مضامین

مضامین

  • مضامین

    پل دو پل کے عیش کی خاطر

    تحریر: حامد میر خبر دینے والوں کو اکثر یہ پتا ہوتا ہے کہ وہ خود بھی ایک خبر بن سکتے ہیں۔ کوئی خوف کے مارے خبر روک لیتا ہے، کوئی خبر نہیں روکتا اور پھر خود بھی خبر بن جاتا ہے۔ عزیز میمن بھی ایک ایسا ہی صحافی تھا جس کو پتا تھا کہ اُس کی خبریں طاقتور لوگوں کو ناراض کر رہی ہیں۔ یہ طاقتور لوگ بڑے بزدل ہو

    Read More »
  • مضامین

    فصیح الرحمان چلا گیا، اچھا کیا

    تحریر: عمار مسعود فصیح الرحمن نے اچھا کیا جو اس جواں عمری میں دنیا سے چلے گئے۔ جانتا ہوں کسی بھی دوست کی جوان موت پر یہ جملہ لکھنا سنگدلی ہے لیکن میں بڑے وثوق سے کہہ رہا ہوں کہ فصیح الرحمن نے اچھا کیا۔ میری فصیح الرحمن سے بہت زیادہ ملاقات نہیں تھی۔ البتہ دوستوں سے ان کا ذکر بہت سنا تھا۔ ایک ٹاک شو م

    Read More »
  • مضامین

    کوئی پنجابی میں بات کرے تو ‘جہالت’ کا ٹیگ کیوں؟

    ہر شخص کےلیے اس کی مادری زبان قابلِ فخر ہوتی ہے اور ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی زبان زندہ رہے۔ لیکن حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پنجابی زبان سے متعلق ایک بحث چھڑ گئی ہے۔ وائرل ہونے والی ویڈیو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں موبائل سے بنائی گئی ہے جس میں ایک خاتون نے

    Read More »
  • مضامین

    کپتان بدل گیا؟

    تحریر: عاصمہ شیرازی 2002 کی اسمبلی کی کوریج سے سیاسی رپورٹنگ کا آغاز کیا تو ایوان میں نہ تو محترمہ بے نظیر بھٹو تھیں اور نہ ہی میاں برادران۔ ان بھاری بھر کم شخصیات کی کمی کو البتہ بے حد محسوس کیا جاتا تھا تاہم جنرل مشرف کی آمریت نما جمہوریت میں پارلیمان کو اتنا استحقاق ضرور تھا کہ پابندیوں کے باوجود

    Read More »
  • مضامین

    ایک ناکام انٹرویو کی کہانی

    تحریر: عمار مسعود کسی بھی انٹرویو کرنے والے کا کمال یہ ہوتا ہے کہ اس کے پاس سوالات کا ذخیرہ کبھی ختم نہ ہو۔ مخاطب چاہے کتنے پینترے بدلے، گھن چکر دے، ایک ہی بات کو چاہے کئی انداز میں پیش کرے، انٹرویو لینے والے کا کمال یہ ہوتا ہے کہ صاحب انٹرویو کے ہر جواب سے پہلے ایک نیا سوال اس کے منہ میں ٹھونس دینے

    Read More »
  • مضامین

    کیا میڈیا ہی وِلن ہے؟

    تحریر: ماریہ میمن چھ دن پہلے پاکستان تحریک اںصاف کے آفیشل پیج پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی گئی جس میں دکھایا گیا کہ کس طرح ایک رپورٹر ایک ٹھیلے والے کے پاس جا کر اس سے مہنگائی کے بارے میں سوال کرتا ہے اور اس ٹھیلے والے کا مکمل جواب سننے سے پہلے ہی اپنا تبصرہ کر کے مہنگائی کا ملبہ خان صاحب کی حکومت پر دھر

    Read More »
  • مضامین

    ملین ڈالر لیں، محبوب چھوڑ دیں

    تحریر : یاسر پیرزادہ ویلنٹائن ڈے کے موقع پر ایک نوجوان اپنی محبوبہ کےلیے سونے کا کڑا خریدنے جیولر کے پاس گیا، سنار نے پوچھا کیا اِس پر آپ اپنی گرل فرینڈ کا نام کھدوانا پسند کریں گے؟ نوجوان نے ایک لمحے کےلیے سوچا پھر بولا کہ نہیں آپ اِس پر لکھ دیں ’فقط تمہارے لیے جسے میں سچا پیار کرتا ہوں۔‘ سنار یہ س

    Read More »
  • مضامین

    اقتدار مشکل فیصلوں کا نام ہے

    تحریر : ماریہ میمن دو ہفتے قبل، اڑتے اڑتے یہ خبر کانوں سے گزری کہ احسان اللہ احسان پاکستان کی تحویل سے فرار ہوگیا ہے۔ ظاہر ہے، یہ بات سن کر پہلے تو جھٹکا سا لگا اور ہرگز یقین نہیں آیا۔ اتفاق سے، اس وقت دوسینئر صحافیوں کے ساتھ شو کی ریکارڈنگ کرا رہی تھی۔ ساتھ بیٹھے ایک باخبر سینئرصحافی سے جب اس بات ک

    Read More »
  • مضامین

    احسان صاحب چلے گئے تو کیا قیامت آ گئی؟

    تحریر:وسعت اللہ خان کیا ہم نے کبھی مطالبہ کیا کہ ریاست حمود الرحمان کمیشن رپورٹ باضابطہ طور پر شائع کرے؟ہم اگلے 50 برس بھی یہ مطالبہ نہیں کریں گے کیونکہ بحثیت ذمہ دار پاکستانی شہری ہمیں اپنے نصف صدی پرانے اس ریاستی بیانیے پر صد فیصد اعتماد ہے کہ مشرقی پاکستان کی محبِ وطن بنگالی اکثریت کو چند مٹھی بھ

    Read More »
  • مضامین

    ریاست ہو گی ماں کے جیسی

    تحریر:عاصمہ شیرازی ریاست کو ماں کہتے ہیں کیونکہ ماں کا دل سمندر سے گہرا اور آسمانوں سے زیادہ وسیع ہوتا ہے۔ ماں اولاد سے نفرت نہیں کر سکتی، ماں پیار ہی پیار ہے، غلطیاں معاف بھی کرتی ہے اور غلطیوں کے باوجود سینے سے بھی لگاتی ہے۔ ماں بلکتے بچے کو دیکھ کر تڑپ جاتی ہے تو تکلیف میں دیکھ کر ایک پاؤں کھڑی ہ

    Read More »
Close