مطیع اللہ جان کی اپنے پلاٹون میٹ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کی یاد میں تحریر

تحریر: مطیع اللہ جان، بشکریہ : نیادور

ہیلی کاپٹر حادثہ میں شہید ہونے والے کور کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی سمیت ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پاکستان کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد اور 12 کور کے انجینیئر بریگیڈیئر خالد کی نماز جنازہ راولپنڈی میں ادا کی گئی۔ جنازے میں سیاسی و عسکری قیادت نے بھی شرکت کی۔

حادثے کی پہلی خبر ان کے ہیلی کاپٹر کے لاپتہ ہونے کی صورت میں آئی، اور اس میں سوار افسران کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر آنا شروع ہوئیں، جنرل سرفراز کی تصویر دیکھی اور دیکھتا ہی رہ گیا، وقت تھم سے گیا اور میں 37 سال پیچھے چلا گیا، میری نظروں کے سامنے وہ سرفراز آ گیا جس نے میرے ساتھ ہی جونیئر کیڈٹ بٹالین میں بطور کیڈٹ جوائن کیا۔ پہلے دن ہی سے ہمارا امتحان شروع ہو گیا، جونئیر کیڈٹ کورس 18میں ہماری کمپنی ابدالی تھی، جے سی سرفراز اور میں ایک ہی پلاٹون میں تھے۔ اس وقت ہم سب کی عمر تقریباً سولہ سترہ برس تھی۔ بے یقینی اور تھوڑا سا خوف ہم سب کے چہرے سے عیاں تھا اور اس خوف کو جونئیر کیڈٹ کورس 15 کے ہمارے سارجنٹ اور جے سی 16 کے ہمارے کارپورل سجاد نے چند دنوں میں نکال دیا۔

کچھ عرصے بعد ہم سب مشکلات کے ساتھی بن گئے، تکالیف اور Ragging (رگڑا) کھاتے کئی راتیں اکٹھے باریک بجری والی کچی پکی سڑک پر گھورکھا پوزیشن اور فرنٹ رول کرتے گزری، پلاٹون میں ہم جیسے تو تکلیف کا اظہار بھی کر لیتے تھے مگر جے سی سرفراز ان تمام تکالیف کو کبھی چہرے یا زبان پر نہیں لاتا تھا، حالانکہ ہمارے بہت سے دوست میرے سمیت غصے اور الجھن کا اظہار کرتے رہتے تھے مگر ذہن پر زور ڈالنے کے باوجود بھی سرفراز کو کبھی غصے کی حالت میں تصور نہیں کر پا رہا، یہاں تک کہ جب ہم سینئر ہو گئے تو ایک دن مجھے سرفراز سے کہنا پڑا کہ پلاٹون کے جونئیر کیڈٹوں کو کھینچ کر رکھنا ضروری ہے، بطور جونئیر نئی نئی Bullshitting جو سیکھی تھی ہم نئے جونئیرز پر اس کا استعمال اپنا حق سمجھتے تھے، اس کام کے لیے سرفراز کبھی کبھی میری خدمات حاصل کر لیتا تھا، سرفراز اپنی کاپیوں اور کتابوں کو بڑی محنت سے اپنی کپ بورڈ اور سیچل میں رکھتا تھا، اس کی تحریر اور مضامین کے تیار کیے گئے نوٹس صدقہ جاریہ کی مانند پلاٹون میں استعمال ہوتے تھے۔

ہمارے سینئر ترین جے سی 15 کے سارجنٹ مسرور سے ہم لوگ خوف نہیں کھاتے تھے کیونکہ وہ کبھی کبھی مسکرا بھی لیتے تھے مگر ان کے جونئیر اور ہمارے کارپورل سجاد سے ساری پلاٹون خوف کھاتی تھی، جے سی بی سے پاس آؤٹ ہونے کے بعد پی ایم اے کاکول میں ہماری پلاٹون کے دوست مختلف کمپنیوں میں بکھر گئے مگر پیشہ وارانہ زندگی کے آ آغاز پر ایک ہی چھت تلے مشکلات کا مل کر سامنے کرنے والوں کے چہرے عمر بھر کے لیے ایسے شناسا ہو جاتے ہیں کہ پھر میرے جیسا دیس نکالا کیڈٹ 37 سال بعد بھی ان دوستوں کے چہروں اور ان کی کچھ باتوں کو نہیں بھول پاتا۔میری آخری ملاقات بریگیڈیئر سرفراز سے ہوئی تھی جب 2013ء میں راولپنڈی کے میس میں پی ایم اے لانگ کورس کی ری یونین ہوئی۔

اس موقع پر میری صحافتی “بل شٹ“ تجزیہ کاری و کالم نگاری سے کچھ کورس میٹس نے ناراضگی کا اظہار کیا تو کچھ ریٹائرڈ یا ریٹائر ہونے والوں نے کہا ٹھیک ہے اپنا کام جاری رکھو۔اس کے بعد سنہ 2014 میں میں نے بریگیڈئیر سرفراز کو پی ٹی وی کے داخلی راستے پر اپنے جوانوں کے ہمراہ دیکھا جہاں سے وہ احتجاج کرنے والے ہجوم کو باہر نکال رہا تھا۔ اس کے حوالے سے کچھ مشترکہ دوستوں سے گفتگو ہوتی تو سب ہی اس کی خوش اخلاقی اور محنت کے گن گاتے دکھائی دیتے۔

جنازے میں وقت سے پہلے پہنچ کر ابدالی 18 کے چند دوستوں سے ملاقات ہوئی تو ہر کوئی اس کے اچھے رویے اور خلوص کے واقعات سنانے لگا، بلوچستان میں بطور آئی جی ایف سی مقامی لوگوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر اس کی گفتگو کی ویڈیو پہلے ہی سوشل میڈیا پر وائرل تھی۔ایک کورس میٹ نے بتایا کہ واشنگٹن میں بطور دفاعی اتاشی تعیناتی کے دوران پاکستان سے جانے والے کورس میٹ ہوں یا یونٹ افسران وہ اپنے ہاتھ سے ناشتہ تیار کر کے دیتا۔

یہ سوال میرے ذہن میں بھی ہمیشہ سے رہا کہ سرفراز جیسا انسان اپنے حساس عہدوں کے درست یا غلط تقاضوں کو کن حالات میں کیسے کیسے پورا کرتا ہوگا۔ڈی جی ملٹری ائنٹیلجنس اور بلوچستان میں سربراہ سدرن کمانڈ جیسے عہدے تنازعات اور سنگین الزامات سے کبھی مبرا نہیں رہے اور اس حوالے سے سرفراز کی طبیعت کو جاننے والوں کے ذہنوں میں اٹھنے والوں کے سوالات تشنہ طلب ہی رہیں گے۔

بطور صحافی جو معاشرے میں آئین اور قانون کے مطابق طاقتور کو عوام کے سامنے جوابدہ بنانے کا ذمہ اٹھاتا ہے میرے لیے بھی اپنی رفاقت اور پیشہ وارانہ ذمے داریوں میں توازن رکھنا ایک مشکل کام رہا ہے، سرفراز سمیت بہت سے اپنے کورس میٹوں سے ری یونین تقریبات کے علاوہ ملاقاتیں یا رابطے دونوں اطراف کے لیے مشکل پیدا کر سکتے تھے اس لیے بظاہر ہم سب نے اپنے اپنے فریضے کو ترجیح دی۔ مگر عزت، احترام اور خلوص برقرار رہا۔

دوست وہ ہوتا ہے جو زیادہ وقت ساتھ گذارے یا رابطے میں رہے مگر کورس میٹ یا پلاٹون میٹ کا تعلق اس سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے، وہ جو کئی سال بعد بھی ملے تو دوست کی مانند ملے۔جنازے کے لیے وقت سے پہلے پہنچا تو کورس میٹوں سے ملاقات بھی ایسے ہی ماحول میں ہوئی یوں لگا جیسے سب ابھی ڈرل کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں، تین شھید افسران کا جنازہ اعزازی گارڈ کے ساتھ جنازہ گاہ پہنچا تو کچھ دیر بعد آرمی چیف اور پھر وزیر اعظم شھباز شریف بھی پہنچ گئے۔

فوجی افسران، جوانوں اور شھریوں کا ایک ہجوم تھا جو جنازہ گاہ کو بھر چکا تھا، آرمی چیف نے شہدا کے اہل خانہ کو پہلی صف میں اپنے پاس بلا لیا بلکہ ان کی جگہ بنانے کے لیے اپنی جگہ چھوڑ کر پہلی صف میں کھڑے تمام افراد کے پاس جا کر انہیں دائیں طرف سرکنے کو کہا، ان کے حکم پر کی گئی صف بندی اور صف آرائی کے بعد جنازہ پڑھا دیا گیا۔

وزیراعظم دعا کے بعد واپس روانہ ہو گئے، آرمی نیوی اور ائیر فورس کے افسران کی بڑی تعداد قبر کی طرف روانہ ہو گئی، وہاں بھی آرمی چیف انتہائی متحرک رہے اور ذاتی طور پر قبر کے گرد ہجوم کو پیچھے ہٹنے کا کہتے رہے ان کی چابک دستی نے ایک بار پھر سب کو اپنی متعین جگہ پر رہنے پر مجبور کر دیا۔

باڈی لینگویج سے یہ لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ عمر کے اس حصے میں اپنے سابق وزیراعظم عمران خان سے کم پھرتیلے ہیں، اور عمران خان بھی تو اگلے پانچ سال کے لیے اقتدار پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں، اپنے کورس میٹوں کے گروپ میں آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتا میں ہجوم کی پہلی صف سے پیچھے آ گیا، اسی اثنا میں کسی نے بلند آواز میں نام پکارا مطیع اللہ! مطیع اللہ، میری نظریں آواز کی جانب اٹھی تو اپنے دائیں جانب دیکھا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ہاتھ کے اشارے سے مجھے پاس بلا رہے تھے۔

باوردی ماحول میں میرے قدم مجھ سے پوچھے بغیر جنرل صاحب کی جانب اٹھ گئے، ہاتھ ملانے کے بعد آرمی چیف نے کہا مجھے معلوم ہے کہ سرفراز آپ کے کورس میٹ تھے، میں آپ سے ان کی وفات پر تعزیت کرتا ہوں، میں نے کہا کہ درآصل سرفراز میرے پلٹون میٹ تھے اور آپ کا شکریہ، ساتھ میں شھید کے قریبی رشتہ دار کھڑے تھے جن سے میں نے اپنا تعارف کروایا اور تعزیت کرنے کے بعد “اپنی جگہ پر آ گیا “۔

آخری رسومات کے بعد کورس میٹس کے ساتھ جنرل سرفراز کے بچوں کیپٹن احمد اور ان کے چھوٹے بھائی سے ملاقات ہوئی۔کورس میٹس سے ملاقات اور آخری رسومات کے بعد واپسی پر ایک ہی سوال ذہن میں اٹھتا رہا کہ فرض شخصیت پر کیسے اور کب حاوی ہو جاتا ہے اور یہ بھی کہ آئین شناسی اور فرض شناسی دونوں ایک دوسرے کے لیے کتنے لازم و ملزوم ہیں۔

اللہ تعالی ہمارے شھیدوں کے درجات بلند کرے اور ان کی قربانی کو رائیگاں نہ جانے دے۔ آمین !

Related Articles

Back to top button