کیا قندیل بلوچ کے قاتل کی بریت چیلنج ہو سکتی ہے؟

پاکستان کی پہلی سوشل میڈیا سلیبرٹی قندیل بلوچ کے قاتل کی لاہور ہائیکورٹ کے ہاتھوں بریت کی بنیادی وجہ اس کی ماں کی جانب سے اپنے بیٹے کو معاف کرنا اور دیگر گواہوں کا منحرف ہونا بتائی جا رہی ہے چنانچہ یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا ریاست کی جانب سے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کے اعلان کے بعد فیصلہ واپس ہو پائے گا؟
یاد رہے کہ یاد رہے کہ جنوبی پنجاب کے شہر ملتان میں سوشل میڈیا سلیبرٹی اور ماڈل قندیل بلوچ کو 2016 میں 14 اور 15 جولائی کی درمیانی شب سوتے ہوئے گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا۔قتل میں ان کے دوبھائیوں محمد وسیم اور اسلم شاہین کو نامزد کیا گیا تھا۔ کیس کی سماعت کے دوران مذہبی شخصیت مفتی عبدالقوی کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا۔
انسانی حقوق بالخصوص حقوق نسواں کیلئے کام کرنے والی تنظیمیں اور دیگر حلقے بریت کے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں خصوصا جب مقتولہ کے بھائی نے خود قتل کا اعتراف کر لیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ غیرت کے نام پر اپنی بہن کو قتل کرنے والے ملزم کو کیسے معاف کیا جا سکتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ یہ کیس اب دو فریقین کا ذاتی کیس نہیں بلکہ ایک اجتماعی کیس بن چکا ہے جس کے اثرات سارے معاشرے پر مرتب ہوں گے۔
ماہرین قانون کہتے ہیں کہ یہ کیس ٹرائل کورٹ میں تھا جہاں استغاثہ نے ’فساد فی الارض‘ کی شہادت پیش نہیں کی اور نہ ہی اس کیس میں معاشرتی اہمیت کو اجاگر کیا، مگر ٹرائل کورٹ نے شہادتوں اور ثبوتوں کی بنیاد پر ملزم کو مجرم قرار دے کر سزا سنائی تھی۔
ملزم نے لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ میں اپیل کی تو وہاں قانون کے مطابق مدعیہ اور ملزم کی صلح اور گواہان کے منحرف ہونے پر بریت کا فیصلہ سنایا دیا گیا۔ قندیل بلوچ کی والدہ مدعی مقدمہ انور بی بی کے مطابق انہوں نے اپنے بیٹے کو اللہ واسطے معاف کیا جس پر عدالت نے اپنی بہن کو قتل کرنے والے محمد وسیم کو باعزت بری کرنے کا حکم دیا۔
دوسری جانب ریاست کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ وہ اس کیس میں مدعی بنے گی اور فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔ سوال یہ یے کہ کیا قانونی طور پر یہ فیصلہ چیلنج ہو سکتا ہے؟ لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج ظفر اللہ خان کا کہنا ہے کہ ’شرعی قوانین کے مطابق متاثرہ پارٹی اگر ملزم کو اللہ واسطے معاف کر دے یا دیت وصول۔کر لے تو اسے بری کیا جا سکتا ہے۔
نورمقدم قتل کیس کا فیصلہ محفوظ، 24 فروری کو سنایا جائیگا
مگر پاکستان کے قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی کیس میں ’فساد فی الارض‘ کی شہادت پیش کی جائے تو ملزم کو صلح کی بنیاد پر معاف نہیں کیا جا سکتا بلکہ پھر اس کے خلاف ریاست مدعی بن جاتی ہے۔ ایسا بہت سارے مقدمات میں ہو چکا ہے کہ مدعی نے معاف کیا لیکن ریاست خود مدعی بن گئی۔ انکا کہنا تھا کہ فساد فی الارض کی شہادت کا اطلاق ان کیسوں میں کیا جاتا ہے جہاں خدشہ ہو کہ اس کی وجہ سے معاشرے میں خرابی اور فساد پھیلنے کا اندیشہ ہے۔
ظفر اللہ خان نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کے ایک نوجوان شاہ زیب کے قتل کیس میں مقتول کے لواحقین نے دیت لے کر شاہ رخ جتوئی اور دیگر ملزموں کومعاف کر دیا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لے کر اس کیس میں ملزموں کی سزا برقرار رکھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ یہ صلح کسی دباؤ کے تحت ہوئی ہے، لہٰذا اس کیس میں ملزم کو بری نہیں کیا جا سکتا۔ پراسیکیوشن نے موقف اپنایا تھا کہ یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہو، اگر فریقین میں صلح ہو بھی جائے تو انسداد دہشت گردی کی تحت درج مقدمات میں ریاست مدعی بن جاتی ہے اس لیے بریت ممکن نہیں۔
سابق جج کے بقول اگر اب وزارت قانون اس فیصلے کو چیلنج کرنے چاہے تو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ اس کیس سے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور اس سے جرائم کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے تو سپریم کورٹ پھر اس معاملہ کو دیکھ سکتی ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن ایکٹویسٹ نگہت داد کے مطابق ’ابھی کیس کا تفصیلی فیصلہ آنا ہے، ہم تفصیلی فیصلہ کا جائزہ لے کر وزارت قانون سے رجوع کریں گے اور کوشش کریں گے کہ اس کیس میں ریاست اپنا کردار ادا کرے اور ملزم کو غیرت کے نام پر اپنی بہن کو قتل کرنے کی سزا ضرور ملے۔
قندیل بلوچ کے وکیل صفدر عباس کے بقول قندیل کے والدین کی جانب سے عدالت میں راضی نامہ جمع کروایا گیا جس میں کہا گیا کہ اگر عدالت ملزم محمد وسیم کو بری کر دے تو اس پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ تاہم اس کے بعد وسیم کے وکیل نے ہائیکورٹ ملتان بینچ میں بریت کی اپیل دائر کی تھی جو منظور کر لی گئی۔یڈووکیٹ صفدر عباس نے بتایا کہ قندیل کے والدین چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا اس کیس سے بری ہو جائے، اور کچھ عرصہ پہلے قندیل کے والد کا بھی انتقال ہو گیا تھا جس کی مدعیت میں یہ مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مقتولہ کی والدہ انور بی بی کو مدعی بنایا گیا تھا۔
نگہت داد کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے خواتین کو مایوسی ہوئی ہے کیونکہ مرکزی ملزم محمد وسیم نے غیرت کے نام پر قندیل بلوچ کو قتل کیا تھا جو خواتین سے ان کی مرضی کے مطابق جینے کا حق چھیننے کے مترادف ہے۔ تاہم وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ملزم محمد وسیم کی بریت سے متعلق خبر کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کیا کہ ’ہمیں بحیثیت قوم ایسے نظام پر شرمندہ ہونا چاہیے۔‘
