مضامین

مضامین

  • مضامین

    اپنے جوتے اپنا سر

    تحریر : سید طلعت حسین ہم نے گزشتہ ہفتے اپنے ہاتھوں، مکوں اور جوتوں سے نئی تاریخ رقم کی۔ سابق وزیر اعظم، سابق وزیر داخلہ، سینیٹر، ممبر قومی اسمبلی[خاتون] کا گھیراؤ کر کے دھکم پیل، گالم گلوچ، مار پیٹ اور حملے سے ایسے باب کا آغاز کر دیا ہے جو اس سے پہلے اس پیمانے پر نظر سے نہیں گزرا۔ باوجود اس کے کہ حم

    Read More »
  • مضامین

    زلزلے کا جھٹکا یا سونامی؟

    ماریہ میمن پچھلا ہفتہ سیاسی طور پر ہنگامہ خیز اور سرپرائز سے بھر پور تھا۔ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم جو کافی حد تک ڈانواں ڈول اور بیک فُٹ پر تھا اس میں جان پڑتی نظر آئی ہے۔ دوسری طرف حکمران جماعت کا اعتماد متزلزل ہوا ہے۔ اگرچہ ضمنی انتخاب میں کامیابی سے اپوزیشن کی امیدوں پر جمی اوس تو پگھلی تھی مگر اس

    Read More »
  • مضامین

    غلام، جمہوری سرکس اور رنگ ماسٹر

    تحریر: وسعت اللہ خان اب تو یہ مقولہ بھی جعلی لگنے لگا ہے کہ ‘وہ کھیل زیادہ دیر نہیں چل سکتا جس کی بنیاد ہی مکمل جھک جاؤ یا مکمل جھکا دو’ پر استوار ہو۔’ تمام غلام پسند آقا کسی شے سے ڈرتے ہیں تو بس یہ کہ کہیں غلام آپس میں لڑنا بند نہ کر دیں۔ ورنہ پھر وہ ‘لڑاؤ اور حکومت کرو̵

    Read More »
  • مضامین

    اداروں کو مضبوط کریں

    تحریر : ماریہ میمن حالیہ ضمنی الیکشنز ایک بار پھر انتخابی بے قاعدگیوں اور بد انتظامیوں کا عملی مظاہرہ ثابت ہوئے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں نے ٹوکرے بھر بھر کر ایک دوسرے پر اور الیکشن کمیشن اور مقامی انتظامیہ پر الزامات کی بوچھاڑ کی ہے۔ یہ الیکشنز بھی گزر جائیں گے اور اگلے الیکشنز کا شور پڑے گا مگر

    Read More »
  • مضامین

    مشاہد اللہ خان دوہری شخصیت کے مالک تھے

    عمار مسعود عموماً دیکھا گیا ہے کہ بیشتر سیاست دان لکھنے والوں اور صحافیوں کے متعلق دوہرے رویے کا شکار ہوتے ہیں۔ جب یہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو انھیں ہر لکھنے والے میں جمہوریت کا چراغ جلتا نظر آتا ہے اور جب یہی سیاست دان حکومت میں آجاتے ہیں تو وہی لفظ جن کی بے باکی پر وہ عش عش کرتے تھے انھی کو بغاوت ت

    Read More »
  • مضامین

    ’علی سدپارہ ہمیں معاف کر دیجیے گا‘

    پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ کی جانب سے اپنے والد اور ساتھیوں کے انتقال کی تصدیق کی گئی تو کے ٹو سر کرنے کی مہم کے دوران لاپتہ ہو جانے والے کوہ پیما کو یاد کرتے سوشل میڈیا نے ان کا نام سرفہرست ٹرینڈ بنا دیا۔ متعدد سوشل ٹائم لائنز پر علی سدپارہ کا ذکر ہوا تو ان کی موجودگی میں

    Read More »
  • مضامین

    آئین، نظام اور حکمران

    تحریر : عاصمہ شیرازی جب حالات اس نہج پر پہنچ جائیں کہ اعلیٰ عدالت کے جج صاحب فیصلہ لکھنا چاہیں اور لکھ نہ پائیں، حکمران حکم چلانا چاہیں اور چلا نہ پائیں، مقننہ قانون بنانے کی سکت رکھتی ہو مگر اختیار نا ہو اور میڈیا زبان رکھتے ہوئے قوت گویائی سے محروم ہو تو ایسے نظام کو کیا کہیں گے؟ رواں ہفتے ایک اعل

    Read More »
  • مضامین

    سینیٹ الیکشن اور سیاسی امتحان

    تحریر :ماریہ میمن الیکشن سیاسی جماعتوں کا امتحان ہوتا ہے جس کی تیاری برسوں کی جاتی ہے۔ عام امتحانات کا غلغلہ تو عرصہ پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے مگر سینیٹ جیسے بالواسطہ انتخاب بھی سیاسی بساط میں کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ موجودہ سینیٹ کے انتخابات کو ہی لیجیے۔ ڈھائی سال سے پی ٹی آئی اس انتظار میں تھی کہ سینی

    Read More »
  • مضامین

    زندہ رہی اور ڈٹ کے زندہ رہی

    تحریر :وسعت اللہ خان آج سے تین برس قبل معروف وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر وفات پا گئی تھیں۔ اُس موقع پر یہ مضمون شائع کیا گیا تھا جو کہ آج کے دن کی مناسبت سے قارئین کے لیے دوبارہ پیش ہے۔ سمجھ میں نہیں آ رہا کہاں سے بات شروع کروں؟ آخر آپ ایک پانچ فٹ کے منہنی وجود میں نصب پانچ ہزار ٹی ا

    Read More »
  • مضامین

    مس کالیں اور دھمالیں

    تحریر : عاصمہ شیرازی ہر گُزرتا دن کم مائیگی اور بے یقینی میں اضافہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ تمام استعارے، تشبیہات اور مماثلتیں بے معنی، تمام دلیلیں رائیگاں اور تمام شبیہیں ایک سی محسوس ہوتی ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ منزل گُم اور راستے بے اماں، تعبیریں بے خواب اور نشان بے نشان ہو رہے ہیں۔ صاحب کردار، کردا

    Read More »
English »گوگلیٰ
error: Content is protected !!
Close