری ہونے کے امکان نے روپے کی قدر کو سہارا دیا ہے۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کے

 

 

اپوزیشن لیڈر بننے کیلئے نورعالم خان اورراجہ ریاض کا میچ

خلاف فارن فنڈنگ کیس میں دیا جانے والا فیصلہ بھی معاشی استحکام کا باعث بنا ہے۔

ملک بوستان کے مطابق روپے کی قدر میں اضافے کا جو رجحان نظر آ رہا ہے، اس کے مطابق تو ڈالر کی قیمت کو مزید گرنا چاہیے کیونکہ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ کم ہے اور اس کے ساتھ آئی ایم ایف کی جانب سے جب پیسے مل جائیں گے تو اس کا بھی مزید مثبت اثر پڑے گا۔ ملک بوستان کے اندازے کے مطابق اگر اس وقت معاشی اشاریو ں کو دیکھیں اور امپورٹ کی صورتحال کو دیکھیں تو ڈالر کی قیمت کو 200 روپے تک گرنا چاہیے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ڈالر کی قیمت میں مزید کمی ہوتی ہے تو اس کا فائدہ عام آدمی کو تیل اور خوردنی چیزوں کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں ملے گا، کیونکہ پاکستان میں تیل، خوردنی تیل، گندم اور دالیں تک درآمد ہوتی ہیں جو ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ماضی قریب میں کافی مہنگی ہوئیں۔
یاد رہے کہ پاکستان میں جولائی کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 25 فیصد تک چلی گئی تھی جس کی وجہ تیل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں ہونے والا بے تحاشا اضافہ تھا۔

Related Articles

Back to top button