پاکستانی روپیہ دوبارہ گرنے اور امریکی ڈالر بڑھنے کیوں لگا؟

امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر بہتر ہونے کا سلسلہ دوبارہ رک گیا ہے اور ڈالر کی قدر میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، 25 اگست کو انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت 213 روپے سے بڑھ کر 219 روپے ہو گئی تھی جس میں 26 اگست کو مزید اضافہ ہو گیا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے درآمدی مصنوعات پر عائد پابندی ہٹانے کے اعلان کے بعد سے مارکیٹ میں ڈالر کی مانگ دوبارہ بڑھی ہے جس سے روپے کی قدر گری ہے۔ اس کے علاوہ روپے کی قدر گرنے کی وجوہات میں افغانستان ڈالر سمگل ہو جانا اور آئی ایم ایف سے قرضہ ملنے میں تاخیر سامل ہیں، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے اگلی قسط ملنے، دوست ممالک کی جانب سے وعدوں کے مطابق ڈالرز آنے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد ہی پاکستانی روپے کی قدر میں بہتری ممکن ہے۔
فاریکس ایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے ملک میں ڈالر کی طلب اور رسد میں واضح فرق دیکھا جا رہا تھا، ڈالر فروخت کرنے والے زیادہ تھے جبکہ اس کے خریدار کم تھے لیکن انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ کے درآمدی مصنوعات پر عائد پابندی ہٹانے کے اعلان کے بعد ایک بار پھر سے مارکیٹ میں ڈالر کی مانگ بڑھی ہے۔
اس کے علاوہ ڈالرز سمگل ہو کر افغانستان جانا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، ملک بوستان کے مطابق درآمدی اشیا پر ٹیکس بڑھانے سے افغانستان سے اشیا پاکستان لانے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، پاکستانی روپے سمیت ڈالر کی سمگلنگ ہو رہی ہے جس کی وجہ سے ملک میں ڈالر کی طلب اور رسد میں فرق دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اردو نیوز کے مطابق پشاور شہر پاک افغان بارڈر تورخم کے قریب ہونے کی وجہ سے ڈالر کے کاروبار کا مرکز مانا جاتا ہے، ماضی میں روس کی جنگ ہو یا امریکہ کا نو، گیارہ کے بعد افغانستان پر حملہ، پشاور میں ہمیشہ ڈالر کا کاروبار عروج پر رہا ہے۔ اس کے علاوہ خیبر پختون خوا کے زیادہ تر افراد خلیجی اور یورپی ممالک میں کام کر رہے ہیں، اس لیے کرنسی ایکسچینج زیادہ ہوتی

پاک فوج کا تین روز کا راشن سیلاب متاثرین میں تقسیم

ہے، ڈالر کی قیمت میں حالیہ اضافے کی وجہ اس کا بیرون ملک سمگل ہونا بھی بتایا جا رہا ہے، پشاور میں ہنڈی کا کاروبار کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ ’افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد ڈالر کابل سے آنا بند ہو گیا ہے، اب وہاں کے ڈیلر یہاں سے ڈالر لے جا کر ذخیرہ کر رہے ہیں یا پھر ہنڈی کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ قانونی طریقے سے پیسہ بھیجنے کے لیے ضوابط بہت ہیں اس لیے زیادہ تر تارکین وطن ہنڈی کا طریقہ استعمال کرتے ہیں، افغانستان کے ساتھ کپڑوں کے کاروبار سمیت دیگر مقامی تجارت ڈالر میں ہو رہی ہے۔ یہ بھی ڈالر کے مارکیٹ سے غائب ہونے کی ایک وجہ ہے۔
جنرل سیکرٹری ایکسچینچ کمپینیز آف پاکستان ظفر پراچہ کا بھی ماننا ہے کہ روپے کی گراوٹ کی بنیادی وجہ پاکستان سے افغانستان ڈالر کی سمگلنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا افغانستان سے ڈالرز خرید رہا ہے تاکہ پاکستان میں ڈالر کی کمی ہو اور روپے پر دباؤ پڑے، پراچہ نے وفاقی حکومت اور اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈالر کی سمگلنگ کو روکنے کے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے۔
دوسری جانب کرنسی صراف ایسوسی ایشن پشاور کے صدر ملک عبداللہ کے مطابق ڈالر افغانستان نہیں جا رہا ہے کیونکہ افغانستان حکومت کی جانب سے ڈالر پر پابندی ہے۔ وہاں بنک میں ڈالر پڑے ہوئے ہیں، صرف افغان کرنسی استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے ریٹ میں تھوڑا بہت فرق ہوتا ہے کیونکہ ڈالر کی قیمت مستحکم نہیں نقصان کا خدشہ ہوتا ہے۔ ملک عبداللہ نے بتایا کہ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی بھی اب ڈالرز پاکستان نہیں بھیج رہے ہیں کیونکہ ڈالر کی قیمت بڑھنے کا امکان ہے اور ہر کوئی زیادہ قیمت پر بیچنا چاہتا ہے۔
اس حوالے سے ایف آئی اے پشاور کے ڈائریکٹر مجاہد اکبر نے کہا کہ بارڈر پر سامان کی تلاشی اور افراد کی چیکنگ کسٹم حکام کی ذمہ داری ہے، شہر میں کرنسی کا غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں، کل بھی کچھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مجاہد اکبر نے کہا کہ حساس اداروں کی انفارمیشن پر مشترکہ کارروائی کی جاتی ہے۔
پاکستان فاریکس ایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بیرون ملک جانے والے مسافروں کے ساتھ ساتھ ملک میں آنے والے مسافروں کے لیے بھی کرنسی ڈیکلیئر کی پالیسی نافذ کر دی ہے، اس سے بیرون ممالک سے آنے والے بھی محتاط ہو گئے ہیں اور ملک میں اس ذریعے سے آنے والی کرنسی کا نظام بھی متاثر ہوا ہے لیکن ظفر پراچہ متحدہ عرب امارات کی نئی پالیسی کو روپے کی گراوٹ یا ڈالر کی عدم دستیابی سے جوڑنے کی بات سے متفق نہیں ہے، ان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی پانچ ہزار درہم کے انٹری کو انہوں نے ایک محدود طبقے تک بیان کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سیاحت کی غرض سے یو اے ای جانے والوں کے پانچ ہزار درہم لے جانے سے اتنا فرق نہیں پڑتا کہ روپیہ ایک ہفتے میں انٹر بینک میں 7 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 21 روپے گر جائے، ظفر پراچہ کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں کمی جہاں سمگلنگ کی وجہ سے ہو رہی ہے وہیں امپورٹ کھلنے کے بعد ڈالر کی مانگ میں اضافہ بھی اس کی وجہ ہے، انہوں نے کہا کہ دو سے تین مہینوں کا امپورٹ کا لوڈ ہے جو مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہا ہے، اُمید ہے جلد ہی عالمی مالیاتی ادارے سے قسط ملے گی اور دوست ممالک سے پیسے آئیں گے جس کے بعد صورتحال بہتر ہونے کی اُمید ہے۔

Related Articles

Back to top button