اسٹیبلشمنٹ کے عشق کا بخار!

تحریر:انصار عباسی، بشکریہ :روزنامہ جنگ

اسٹیبلشمنٹ کا عمران خان سے عشق کا بخار اگراتر گیا ہو تو یہ بہترین وقت ہے کہ خود احتسابی کی جائے۔ جو خواب تبدیلی کے نام پر سجائے گئے تھے اور جو امیدیں عمران خان سے وابستہ کی گئی تھیں وہ نہ صرف چکنا چور ہو گئیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ پر ہی الٹی پڑ گئیں اور الٹی بھی ایسی پڑیں کہ جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ تو اُس سحر کا شکار تھے جو کئی سال پہلے سے بڑی محنت سے بنا جا رہا تھا۔ مبینہ طور پر یہ کام آئی ایس آئی میں جنرل شجاع پاشا کے دور میں شروع ہوا، اس کو جنرل ظہیر لاسلام کے زمانہ میں تقویت ملی اور دھرنے کا ڈرامہ رچایا گیا، جو کسر رہ گئی تھی وہ جنرل باجوہ کے ابتدائی چند برسوں میں پوری کی گئی۔

میاں نواز شریف کو وزارت عظمی سے نکالا گیا جس میں چند ججوں کا بڑا اہم کردار تھا، وٹس ایپ جے آئی ٹی بنائی گئی، 2018 کے الیکشن کو پولیٹیکل انجینئرنگ کے ذریعے ایسے مینج کیا گیا کہ عمران خان الیکشن جیت گئے۔ کیسے بلوچستان کی صوبائی حکومت گرائی گئی، پارلیمنٹ کے اندر ہونے والے الیکشن میں جیتنے والوں کو ہرایا اور ہارنے والوں کو جتوایا گیا۔ سب کچھ کھل کھلا کر کیا گیا۔

خان کے عشق میں مبتلا اسٹیبلشمنٹ نے اپنے اُس وقت کے پیارے اینکرز اور یوٹیوبرز کے ذریعے ایک بیانیہ پر کام کیا کہ پاکستان کے لئے صرف اور صرف عمران خان ،باقی سب چور ڈاکو۔میڈیا مینجمنٹ کی گئی، اپنی مرضی کے سچ کو بیان کیا گیا اور جو پسند نہ تھا اُسے دبایا گیا۔

 عمران خان کو الیکشن جتوایا گیا، اُنہوں نے حکومت بنا لی، پنجاب میں عثمان بزدار اور خیبر پختون خوا میں محمود خان کی شکل میں بزدار پلس کو وزرائے اعلیٰ بنا دیا گیا۔ جوں جوں عمران خان کی حکومت آگے بڑھتی گئی توں توں اسٹیبلشمنٹ کے عشق کا بخار اترتا گیا۔ عمران خان نے جو وعدے کئے وہ وزیراعظم آفس میں داخل ہوتے ہی بھول گئے۔

 بہترین طرز حکمرانی کے خواب، پولیس اور سول سروس کو غیر سیاسی کرنے کا عہد اور نعرے سب کے سب دھرے کے دھرے رہ گئے۔ اس دوران اسٹیبلشمنٹ نے ہر ممکن کوشش کی کہ بہتری لانے میں عمران خان کی مدد کی جائے، حکومت کے بہت سے کام خود اپنے ذمہ لے لئے، معاشی استحکام کے لئے جنرل باجوہ خود ایک دوست ملک سے دوسرے دوست ملک جاتے رہے لیکن عمران خان کا بحیثیت وزیراعظم رویہ حیران کن تھا۔ ان برسوں میں اسٹیبلشمنٹ یہ شکایت کرتی رہی کہ عمران خان کسی کی سنتے نہیں، ضدی ہیں اور اپنی ساری انرجی ’چور ڈاکو، چور ڈاکو‘ میں خرچ کر رہے ہیں۔

 اب اسٹیبلشمنٹ کا عشق مجبوری میں بدل گیا لیکن جب عمران خان نے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی میں جھگڑا کیا تو پھر رستے جدا ہو گئے۔ مجبوری میں کچھ عرصہ ساتھ چلتے رہے،تاہم جب عمران خان کی حکومت چلی گئی تو خان نے اسی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ وہ کچھ کیا کہ مثال ملنا مشکل ہے ۔ وہ یوٹیوبرز، اینکرز اور صحافی جو اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر عمران خان کے’’ تبدیلی ‘‘کے خواب میں عوام کو مسحور کرتے رہے، تحریک انصاف کی حکومت جانے کے بعد اُسی اسٹیبلشمنٹ کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے۔

 وہ یہ کہتے رہے کہ ہمیں پہلے دستاویزات دکھا دکھا کر یقین دلوایا گیا کہ نواز، شہباز سب چور ہیں، ڈاکو ہیں لیکن اب اُنہی ڈاکووں کو ملک پر پھرسے مسلط کردیا۔ جو کچھ گزشتہ آٹھ نو مہینوں کے دوران اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہوا اُس نے پاکستان کی فوج کے امیج کو بہت متاثر کیا۔ اب ملک کی اسٹیبلشمنٹ میں بڑی تبدیلی آ چکی ہے۔

 امید کی جا سکتی ہے کہ عمران خان پروجیکٹ سے ہماری اسٹیبلشمنٹ نے ضرور سبق سیکھا ہو گا۔ماضی کی غلطیاں اب نہیں دہرائی جائیں گی۔ہمارا کوئی حال نہیں، دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم ایسی لڑائیوں اور بحثوں میں پھنسے ہوئے ہیں جو ہمیں روز بروز تباہی کی طرف لے جا رہی ہیں۔ ہماری معیشت انتہائی خستہ حال ہے ، ہمارا طرز حکمرانی نہایت خراب، نہ انصاف کی فراہمی نہ کوئی میرٹ۔

کاش ہم نے قوم کے لئے ایک کے بعد ایک ـ’’ہیرو‘‘ تراشنے کی بجائے اداروں کو مضبوط بنانے کے لئے کام کیا ہوتا، اپنے سسٹمز ٹھیک کئے ہوتے، قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا ہوتا، پولیس اور سول سروس کو غیر سیاسی کیا ہوتا، ججوں کی تعیناتی کا نظام بہتر بنایا ہوتا تو آج بحیثیت قوم ہم کہیں اور کھڑے ہوتے۔ بہت وقت ضائع کر دیا۔ اب توسب کو ہوش کے ناخن لینےچاہئیں ،اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

Related Articles

Back to top button