مضامین

مضامین

  • مضامین

    یہ ہماری پارلیمنٹ ہے اور یہ ہماری پارٹی

    کسی نے کہا یہ جمہوریت کا جنازہ ہے، کسی نے کہا کسی سکول کے گراؤنڈ میں یا گلی کی نکڑ پر ہونے والا لونڈوں کا پھڈا ہے۔ کوئی سوچ رہا ہے کہ کیا اب پارلیمان کے اجلاس کی نشریات سے بچوں کو دور رکھیں اور ’صرف بالغان کے لیے‘ کی ریٹنگ لگا دیں۔کسی کو صدارتی نظام کے خواب دکھائی دے رہے ہیں، کوئی کہہ رہا ہے سب کو ت

    Read More »
  • مضامین

    باچا خان: غداری کے فتوے، 39 سال قید اور جلا وطنی

    آج سے ٹھیک 73 برس قبل یعنی 15 جون 1948 کو جھلسا دینے والی گرمی تھی۔ شمال مغربی سرحدی صوبے (موجودہ خیبرپختونخوا) میں زیادہ تر کسان گندم اور چنے کی فصلوں کی کٹائی مکمل کر چکے تھے۔ اب اُن کی نظریں اُس راستے پر ٹکی تھیں جہاں سے خدائی خدمت گار تحریک کے بانی خان عبدالغفار خان کو، جنھیں باچا خان کے نام سے

    Read More »
  • مضامین

    حامد میر: حبس کے موسم میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا

    جب میں نے مشرف دور میں ہوش سنبھالا تو اس وقت ہمارے گاؤں میں اینٹینا والی ٹی وی ہوا کرتی تھی جس پر صرف پی ٹی وی چلا کرتا تھا جو ہر عام و خاص کے بجائے برادری کے ملک، خان اور مال داروں کی بیٹھک پر ہی دیکھی جاتی تھی ہم محلہ کے سارے بچے، بڑے اپنی بیٹھک پر ایک ساتھ بیٹھ کر پی ٹی وی پر ڈرامے دیکھتے تھے اس

    Read More »
  • مضامین

    غدار سازی کی قانونی فیکٹری

    تحریر: وسعت اللہ خان وہ جو کسی نے کہا تھا کہ بدترین قوانین بھی بہترین نیت سے بنائے جاتے ہیں۔ اس کا احساس قدم قدم پر ہوتا ہے۔ ریاست بھلے جمہوری ہو کہ فسطائی کہ سامراجی کہ آمرانہ کہ نظریاتی۔ جب بھی کوئی تادیبی قانون نافذ کرتی ہے تو ایک جملہ ضرور کہا جاتا ہے ”یہ قانون عوام کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے“

    Read More »
  • مضامین

    سنّاٹے کا شور

    تحریر: عاصمہ شیرازی سناٹے کا شور کبھی سُنا ہے؟ جب شور تھم جاتا ہے اور آوازیں بند ہو جاتی ہیں، گلے گھُٹ جاتے ہیں اور گھونٹے نہیں جاتے، نہ موسیقی، نہ ساز، نہ آواز اور نہ ہی شور۔۔۔ ایسے میں سناٹا گونجتا ہے، آواز صرف کانوں میں بجتی ہے، ساز کا گلا رُندھ جاتا ہے اور شور خود اپنے کانوں میں اُنگلیاں ڈال لیت

    Read More »
  • مضامین

    ملالہ کے خلاف پراپیگنڈا چاند پر تھوکنے کے مترادف ہے

    تحریر : سلیم ملک ملالہ پندرہ سال کی بچی تھی اور وہ سکول سے واپس آ رہی تھی کہ ایک بندوق بردار دہشتگرد نے راستے میں اس کی گاڑی روکی اور شناخت کے بعد ملالہ پر کئی گولیاں چلائیں۔ ملالہ شدید زخمی حالت میں تھی۔ اس کے بچ جانے کی امید بہت کم تھی۔ طالبان نے بچی پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ اس وقت بھی پاکس

    Read More »
  • مضامین

    یہ مارشل لا تو نہیں!

    تحریر : عاصمہ شیرازی ہوائیں سرسراتی کیوں ہیں جناب، کیوں نہ ان کی سرسراہٹ پر کوئی شق عائد کر دی جائے۔ صبا مچلتی کیوں ہے، کیوں نہ اُس کی سبک روی پر کوئی تعزیر عائد کر دی جائے۔ دریا بہتے کیوں ہیں، کیوں نہ اُن کی روانی پر جبر کا پُل باندھ دیا جائے۔ یہ کون ہیں جو بہتے دریاؤں اور بہکتی ہواؤں اور صباؤں کو

    Read More »
  • مضامین

    خیر خواہ بریگیڈیئر کا نواز شریف کو فرار کا مشورہ

    یہ کوئی سات برس قبل، اگست 2014 ء کی ایک حبس زدہ صبح تھی۔ برسات کی نمی سے بوجھل ہوا ساکن تھی۔ عمران خان کے ”انقلاب مارچ“ اور علامہ طاہر القادری کے ”آزادی مارچ“ کے آتش بجاں قافلے تمام رکاوٹوں کو روندتے ہوئے، شاہراہ دستور کے منطقہ سرخ (ریڈ زون) میں خیمہ زن ہو چکے تھے۔ وزیراعظم نواز شریف کو بے دخل کرنے

    Read More »
  • مضامین

    اپوزیشن کی ٹرین مس؟

    تحریر : عاصمہ شیرازی سادہ صفحے پر لکھی تحریر کو پڑھنے کے انداز الگ ہیں۔ لکھنے والا جب تحریر پیچیدہ بنا دے تو ہر گُزرتا دن حالات کو اور مشکل اور امکانات کو ناممکن بنا دیتا ہے۔ عالمی سیاست اور اس میں خطے کی سیاست اور اُس سے جُڑی ہماری مقامی سیاست۔۔۔ سب ایک لڑی میں ہیں۔ ایک سادہ سی تصویر تو یہ ہے کہ ام

    Read More »
  • مضامین

    دراڑ تو پڑ چکی ہے

    تحریر : ماریہ میمن پی ٹی آئی کی پی ڈی ایم کے زوال پر خوشیاں اور اطمینان عارضی ثابت ہوا اور پی ڈی ایم کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد پی ٹی ائی میں بھی شکست و ریخت کے اشارے اب واضح ہیں۔ حکومتی ترجمانوں کی طرف سے اس کو چائے کی پیالی میں طوفان اور پارٹی کی جمہوری روایات کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے مگر اس حقیقت سے کی

    Read More »
Close