عوام کمر کس لیں تا کہ ہم ’چس‘ لیں

تحریر:وسعت اللہ خان، بشکریہ : بی بی سی اردو

ہم میں بہت خامیاں سہی پر کچھ اچھائیاں بھی ہیں اور بعضی بعضی تو ایسی ہیں کہ شاید ہی کسی قوم میں دیکھنے کو ملیں ۔مثلاً تعبیر ملے نہ ملے، ادھ کچی یا مکمل ملے، ہم پرواہ نہیں کرتے اور خواب دیکھنا ترک نہیں کرتے۔ اس کام میں دن رات یا سونے جاگنے کی بھی قید نہیں۔مثلاً یہ خواب کہ ہم اقبال کے شاہین ہیں اور شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا۔مثلاً ہم عالمِ اسلام کا قلعہ ہیں اور یہ قلعہ مسلسل اغیار کی سازشوں کے محاصرے میں ہے۔
مثلاً یہ خواب کہ غیروں کی سازشیں ذرا دیر کے لیے بھی تھم جائیں تو ہم دنیا کو دکھا دیں کہ کیا کیا نہیں کر سکتے؟ (یہاں دنیا سے مراد ڈیڑھ ارب اشرف نفوسِ کو چھوڑ کر لگ بھگ باقی سب ہیں) مگر اس خواب میں ایک فنی نقص بھی ہے۔ سازش ہمیشہ اپنے ہی کرتے ہیں۔ یہ کام غیر کے بس کا روگ نہیں۔
اور یہ خواب کہ ہماری مسلسل ثابت قدم کشمیر پالیسی ایک دن رنگ لائے گی، دنیا پہلے کی طرح اس معاملے پر ہمارے اصولی موقف کا بھرپور ساتھ دے گی اور بھارت کو خجالت و پسپائی اور کشمیریوں کو ہماری بدولت آزادی ملے گی اور پھر وہ سب ہمارا حصہ بن کر ہماری طرح ہنسی خوشی رہیں گے اور یہ دیرینہ خواب کہ وہ دن بھی ضرور آئے گا جب کابل میں پاکستان دوست حکومت قائم ہو گی۔
اور یہ خوابیدہ زعم کہ اگر سب بھلا چنگا کشل منگل رہتا تو آج ہم ترقی میں جنوبی کوریا کو بہت پیچھے چھوڑ چکے ہوتے۔ یہ دیکھو اعداد و شمار، جنوبی کوریا کی فی کس آمدنی 1960میں ہماری فی کس آمدنی سے نصف تھی (ویسے سب بھلا چنگا ، کشل منگل ہی رہتا تو جنوبی کوریا بھی کاہے کو ترقی کا کشٹ اٹھاتا) مثلاً یہ خواب کہ سی پیک قسمت پلٹ گیم چینجر ہے (فی الحال تو ہماری قسمت میں منی چینجر ہی ہیں)۔
مثلاً یہ گمان کہ ہماری مسلح افواج کا شمار دنیا کی 10 ٹاپ پروفیشنل افواج میں ہوتا ہے اور ہماری آئی ایس آئی کارکردگی کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بہترین انٹیلی جینس تنظیم ہے (یہ گمان نہیں حقیقت ہے اور بلا شبہ پچھلی سات دہائیوں کا تاریخی ریکارڈ اس کا مسلسل شاہد ہے) باقی گمانوں، خوابوں اور تعبیرات پر پھر بھی بات ہو سکتی ہے البتہ ایک خواب ایسا ہے جس کی تعبیر ہر پاکستانی حکومت نے پچھلی حکومت پر کیچڑ اچھالے بغیر حاصل کرنے تک مکمل ذمہ داری کے ساتھ اسے سنبھال کر رکھا اور من چاہی تعبیر بھی پائی۔
اور وہ تھا ایٹمی پروگرام کا خواب۔ اس کا سہرا ایوب خان سے بھٹو، ضیا الحق، بے نظیر اور نواز شریف تک سب کو جاتا ہے۔ ہم میں ایک اور زبردست خوبی یہ ہے کہ ہماری قیادت اچھے کام کا کریڈٹ لینے میں دیری نہیں کرتی (بھلے یہ اچھا کام سابقہ کرپٹ ملک دشمن سازشی حکومت نے کیا ہو، خود کیا ہو یا مستقبل کی کوئی نااہل حکومت کرے گی)۔ تازہ ترین مثال یہ ہے کہ جب 2015 میں پاکستان چار برس بعد فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلا تو شاید ہی کسی نے اس قدر خوشی و سرشاری کا مظاہرہ کیا یا کریڈٹ لینے کی کوشش کی ہو جتنا اس بار دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ 2014-15 میں معیشت بھی اتنی پتلی نہیں تھی اور کریڈٹ لینے کے لیے سی پیک نیا نیا موجود تھا اور یہ کریڈٹ پیپلز پارٹی کی سابق حکومت اور اس کے بعد آنے والی نواز شریف حکومت نے آدھا آدھا آسانی سے بانٹ لیا۔ اس بار چونکہ معاشی آسمان پر سرمئی بادل کا کوئی ٹکڑا اب تک نظر نہیں آ رہا، لہذا فیٹف کی جانب سے پابندی ڈھیلی کرنے کا اشارہ بھی قطرہِ رحمت سے کم نہیں۔ اسی لیے عمران خان اپنے حماد اظہر کو، شہباز شریف اپنی حنا ربانی کھر کو، پیپلز پارٹی اپنے بلاول بھٹو زرداری کو اور آئی ایس پی آر فیٹف کی شرائط پر عمل درآمد کے نگراں جی ایچ کیو میں تشکیل پانے والے سول ملڑی سیل کو مبارک باد دے رہا ہے۔
ایسے کئی شاہراتی اور آبی منصوبے ہیں جن کا فیتہ کئی حکمرانوں نے یکے بعد دیگرے پہلی بار کاٹا یا منصوبہ شروع تو کسی ایک کے دور میں ہوا اور تکمیل کے بعد سارا کریڈٹ اگلی حکومت نے اچک لیا۔ مگر پاکستان کو بڑی طاقتوں کا دم چھلہ بنانے کا کریڈٹ کسے جاتا ہے؟ بنگالیوں کو من حیث القوم غدار بنانے کا کریڈٹ کسے جاتا ہے؟ چار بڑی جنگوں کو ایک کرکٹ ٹیسٹ کی طرح ڈرا کرنے یا فالو آن کا اعزاز کس کے سر منڈھا جائے، پاکستان کو افغان خانہ جنگی اور پھر نائن الیون کے بعد وار آن ٹیرر میں گھسیٹنے میں تعاون کا سہرا کس کے سر باندھا جائے؟
پاکستانی معیشت کو قرضوں کے بوجھ تلے دباتے دباتے اگلی نسلوں اور ان کے اثاثوں کو گروی رکھنے کا کریڈٹ کون لے گا؟ جبری لاپتگی کا موجد کون ہے؟ پولیٹیکل انجینیئرنگ کا بادشاہ کون ہے؟ بلوچستان کو قومی تجربہ گاہ بنانے کا انعامی دعویدار کون ہے؟ کوئی نہیں، کوئی نہیں۔فیٹف کے کریڈٹ کے برعکس دیگر کاموں اور خدمات کا کریڈٹ لینے کو کوئی تیار نہیں۔
یہ سب کام پچھلی حکومتوں، ان کے اندرونی و بیرونی آقاؤں، گھیرا تنگ کرنے والے خوشامدی ٹولوں، نامعلوم افراد، جنوں بھوتوں بلاؤں، ہندو، صیہونی، کیمونسٹ، لادین، لبرل، فاشسٹ لابی نے کیے ہوں گے۔ ہم تو وہاں تھے ہی نہیں۔ تھے بھی تو ہماری کسی نے سنی نہیں۔ چلیں دفع کریں، جو ہوا سو ہوا، آئندہ کا سوچیں۔ آئندہ کے لیےعوام ایک بار پھر کمر کس لیں تا کہ ہم پہلے سے زیادہ چس لیں۔

Related Articles

Back to top button