برصغیر میں معیشت کے حالیہ 50برس

تحریر:مظہر عباس، بشکریہ :روزنامہ جنگ

(گزشتہ سے پیوستہ)

اردو پڑھنے والوں میں کوئی کم نصیب ہو گا جس نے مشتاق احمد یوسفی کی تصنیف ’آب گم‘ نہ پڑھ رکھی ہو۔ بہتیرے ایسے ہیں جنہیں یہ ’ماورائے صنف‘ کتاب حفظ ہے۔ کہنے کو اردو مزاح کے درجات بلند کئے ہیں، حقیقت میں ایک تہذیب کے داغوں کی بہار مصور کی ہے۔ مزاح اپنے اعلیٰ ترین درجے پر لفظی الٹ پھیر، منظر کے مضحک اور کردار کی ہیئت کذائی سے قہقہہ برآمد کرنے کا نام نہیں، بلکہ صورت حال کے کڑھے ہوئے شعور کی مدد سے فرد کے داخلی درد اور معروض کی لایعنیت پر سنجیدہ تبصرے سے ترتیب پاتا ہے۔ ’دھیرج گنج کا پہلا یادگار مشاعرہ‘ اس کتاب کا آخری مضمون ہے۔ آج پاکستان میں دھیرج گنج کا مشاعرہ برپا ہے۔ اس مشاعرے میں مولوی مجن اور حکیم احسان اللہ تسلیم کی نشاندہی کرنا بوجوہ ممکن نہیں، نیز یہ کہ دھیرج گنج کی اس کتھا میں بشارت نامی مظلوم کردار اب ایک نہیں رہا، یہ تعداد 23کروڑ ہو چکی۔ اصل قضیہ ایک فارسی مصرعے میں بیان ہو سکتا تھا مگر لکھنے والے کی بے بال و پری اس کا بھی نصف ہی بیان کر سکتی ہے، ’مارا چہ ازیں قصہ…‘ ہم اسی موضوع کی طرف لوٹتے ہیں، جسے گزشتہ صحبت میں ادھورا چھوڑ دیا تھا۔ پچاس برس میں پاکستان، بنگلادیش اور بھارت کے کلیدی معاشی اشاریے۔

کسی ملک کی معاشی صورتحال بیان کرنے کے لئے جی ڈی پی کی اصطلاح کلیدی مقام رکھتی ہے۔ ہم عصر دنیا کی معاشی تصویر کچھ اس طرح ہے کہ امریکہ کا جی ڈی پی (23 کھرب ڈالر) پہلے نمبر پر ہے، چین 17.73 کھرب ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جاپان (پانچ کھرب ڈالر) تیسرے نمبر پر ہے، چوتھے نمبر پر جرمنی (4.22کھرب ڈالر) ہے اور پانچویں نمبر پر بھارت (3.17 کھرب ڈالر) ہے۔ اب 1972 میں جنوبی ایشیا میں جی ڈی پی پر نظر ڈالتے ہیں۔ پچاس برس پہلے پاکستان کا جی ڈی پی 9.5 ارب ڈالر تھا، بنگلا دیش کا جی ڈی پی 6.25 ارب ڈالر تھا جبکہ بھارت کا جی ڈی پی 71.46 ارب ڈالر تھا۔ آج پاکستان کا جی ڈی پی 346 ارب ڈالر ہے، بنگلا دیش 416 ارب ڈالر پہ ہے اور بھارت 3.17 کھرب ڈالر پر پہنچ چکا ہے۔ آبادی کے حجم سے قطع نظر ترقی کی رفتار جانچنا ہو تو سمجھ لیجئے کہ جی ڈی پی کے لحاظ سے دنیا میں پاکستان 40 ویں اور بنگلادیش 43 ویں درجے پر ہیں۔

کسی ملک کی ترقی جانچنے کے لئے درآمدات اور برآمدات میں تناسب یعنی تجارتی توازن دیکھا جاتا ہے۔ درآمدات سے زیادہ برآمدات کرنے والا ملک خود کفیل شمار ہوتا ہے۔ درآمدات کا حجم پیداواری سرگرمیوں اور لوگوں کی قوت خرید سے بھی تعلق رکھتا ہے چنانچہ کسی ملک کی برآمدات کا حجم زیادہ اہم ہوتا ہے۔ 1972 میں پاکستان کی برآمدات 0.68 ارب ڈالر تھیں یعنی ایک ارب سے بہت کم۔ پچاس برس بعد ہماری برآمدات 34.5 ارب ڈالر ہیں۔ 1972 میں بنگلا دیش کی برآمدات 0.36 ارب تھیں، گویا پاکستان سے نصف۔ اب بنگلا دیش کی برآمدات کا حجم 44.3 ارب ڈالر ہے۔ 1972 میں بھارت کی برآمدات 3 ارب ڈالر تھیں جو آج 670 ارب ڈالر کا ہندسہ عبور کر چکی ہیں۔ واضح رہے کہ بنگلا دیش کی برآمدات کل درآمدات کا 70 فیصد اور بھارت کی برآمدات کل درآمدات کا 60 فیصد ہیں جبکہ پاکستان کی برآمدات کل درآمدات کے پچاس فیصد سے کم ہیں۔

غربت کا جائزہ لینے سے پہلے عرض ہے کہ 1970 میں روزانہ ایک ڈالر سے کم کمانے والوں کو عالمی سطح پر غربت کی لکیر سے نیچے گنا جاتا تھا۔ اکیسویں صدی کے آغاز پر عالمی ترقی کے پیش نظر غربت کا معیار 1.9 ڈالر مقرر کیا گیا اور آج روزانہ ساڑھے پانچ ڈالر سے کم کمانے والے افراد غربت کی لکیر سے نیچے گنے جاتے ہیں۔ غربت کے معیار میں اس تبدیلی کے باعث 1972 کے اعداد و شمار اب بے معنی ہیں۔ ساڑھے پانچ ڈالر فی کس روزانہ آمدنی کے اعتبار سے پاکستان میں غریبوں کی شرح 77.6 فیصد اور بنگلا دیش میں 84 فیصد آبادی غربت کی عالمی سطح سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے جبکہ بھارت میں غربت کی شرح 60.5 ہے۔ بھارت کی یہ کارکردگی پاکستان اور بنگلا دیش کے مقابلے میں غیرمعمولی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع کی مدد سے متوسط طبقے کا پھیلائو ہے۔ ہائوسنگ سوسائٹیوں کا اتوا ربازار لگانے والی معیشت غریب اور امیر کی خلیج ختم نہیں کر سکتی۔ اب فی کس آمدنی کا اشاریہ بھی دیکھ لیجئے۔ فی کس آمدنی کو جانچنے کے دو پیمانے ہیں۔ایک تو یہ کہ مختلف ممالک میں کرنسی کی شرح تبادلہ کے اعتبار سے فی کس آمدنی کا تعین کیا جائے اور دوسرے یہ کہ ملک میں کل آمدنی کو آبادی پر تقسیم کر دیا جائے۔ اسے معیشت کی اصطلاح میں فی کس آمدنی (Nominal) کہا جاتا ہے۔ کسی ملک کے شہریوں کو فی کس آمدنی کی اسی صورت سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس پیمانے پر 1972 میں پاکستان کی فی کس آمدنی 153 ڈالر تھی جو آج 1658 ڈالر ہے۔ 1972 میں بنگلا دیش کی فی کس آمدنی 95 ڈالر تھی جو اب 2734 ڈالر ہو چکی ہے۔ 1972 میں بھارت میں فی کس آمدنی 123ڈالر تھی جو اب 2466 ڈالر ہو چکی ہے۔ بھارت کی آبادی کے مسائل سے قطع نظر 1972 میں سب سے پیچھے بنگلا دیش اب تینوں ممالک میں آگے نکل گیا ہے۔ صرف ایک اشارہ اور دیکھ لیجئے۔ 1953 میں جنوبی کوریا میں فی کس آمدنی 67 ڈالر تھی۔ تب پاکستان میں فی کس آمدنی 97 ڈالر تھی۔ آج جنوبی کوریا میں فی کس آمدنی 3890 ڈالر تک پہنچ چکی۔ گزارش ہے کہ ہمارے ملک نے معیشت کے ہر اشاریے میں ترقی ضرور کی ہے لیکن کیا یہ ترقی دوسرے ممالک میں ترقی کی رفتار سے کوئی نسبت رکھتی ہے؟ ابن انشا نے کہا تھا۔ کیسے اجڑی بستیوں کو آباد کرو گے؟

Related Articles

Back to top button