پاکستان دیوالیہ ہوا تو کیا بینک اکاؤنٹس منجمد ہو جائیں گے؟

امریکی ڈالر کی قیمت میں ہوشربا اضافے اور پاکستانی روپے کی قیمت میں ریکارڈ کمی کے باعث پاکستان کے ڈیفالٹ کرنے کی افواہوں کے بعد لوگ بینکوں میں موجود اپنی رقوم کے حوالے سے فکر مند نظر آتے ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ اگر ملک دیوالیہ ہوگیا تو کیا ان کے اکاؤنٹس منجمد تو نہیں ہو جائیں گے؟

لیکن معاشی ماہر ماہرین نے ملک کے دیوالیہ ہونے کی باتوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا کیونکہ پاکستان کے حالات سری لنکا سے سو گنا بہتر ہیں۔ اس سوال پر کہ اگر لوگ دیوالیہ ہونے کی خبروں سے گھبرا کر بینکوں سے اپنے پیسے نکال لیں تو اس سے ملک کو کیا فرق پڑے گا؟ معاشی ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر لوگ اپنا پیسہ نکال بھی لیں تو بھی وہ گردش میں ہی رہے گا اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے قائم مقام گورنر ڈاکٹر مرتضیٰ سید بھی ان خبروں کی تردید کر چکے ہیں کہ ملک معاشی تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے اور ڈیفالٹ کا خطرہ ہے۔ بینک کی طرف سے منعقد ایک پوڈ کاسٹ میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا: ’عالمی سطح پر مہنگائی بڑھنے کے باوجود پاکستان اس طرح کے خطرے سے دوچار نہیں ہے جیسا کہ سمجھا جا رہا ہے۔ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے کہا کہ ہم بین الاقوامی اقتصادی ماحول میں مشکلات پر قابو پانے کے لیے عالمی اداروں کے ساتھ پوری طرح مصروف ہیں۔ قوم کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی منفی جعلی خبروں کو مسترد کرنا چاہیے۔

اسی طرح وزیر خزانہ مفتاح اسمعیل بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان دیوالیہ نہیں ہوگا۔ بلوم برگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان جولائی میں اپنی درآمدات 35 فیصد کم کر کے پانچ ارب تک لے آیا جو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے میں مدد کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مشکلات سے باہر آگیا ہے، اب دیوالیہ کا خطرہ نہیں اور وہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اپنی تمام بیرونی آدائیگیاں وقت پر کرے گا۔

دوسری جانب عالمی مالیاتی فنڈ کی نمائندہ ایستھر پریز روئز نے بھی ایک بیان میں بتایا ہے کہ پاکستان نے ساتویں اور آٹھویں جائزوں کے تحت آئی ایم ایف کی آخری پیشگی کارروائی مکمل کرلی ہے۔ یہ کارروائی 31 جولائی کو پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں اضافے کے ساتھ مکمل ہوئی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فنڈز کے اجرا کے لیے آئی ایم ایف بورڈ کی میٹنگ عارضی طور پر اگست کے آخر میں طے کی گئی ہے۔

بیرون ملک پاکستانی آمروں کی حمایت کیوں کرتے ہیں؟

معاشی امور میں مہارت رکھنے والے صحافی خالد عزیز بھی کہتے ہیں کہ ’پاکستان دیوالیہ نہیں ہونے جا رہا۔ پاکستان کے حالات بہتر ہونے جارہے ہیں اور اسی لیے امریکی ڈالر نیچے آنا شروع ہو گیا ہے۔ انہوں نے دیوالیہ ہونے کی صورت میں بینکوں میں موجود پیسوں کے منجمد ہوجانے کی باتوں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ دیوالیہ ہونے کی صورت میں حکومت نے اگر ادائیگیاں کرنی ہوں تو اسکے پاس مزید نوٹ چھاپنے کی صلاحیت موجود ہے، لہٰذا وہ مزید نوٹ چھاپے گی، انکا کہنا تھا کہ مقامی بینک اکاؤنٹس منجمد نہیں ہوں گے لیکن ہاں روپے کی قیمت ضرور کم ہوجائے گی۔‘ انہوں نے بتایا: ’ہمارے ملک کے حالات مختلف وجوہات کی بنا پر سری لنکا جیسے نہیں ہیں۔ ہم آئی ایم ایف کے سیف زون میں ہیں، اور اسی لیے وہ ہمیں قرض دے رہے ہیں اور پاکستان کی معاشی پوزیشن مستحکم ہے۔

خاقان نجیب نے موجودہ معاشی صورتحال کے حوالے سے بتایا کہ ’اس وقت ملک میں ڈالر لیکویڈٹی کرنچ آیا ہوا ہے جسکی تین وجوہات ہیں، ایک تو آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکیج میں تاخیر، دوسرا سٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر ساڑھے آٹھ ارب ڈالر رہ گئے ہیں اور تیسرا توانائی کے شعبے کی درآمدات زیادہ ہونا۔‘ انہوں نے کہا: ’آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرلی گئی ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ اگست میں آئی ایم ایف بورڈ آجائے گا اور چیزیں بہتر ہوں گی۔‘ انہوں نے کہا: ’ملٹی لیٹرل مالی اداروں کے فنڈز اور دوست ممالک سے ملنے والے قرضوں سے بھی چیزیں مستحکم ہوں گی۔‘

معاشی دباؤ اور غیریقینی کی صورت حال کے حوالے سے خاقان نجیب نے بتایا: جولائی کے مہینے میں درآمدات کم ہوئیں، لیکن آنے والے دنوں میں یہ دباؤ کم ہوگا اور اگلے ایک دو ماہ میں ہم اس صورت حال سے نکل جائیں گے۔ لوگوں کو بالکل گھبرانا نہیں چاہیے۔‘ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پیکیج سے معیشت کو سہارا ضرور ملے گا لیکن ہمارے بنیادی مسائل طویل مدت میں حل نہیں ہوں گے۔ بقول خاقان نجیب: ’ہمارے بنیادی مسائل جوں کے توں رہیں گے، جیسے کہ ریاستی ملکیتی اداروں اور توانائی کے شعبوں میں بحران، گردشی قرضے اور زرعی پیداوار کے مسائل وغیرہ۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ہماری معاشی گروتھ پانچ فیصد سے اوپر جائے گی تو یہ مسائل دوبارہ شروع ہوجائیں گے، لہذا اس کے لیے بنیادی مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔

Related Articles

Back to top button