دیکھیے 8 فروری کو پرانی فلم کی شرطیہ نئی کاپی

تحریر:وسعت اللہ خان، بشکریہ : وی نیوز

الیکشن ہوں گے کہ نہیں ہوں گے؟

سینے پر ہاتھ رکھ کے سپریم کورٹ کو یقین دلانے کے باوجود بھی محلے کے تھڑوں، نائی کی دکان اور ٹی وی چینلز کی گفتگوئی سرکس تک ہر جگہ یہی سوال پھیلایا جا رہا ہے کہ 8 فروری کو ووٹ پڑیں گے یا نہیں؟

اس ملک میں کچھ بھی ناممکنات میں سے نہیں۔ حتیٰ کہ 7 فروری کی شام تک بھی وسوسے سایہ فگن رہیں گے۔ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے۔

الیکشن آخر کیوں نہیں ہوں گے؟ ضرور ہوں گے۔ آخر شمالی کوریا، روس، ازبکستان، ترکمانستان سمیت وسطی ایشیائی ریاستوں، ایران، مصر، سوڈان، میانمار اور بنگلہ دیش میں بھی  الیکشن ہوتے ہیں۔ سو ہمارے ہاں بھی ہو جائیں گے۔ سنہ 1970 سے آج تک آخر ہوتے ہی آئے ہیں۔ بلکہ 5 برس کی آئینی مدت میں دو دو بار بھی کئی بار ہوئے ہیں۔

ان 53 برسوں میں جمہوریت بھی الیکشن سے ہی شروع ہو کر نئے الیکشن پر ختم ہوتی ہے۔ بار بار انتخابی مشق کے نتیجے میں جمہوری رویے تعمیر ہوں نہ ہوں۔ جمہوری ادارے طاقت ور ہوں نہ ہوں یا پہلے کے مقابلے میں اور کمزور ہو جائیں مگر الیکشن ضرور ہوتے رہتے ہیں۔ سو 8 فروری کو بھی ایک دن کی جمہوریت دیکھنے کو مل جائے گی۔

بالکل ایسے ہی جیسے بڑے بزرگ رشتے جوڑتے ہیں، کون سی رسومات حلال یا حرام ہیں طے کرتے ہیں، کتنے مہمان آئیں گے، کتنا پلاؤ زردہ قورمہ بنے گا۔ کتنا حق مہر موجل و غیر موجل ہوگا۔ مبارک سلامت۔ اور پھر تنبو کھل جاتا ہے۔  کھانے سے بھری قابوں پر سے ڈھکن اٹھا دیے جاتے ہیں۔ ہمسائیوں یا گاؤں والوں کو ویسے ہی نیوتے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ خود کو ازخود مہمان تصور کر لیتے ہیں۔

بالکل ایسے ہی 8 فروری کو بھی تمام تر انتظامات ہونے کے بعد روٹی کھلے گی اور ووٹر ازخود اس شادی میں مدعو ہو کر بیلٹ بکس کو سلامی دے کر گھروں کو سدھاریں گے۔ بس اتنی سی ہے ہماری جمہوریت۔ اس سے آگے آر ٹی ایس کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ چل گیا تو بسم اللہ۔ نہ چلا تو بھی بسم اللہ۔

اس بار آر ٹی ایس کا نام آر ایم ایس رکھا ہے الیکشن کمیشن نے۔ اس سے انتخابی مسئلے اتنے ہی حل ہوں گے جیسے احتساب بیورو کا نام نیب اور پاکستان کرکٹ ٹیم کا نام ٹیم پاکستان  اور کرشن نگر کا نام اسلام پورہ رکھنے سے اور خدا حافظ کی جگہ اللہ حافظ کی رائجگی سے حل ہو گئے۔

ایک دور تھا کہ پنڈتوں کے تمام تر تجزیے الیکشن کے ممکنہ نتائج کے مدار میں گھومتے تھے۔ مگر سنہ 1988 کے بعد بالعموم اور سنہ 2018 کے تجربے نے بالخصوص بتایا کہ پولنگ ڈے محض ایک آئینی رسم ہے تاکہ عام آدمی کی دل پشوری ہو جائے اور اس کا یہ فریب نہ ٹوٹے کہ وہ بھی ملکی معاملات اور حکومت سازی میں دخیل ہے۔

3 عشرے پہلے تک  ہم  ووٹر لوگ جھرلو، بیلٹ بکس اٹھا کر بھاگنے، جعلی ووٹ بھگتانے، پولنگ اسٹیشن پر ڈنڈوں سوٹوں کی لڑائی، انتخابی عملے کی پٹائی، ہوائی فائرنگ، بھنگڑے، منشور وغیرہ وغیرہ سے  واقف تھے۔

کوئی نہیں جانتا تھا کہ الیکٹ ایبل کس پرندے کا نام ہے، پری پول رگنگ کیا بلا ہے، پولٹیکل انجینیئرنگ کہاں پڑھائی جاتی ہے،  میچ فکسنگ کسے کہتے ہیں، محکمہ زراعت اپنا اصل کام چھوڑ کے اور کیا کیا کرتا ہے، فرشتوں کو کون کون سے اضافی کام تفویض ہوتے رہتے ہیں۔ خلائی مخلوق اور جن بھوت میں کیا بنیادی فرق ہے۔

کچھ امیدوار کندھوں پر سوار ہو کے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے بعد  اپنے مخالف کو خاک چٹانے کی بڑھک مارتے مارتے اچانک کیوں دستبردار ہو جاتے ہیں یا  پرفضا شمالی علاقہ جات میں سہہ روزہ، 10 روزہ یا 40 روزہ چلے پر کیوں چلے جاتے ہیں۔

شام کو ڈکلیئر ہونے والا فاتح اگلی صبح کیسے مفتوح قرار پاتا ہے۔ آزاد امیدوار کس قدر آزاد ہوتے ہیں۔ منتخب ہونے کے بعد ان کے گلے میں کسی ایک جماعت کا پٹو گروپ فوٹو سمیت کیسے پڑ جاتا ہے۔ خود کو راضی با رضا ظاہر کر کے  پٹو نہ پڑوائے تو اس کے گلے میں گھنٹی والا پٹا  کیسے باندھا جاتا ہے۔

یہ سب کچھ اتنی سرعت اور صفائی ستھرائی سے  کیسے ہو جاتا ہے۔ کوئی دھونس، دھمکی، ترغیب، دھاندلی کا چھینٹا کپڑوں پر نہیں نظر آتا۔ سب کہتے ہیں ہم نے عظیم تر قومی مفاد میں اپنی مرضی سے فیصلہ کیا ہے۔ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔

الیکشن ضرور ہوں گے، برابر ہوں گے اور ہوتے چلے جائیں گے۔ بس ایک تبدیلی آئے گی۔ پی ٹی آئی کی جگہ کوئی اور ملک گیر جماعت نئے آئٹم سانگ کی مرکزی ہیروئن ہو گی۔ آس پاس اور آگے پیچھے وہی ایکسٹراز ہوں گے جو ہر فلم میں ہر ہیرو یا ہیروئن کو ٹھیکیدار فراہم کرتا ہے۔ فلم ہٹ ہو نہ ہو ایکسٹراز کی روزی روٹی چلتی رہتی ہے۔

فلم سے جو بھی آمدنی ہوتی ہے۔ فلمساز، ڈائریکٹر، مرکزی کاسٹ اور ڈسٹری بیوٹر میں  طے شدہ تناسب اور انڈر اسٹینڈنگ کے ساتھ تقسیم ہو جاتی ہے۔ رہے ایکسٹراز تو انہیں تھوڑا بہت بونس مل جاتا ہے اور تماشائیوں کا منورنجن بھی ہو جاتا ہے۔

8 فروری کو جو فلم نمائش کے لیے پیش ہو گی۔ وہ کتنا بزنس کرے گی اور کے ہفتے چلے گی۔ یہ تو بس فلم اٹھانے والا ڈسٹری بیوٹر ہی جانتا ہے۔ فلم کی کاسٹنگ کو کمرشل ترازو میں تولنے اور ایک ساتھ  کئی فلموں کی چاروں سرکٹس میں تقسیم کاری حقوق لینے کے ماہر ڈسٹری بیوٹر کو گھاٹے کا سودا  کرتے کم ہی دیکھا گیا ہے۔

Related Articles

Back to top button