کیا پاکستانی روپیہ اگلے مہینے 250 کا ہو جائے گا؟

ملک میں جاری سیاسی بحران، آئی ایم ایف کی جانب سے قرضے کی فراہمی میں تاخیر اور سرمایہ کاروں کے عدم اعتماد کی وجہ سے امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے پرخچے اڑاتے ہوئے 240 روپے تک گر گیا ہے اور اب یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگلے مہینے تک یہ 250 روپے کا ہو جائے گا۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق 27 جولائی کو 236 روپے 2 پیسے پر بند ہونے والا پاکستانی روپیہ 28 جولائی کو 4 روپے 48 پیسے کمی کے ساتھ 240 روپے تک گر گیا،اس کمی کے نتیجے میں روپیہ، ڈالر کے مقابلے میں 240 روپے 5 پیسے پر ٹریڈ کر رہا تھا، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق انٹربینک میں مقامی کرنسی کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 3 روپے 92 پیسے یا 1.63 فیصد کمی کے بعد 239 روپے 94 پیسے پر بند ہوئی۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے روپے کی قدر میں گراوٹ کا ذمہ دار ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور حکومت کی جانب سے کوئی اقدام نہ اُٹھانے کو قرار دیا، سیاسی حالات خراب ہیں لیکن حکومت اور سیاسی جماعتیں لاپرواہ نظر آتی ہیں، سیاسی جماعتوں کو صرف اپنی حکومت بچانے کی فکر ہے۔ ظفر پراچہ نے نشاندہی کی کہ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کے آؤٹ لُک کی ریٹنگ کو کم کر دیا ہے جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے جاری ہونے والی قسط بھی مبینہ طور پر تاخیر کا شکار ہو چکی ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اس بارے میں بھی غیر یقینی کی صورتحال ہے کہیں آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ قسط کے اجرا سے قبل مزید اقدامات کا مطالبہ نہ کردے۔

روپے کی بے قدری اور گراوٹ کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم وہ اقدامات نہیں کر رہے جو ہمیں کرنے چاہئیں، ہم اس سلسلے میں قابل عمل اقدامات نہیں کر رہے، بدانتظامی اور توجہ نہ دینے کی وجہ سے ملک کے مالی حالات مزید خراب اور بدتر ہو گئے ہیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کو روکنے کیلئے حکومت کو ایکسچینج کمپنیوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو خصوصی مراعات اور سہولیات دینی چاہئیں، درآمدات کو برآمدات سے جوڑنا چاہئے اور اپنے اخراجات کو کم کرنا چاہئے۔

حکومت عمران خان سے خوفزدہ، آج یا کل گر جائے گی

رواں ہفتے کے شروع میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا تھا کہ روپے پر دباؤ ایک دو ہفتوں میں ختم ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جلد پاکستان میں ڈالر کی آمد، اس کے اخراج سے زیادہ ہوجائے گی جس کے نتیجے میں شرح تبادلہ مستحکم ہوگا۔ تاہم ابھی تک مفتاح اسماعیل کے دعوے جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ اپریل کے دوسرے ہفتے کے آغاز میں اسلام آباد میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سے ڈالر کی قیمت میں 28 فیصد یا 51 روپے سے زیادہ کا اضافہ ہو چکا ہے۔

9 اپریل کو جب عمران خان کے فارغ ہونے سے لیکر 22 جولائی کے درمیانی عرصے میں ملک کے تجارتی خسارے، بڑھتے ہوئے سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال کے باعث روپے کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں 21.3 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ 22 جون کو 211 روپے 93 پیسے کی قیمت تک پہنچنے کے بعد جولائی کے پہلے ہفتے میں روپے کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا تھا اور اس کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں 204 روپے 56 پیسے تک آگئی تھی۔ جب 15 جولائی کو عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ پاکستان کا اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا لیکن اس کے بعد حالیہ دنوں میں اس کی قدر میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے اور اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگلے مہینے تک ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر 250 روپے تک پہنچ جائے گی۔

Related Articles

Back to top button