مضامین

مضامین

  • مضامین

    غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

    تحریر : حامد میر نام تو اُن کا نواب مرزا خان تھا لیکن تخلص ’’داغ‘‘ تھا اور داغ دہلوی کے نام سے مشہور ہوئے۔ اُنہوں نے اپنا تخلص داغ اِس لئے رکھا کہ وہ اپنے آپ کو بےداغ نہیں سمجھتے تھے۔ خوبصورت چہروں کے دلدادہ تھے اور چلمنوں کے پیچھے چھپے چہروں کے ساتھ آنکھ مچولی میں یہ مشہور شعر کہہ ڈالا: خوب پردہ

    Read More »
  • مضامین

    جہاں دانہ ’خاکی‘ سے مل کر گل و گلزار ہوتا ہے

    تحریر : مطیع اللہ جان شہباز شریف اور آصف زرداری صاحب کے ساتھ وہی ہوا ہے، جو ’عوامی مینڈیٹ کا بار بار سودا‘ کرنے والوں کے ساتھ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ یقین کیجیے! شہباز شریف صاحب شاید اب بھی سمجھتے ہوں گے کہ وہ وزارت عظمیٰ سے مزید قریب ہو گئے ہیں کہ دانہ ‘خاکی‘سے مل کر گل و گلزار ہوتا ہے۔ وزیراعظ

    Read More »
  • مضامین

    میاں صاحب کی شاندار تقریر پر تالیاں ہونی چاہیئں

    تحریر : آمنہ مفتی پاکستانی سیاست آج جہاں کھڑی ہے وہ ایک مضحکہ خیز موڑ ہے۔ پچھلے سال بھی ان ہی دنوں، دھرنے کا غوغا مچا اور پھر اسی شور شرابے میں محترمہ یاسمین راشد صاحبہ نے بنفس نفیس فرمایا کہ میاں صاحب بیمار ہیں اور علاج ان کا فقط ولایت انگلستان میں پایا جاتا ہے۔ تب وہی میاں نواز شریف، جنہیں بڑے زور

    Read More »
  • مضامین

    جی ایچ کیو ایک مکمل غیر سیاسی ادارہ ہے

    تحریر : وسعت اللہ خان اب تک تو ہم حزبِ اختلاف اور حکومت میں براہِ راست مچاٹا دیکھنے کے عادی تھے۔ کسی کلیدی ریاستی ادارے اور اپوزیشن کے مابین براہِ راست دنگل کی روایت نہیں تھی۔ مگر گذشتہ ہفتے سے یہ روایت بھی پڑ گئی۔ آسمان نے دیکھا کہ جاری سیاسی تھیٹر کے اسٹیج پر اوور ایکٹنگ کرنے والی شلوار سوٹ حکومت

    Read More »
  • مضامین

    مشرقی پاکستان اسمبلی کے خوں چکاں واقعات اور ڈپٹی اسپیکر کا پراسرار قتل

    تحریر : فاروق عادل یہ 20 ستمبر 1958 کی بات ہے۔ پاکستان کے پہلے صدر میجر جنرل سکندر مرزا نے ایک آرڈیننس جاری کیا جس کے تحت سرکاری وکلا کےلیے یہ گنجائش پیدا ہو گئی کہ حکومت کی ملازمت جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اسمبلی کی رکنیت بھی برقرار رکھ سکیں گے۔ یہ قانون کتنا اہم اور کتنا متنازع تھا، اگلے ہی روز جب ڈ

    Read More »
  • مضامین

    شیخ رشید کے اعترافات اور انکشافات

    تحریر : سلیم صافی شیخ رشید احمد کی طرز سیاست اور طرز گفتگو سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اور میں بھی ان کی سیاست کے نقادوں میں شامل ہوں لیکن اس میں دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ وہ سر تا پا سیاست ہیں ۔لڑکپن سے سیاست شروع کی اور سیاست کرتے کرتے اب جب بزرگوں کی صف میں شامل ہوگئے ہیں تو بھی نوجوان سیاستدانوں سے زی

    Read More »
  • پاکستان

    گوادر : عمان سے پاکستان کے پاس آنے والی بندرگاہ جس پر انڈیا کی بھی نظریں تھیں

    تحریر : فاروق عادل تاریخ میں دو قوتیں ہی ایسی گزری ہیں جنہوں نے گوادر کی اہمیت کو پہچانا، برطانیہ اور اس کے بعد پاکستان۔ برطانیہ کی دلچسپی والی بات تو اب پرانی ہوگئی کیوں کہ اس کا تعلق 19ویں صدی کے وسط اول سے ہے جب افغانستان نے 1839 میں ان علاقوں پر حملہ کیا۔ اس وقت برطانوی حکومت نے ضرورت محسوس کی ک

    Read More »
  • مضامین

    کون کتنا عریاں ہوا؟

    سیاست واقعی ایک گورکھ دھندا ہے لیکن اتنا گندا اور اتنا بدلحاظ کہ توبہ ہی بھلی۔ سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے پہلے گزشتہ اتوار اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کل جماعتی کانفرنس میں کیا کیا اور اب فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایک ’خفیہ‘ ملاقات کا کچا چٹھا عام کر دیا۔ فریقین ایک دوسرے کو

    Read More »
  • تازہ خبریں

    ففتھ جنریشن وار کی اصل حقیقت کیا ہے؟

    تحریر : سید طلعت حسین آج کل ففتھ جنریشن یا ہائبرڈ جنگ کا بڑا چرچا ہے۔ ہر کوئی اس کے حوالے دے کر قومی مفادات کے تحفظ کی درخواستیں کرتا پھر رہا ہے۔ سننے میں یہ بڑا گہرا لیکن اصل میں زمانہ قدیم سے رائج ایک تصور ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ جھوٹ اور سچ کو ملا کر لوگوں کو بطور دوا پلا دیا جاتا ہے۔ وہ اس کے اثر کے

    Read More »
  • مضامین

    جب پاکستانی پائلٹ 46 برس بعد انڈین جہاز مار گرانے پر نادم ہوئے

    تحریر : ریحان فضل 19 ستمبر سنہ 1965 کو گجرات کے وزیر اعلیٰ بلونت رائے مہتا نے دن کی ابتدا علی الصبح کی۔ 10 بجے انہوں نے این سی سی کی ایک ریلی سے خطاب کیا۔ دوپہر کے کھانے کے لیے گھر واپس آئے اور پھر ڈیڑھ بجے ہوائی اڈے کے لیے روانہ ہو گئے۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ سروج بین، تین ساتھی اور ‘گجرات سم

    Read More »
Close