ہمارے ڈنڈے والے استاد

تحریر: محمد حنیف، بشکریہ : بی بی سی اردو

اسلام آباد میں نوجوانوں سے سپہ سالار کے خطاب کی جھلکیاں پڑھتے ہوئے میری نسل کے ان لوگوں کو جنھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم گذشتہ صدی میں سرکاری سکولوں میں حاصل کی ہے، انھیں اپنے ہائی سکول کے استاد یاد آئے ہوں گے۔اب بھی کبھی بچہ پوچھتا ہے کہ آپ کے سکول میں کیا ہوتا تھا تو میں بتاتا ہوں کہ پڑھائی اور کُٹائی تو انھیں یقین نہیں آتا۔ بچہ پوچھتا ہے کہ کیا آپ ہوم ورک نہیں کرتے تھے یا کلاس میں شرارتیں کرتے تھے تومیں انھیں بتاتا ہوں کہ ہمارے ان سکولوں میں کبھی کبھی پڑھائی اور کُٹائی کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تھا۔

میں کلاس میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن لے ہی لیتا تھا۔ لیکن جب استاد کے ہاتھ میں سوٹی آتی تھی تو وہ بہانے بھی ڈھونڈ ہی لیتا تھا۔ سکولوں میں استادوں کے ہاتھوں طالب علموں کی کُٹائی نہ صرف عام تھی بلکہ والدین اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتے تھے۔بچے کو سکول میں داخلہ دلاتے ہوئے فخر سے کہتے تھے کہ ماسٹر صاحب یہ ہے ہمارا بچہ۔ اب اس کی ہڈیاں ہماری اور گوشت آپ کا۔ عام تاثر یہی تھا کہ جو استاد بچوں کی پٹائی نہیں کرتا وہ کیا خاک پڑھائے گا۔ میں نے بھی اوائل جوانی میں کراچی کے ایک پرائیوٹ سکول میں چند مہینے پڑھایا اور جب پرنسپل نے بتایا کہ یہاں ڈنڈا سوٹی بالکل منع ہے تو میں نے بےساختہ پوچھ ہی لیا کہ سر پڑھاؤں گا کیسے۔

اب ایک طرف الیکشن کا ماحول ہے۔ جو خوش قسمت امیدوار جیل میں نہیں وہ اپنے حلقے میں واپس اترے ہیں۔ ریڑھیوں پر پکوڑے کھا رہے ہیں، عوام میں گھل مل رہے ہیں، موٹروے اور ایئرپورٹ بنانے کے وعدے کر رہے ہیں لیکن ساتھ ساتھ نگران اور نگرانوں کے نگران نے نوجوانوں کی تعلیمِ نو کی ایک سپر انتخابی مہم شروع کر رکھی ہے۔ پہلے نگران وزیرِاعظم یونیورسٹیوں میں درس دینے پہنچے۔ انھوں نے طلباء کو بلوچستان سمجھانے کی کوشش کی، بلکہ ڈرانے کی کوشش کی کہ وہاں پر سب مارے جائیں گے لیکن وہ اتنے سٹائلش اور کیوٹ ہیں کہ کوئی ان سے ڈرا ہی نہیں۔

پہلے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ انتخاب کے اس ماحول میں نوجوانوں کے دل جیتنے کی کوشش وہ لوگ کیوں کر رہے ہیں جنھوں نے انتخاب میں حصہ ہی نہیں لینا، کسی سیانے نے سمجھایا کہ انھوں نے بھی وہ سروے پڑھ رکھے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ ووٹروں کی ایک کثیر تعداد نوجوان ہے جنھیں سوشل میڈیا اور عمران خان نے مل کر خراب کر دیا ہے۔اب ان میں سے جو اپنے آپ کو لمز ٹائپ یونیورسٹیوں میں پڑھ کر بڑے دانشور بنتے ہیں ان کو ہال میں اکٹھا کرو ان کا دماغ صاف کریں گے۔ نگران وزیرِاعظم نے یورپی فلاسفر بن کر خرگوش کے شکار کی مثالیں دینی شروع کیں تو طلباء کی ہنسی چھوٹ گئی۔ نگران یہ سمجھے کہ یہ طلباء کے ساتھ انگریزی والی بانڈنگ ہوگئی ہے۔

نوجوان ہو سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے بھٹک گئے ہوں لیکن انھیں بھی ڈنڈے والے اور بغیر ڈنڈے والے استاد کا فرق پتا ہے۔تو نگرانوں کے نگران کلاس پڑھانے خود پہنچ گئے۔ غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق ایک کلاس کسی نامعلوم مقام پر لاہور میں ہوئی اور یہ پرائیوٹ یونیورسٹیوں کے لیے ایک اہم سبق ہے کہ اگر آپ سیاست اور جمہوریت جیسے مضامین پڑھاتے ہیں تو آپ بھی لاپتا ہونے کے آداب کے نام سے ایک کورس پڑھانا شروع کر دیں، کافی استاد مل جائیں گے۔لیکن بڑا خطبہ سب سے بڑے نگران نے دارالحکومت میں دیا اور سوشل میڈیا کےبھٹکائے ہوئے نوجوانوں کو تو سمجھ آئی یا نہیں آئی لیکن مجھے گھر بیٹھے گذشتہ صدی کے والدین کی یاد آگئی کہ ہڈیاں ہماری اور گوشت آپ کا۔

پہلا اور بنیادی سبق۔ چاہتے تو تم سب ڈی ایچ اے میں رہنا اور سی ایم ایچ میں علاج کروانا۔ نہیں کر سکتے تو جلنا چھوڑ دو۔ الیکشن لڑنا ہے تو لڑو۔ کھلی چھٹی تو نہیں دے سکتے، تم ملک بھی توڑو گے تو ہم کیا توڑنے دیں گے؟ اور حکومت پا کر پانچ سال پورے کرنے والا خواب بھی چھوڑ دو۔سوشل میڈیا سے جو تم نے مغربی تہذیب والی بد تمیزی سیکھی ہے، اس کو بھول جاؤ۔ استادوں کے استاد وہی ہوتا ہے، جو پہلے ڈنڈا دکھائے اور پھر گلے لگائے۔میرے ہائی سکول کے استاد نے میری ذہانت اور فرمانبراداری کو مان کر مجھے کلاس کا مانیٹر بنا دیا۔ ایک دن ڈنڈا لانا یاد نہیں رہا تو مجھے سکول میں لگے درخت سے سوٹی توڑ کر لانے کا حکم ہوا۔ میں بیٹھتا تو سب سے پہلے بینچ پہ تھا لیکن دوستی ان سے تھی جو بیک بینچر تھے اور مار ان ہی کو پڑنی تھی۔

شیشم کے درخت سے شاخ توڑنا ذرا مشکل ہوتا ہے، میں نے بھی تھوڑی سستی کی اس لیے کہ جب تک سوٹی لے کر پہنچوں گا، آدھا پیریڈ گذر چکا ہوگا۔ استاد آخر استاد ہوتا ہے جب میں سوٹی لے کر پہنچا تو استاد نے مجھے سب کے سامنے لٹا کر پہلی پٹائی میری پشت پر کی۔ اور پوری کلاس کو بتایا کہ یہ دیکھو تمہارا مانیٹر سمجھتا ہے کہ ڈنڈا دیر سے آئے گا تو تمہاری جان بچ جائے گی۔خدا ہمارے الیکشن لڑنے والوں اور ان کے ووٹروں کو سلامت رکھے لیکن بہت امیدوار ہمارے استاد کے اردگرد جمع ہیں۔ ان کے ہاتھ میں ڈنڈا دے کر کہہ رہے ہیں کہ اس کو مارو کیونکہ اس نے سائفر کیا ہے۔ اس نے نو مئی کیا ہے، اس نے پہلے والے استاد کو گالی دی تھی، گالیاں دینا تو ہمارے نوجوانوں کو سکھایا ہی اس نے۔ یہ لو ڈنڈا اور چلاؤ۔

میں ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہوں جنھیں پاکستان کہ ریاست نے مفت اور معیاری تعلیم دی۔ اس کا بنیادی نقطہ یہی تھا کہ جب استاد کو ڈنڈا پیش کرو کسی اور کو مارنے کے لیے تو اپنی پشت بھی یاد رکھو۔

Related Articles

Back to top button