’سازش‘ کے بیانیے کے مقابلے میں حکومت کا ’بےدم‘ بیانیہ

تحریر:عاصمہ شیرازی، بشکریہ : بی بی سی اردو

بس میں سوار ہونے والے شخص کے ہاتھ میں ایک گٹھڑی اور دوسرے ہاتھ میں چند شیشیاں تھیں۔ مسافر نے سوار ہوتے ہی یہاں وہاں دیکھا اور اپنے مطلب کے چند چہرے دیکھ کر مطمئن ہو گیا۔ ان چہروں میں ہچکلولے کھاتی بس میں چکراتے سر کو تھامتے کچھ نوجوان، بچے پیدا کر کر کے کئی طرح کی بیماریوں کا شکار چند خواتین اور باہر نکلی توند والے بعض حضرات شامل تھے جو مال بکنے کی ضمانت تھے۔
بھائی جان، قدردان، مہربان، بہنوں، بھائیوں! مترو اور بیلیو۔۔ آپ کے معدے میں تبخیر ہے یا ہوا، ہاضمے کا مسئلہ ہے یا پیٹ درد، خانہ خراب ہے یا قسمت۔ رشتوں کی بندش ہے یا نالائق اولاد، محبوب بے وفا ہے یا رشتے داروں کا جادو ٹونہ۔۔۔ یہ پھکی نہ صرف کارآمد ہے بلکہ آپ کے سارے مسائل کا حل بھی۔ ایک ہی سانس میں بس میں بیٹھے کئی لوگ متوجہ ہوئے، جن کے پیٹ میں ہوا تھی یا جن کے ڈکار بند تھے، جن کے معدے میں تبخیر تھی یا درد۔۔۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اشخاص بھی متوجہ ہوئے جن کے رشتوں کی بندش تھی یا جن کو اس بات کا خدشہ تھا کہ اُن کے رشتہ دار اُن پر جادو ٹونہ کر رہے ہیں۔
پھکی یا چورن بیچنے والے سے کسی نے نہ پوچھا کہ بیچ آپ پھکی رہے ہیں اور علاج جادو ٹونے کا بھی کر رہے ہیں۔ مسائل میں گھری عوام نے اُس اعتماد پر یقین کر لیا جو جھوٹ ہی سہی مگر اُن کے مسائل کو دو چُٹکیوں میں حل کر رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ اصل مسائل کو فریب کے پہناوے میں چھپا بھی رہا تھا۔ پاکستانی سیاست میں بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ 27 مارچ سے اب تک قوم ایک سازشی خط کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اب تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی ہر بات کا الزام امریکی سازش پر دھر رہے ہیں۔ آلو پیاز کی قیمتوں سے لے کر نالہ لئی کے نا بن سکنے تک کا ہر الزام بیرونی سازش پر دھرا جا رہا ہے۔
جو چورن اُن کے ہاتھ لگا ہے اُن کے چاہنے والے اُس پر بھر پور یقین کر رہے ہیں۔۔۔ وجہ عمران خان صاحب کا وہ اعتماد ہے جس کو فُل نمبر ملنے چاہئیں۔ یہ چورن کب تک بکے گا کوئی نہیں جانتا۔ یہ کیوں بک رہا ہے، یہ سب جانتے ہیں، ریاست اور حکومت کسی ان دیکھے خدشے اور خوف کا شکار ہیں اور طاقت کے استعمال سے گریزاں بھی۔ بہر حال اب ‘بیانیہ’ بن چکا ہے اور خان صاحب کی طاقت کا مرکز سوشل میڈیا اُس کی ترویج میں شب و روز مصروف ہے۔ وہ جو کبھی گیٹ نمبر چار سے اٹھتے نہ تھے اب آنکھیں دکھا رہے ہیں اور میڈیائی جادوگر جو قومی اداروں کے بل بوتے اپنی جگہ بنا رہے تھے اب اداروں کے صحن میں لُڈیاں ڈال رہے ہیں اور مقتدر حلقے ششدر۔۔۔
یہ نُکتہ اپنی جگہ اہم ہے کہ بیانیے میں جان ہے یا نہیں لیکن نئی حکومت کے لائحہ عمل میں فی الحال کوئی دم نظر نہیں آ رہا۔ معاشی محاذ سے لے کر سیاسی محاذ تک شہباز شریف صاحب کی حکومت کے پاس یا تو بیانیے کا کوئی توڑ سر دست موجود نہیں یا پھر عمران خان کے تھکنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب عمران خان جس طرح سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہے ہیں اس کا کوئی ثانی نہیں۔ کارکردگی کے محاذ پر شکست کے باوجود جس طرح ایک ان دیکھے مراسلے کا واویلا کیا جا رہا ہے اُسے سیاست کہیں یا جہالت یا عوام کا ایک اور استحصال۔۔۔
دیکھنا یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف کے حامیوں کے علاوہ دیگر جماعتوں کے ووٹر بھی تحریک انصاف کے بیانیے سے متاثر ہو رہے ہیں یا پی ٹی آئی کی کارکردگی سے مایوس لوگ دوبارہ لوٹ کر آ رہے ہیں۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ امریکہ مخالف جذبات کو جس طرح اپنی حمایت میں استعمال کیا جا رہا ہے یہ کس قدر دیر پا ہو گا اور کیا یہ حمایت ووٹ کی طاقت میں بدلی جا سکے گی۔۔۔ یہ سوال بے حد اہم ہے۔
حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کا نظریاتی ووٹ بینک کم نہیں ہے لیکن گزشتہ ایک ماہ میں ان حکومتی جماعتوں نے اپنے کارکنوں کو مخالف بیانیہ نہیں دیا۔ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والی منفی اور بے بنیاد مہم کی روک تھام کے قانونی پہلو بھی نہیں آزمائے گئے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے اسکینڈلز پر بھی تحقیقات کا آغاز نہیں ہوا۔ ایسے میں عمران خان ہر لائحہ عمل میں ایک قدم آگے دکھائی دے رہے ہیں یہاں تک کہ گرفتاری کی صورت میں ملک کو جام کرنے کا فیصلہ بھی کر چُکے ہیں اور اب وہ اپنی سیاسی تحریک کو ‘جہاد’ کا نام دے رہے ہیں۔ سیاست اور پھر مذہب کا تڑکہ وہ خطرناک کارڈ ہے جس کا توڑ صرف ریاست کے پاس ہے۔
معاشی اور سیاسی اعتبار سے پاکستان جس بحران کا شکار ہے وہ نا صرف عدم استحکام بلکہ تصادم کی صورت اختیار کر سکتا ہے جس کی ایک مثال سری لنکا ہے جو معاشی بحران کے بعد اب سیاسی اور ریاستی بحران کی جانب بڑھ چکا ہے۔۔۔ عوام سڑکوں پر ہیں، ادویات اور اشیائے خورد و نوش کی قلت ہو چکی ہے جبکہ حکومت مخالف مظاہروں اور جھڑپوں میں شریک نوجوانوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیائی کارکنوں کی ہے، اس سلسلے میں خان صاحب کو ہلکا لینا قطعی طور پر بے وقوفی ہوگی۔
نئی حکومت کے لئے کئی ایک چیلنجز ہیں جہاں آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ایک طرف اور مہنگائی دوسری طرف جبکہ بحران میں پھنسی سیاسی جماعتیں جن کے نازک کندھوں پر معیشت، سیاست اور خان صاحب کی کارکردگی کا بوجھ بھی آن پڑا ہے۔ حالات اُس نہج پر آ چکے ہیں جہاں خان صاحب نے حالات سدھرنے نہیں دینے اور نہ ہی نظام چلنے دینا ہے۔ ریاست سوشل میڈیا کے ہوے کا شکار ہو گئی ہے جبکہ اُسے خوف سے نکل کر آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہوں گے۔

Related Articles

Back to top button