یہ شعیب بن عزیز کون ہے؟

تحریر:عطا الحق قاسمی۔۔۔۔۔۔۔بشکریہ:روزنامہ جنگ
بہت ’’سالوں‘‘ معاف کیجئے برسوں سے شعیب بن عزیز کے بارے میں کچھ لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن ہر بار ناکام رہتا ہوں، پہلے تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ اس کے لئے صیغہ واحد متکلم استعمال کروں یا آپ جناب سے مخاطب کروں، بالآخر میں اس فیصلے پرپہنچ گیا کہ ٹھیک ہے شعیب عمر میں مجھ سے تقریباً تیس سال چھوٹا ہے مگر مرتبے میں تو بڑ ا ہے تاہم خواتین و حضرات کے ذہنوں میں اس کی عمر کے حوالے سے جو گمراہ کن اندازے ہیں ، انہیں رفع دفع کرنے کے لئے برخوردار شعیب سے بات کرنے کامزہ ہی اور ہے اور مجھے یقین ہے کہ خود اسے بھی یہ تخاطب اچھا لگے گا۔ آپ مردوں کو دفع کریں صرف یہ دیکھیں کہ میں شعیب کی تعریف کہاں کہاں کر رہا ہوں۔شعیب کی شاعری کا مداح ہونے کے باوجود اس کا تنقیدی جائزہ لینا میرے بس میں نہیں تھا تاہم یہ ضروری بھی تھا۔ میں نے سوچا انوار احمد، نجیب جمالی، ڈاکٹر ضیاءالحسن، اصغر ندیم سید یا ناصر عباس سے خفیہ درخواست کرتا ہوں کہ شعیب کی شاعری پر ایک ایک تنقیدی پیرا لکھ کر اس کی رجسٹری میرے نام کر دیں اور عنداللّٰہ ماجور ہوں مگر پھر سوچا کہ ا نسان تو انسان ہی ہوتا ہے، بعض دفعہ نہ چاہتے ہوئے بھی منہ سے نکل ہی جاتا ہے کہ چودھری کا دھوتی کرتا اپنا ہے مگر اس نے جو کھیس اوڑھا ہوا ہے وہ میراہے، چنانچہ میں نے اپنا یہ آئیڈیا ڈراپ کر دیا۔میرے ذہن میں ایک خیال یہ بھی آیا کہ میں کیوں نا اپنی گفتگو کا آغاز شعیب کی بذلہ سنجی سے شروع کروں اور بتائوں کہ اس بندے کو اپنے ساتھ رکھنا منیر نیازی کے لفظوں میں اپنے ’’ڈب‘‘ میں بم رکھنے کے مترادف ہے کہ ادھر آپ نے کوئی نو بال کھیلا اور ادھر شعیب نے کیچ کرکے، آپ کی مفروضہ ساکھ خراب کردی۔ ویسے آپس کی بات ہے ایسا موقع کم کم آتا ہے کیونکہ اس کے جملے پر اس کے اور دوسرے حاضرین کے علاوہ سب سے اونچا قہقہہ اس معصوم کا ہوتا ہے جس پر یہ جملہ کسا گیا ہوتا ہے اور اگر اس محفل میں میرے اور شعیب کے محبوب مجیب الرحمٰن شامی بھی موجود ہوں تو اور میرے اور شعیب سمیت سب کے سب ’’پگڑی سنبھال اوئے جٹا‘‘ کا ورد کرنے لگتے ہیں۔بہت سوچنے کے بعد مجھے خیال آیا کہ ہم دونوں کو کروڑوں اربوں لوگ بہت پہنچا ہوا کہتے ہیں۔ کیوں نا یہاں سے اپنی بات شروع کردں، مثلاً میں نے ایک دفعہ شعیب سے کہا کیوں نہ ہم دونوں اپنا مشترکہ دربار قائم کریں، لوگ اس آستانے پر آئیں اور اپنی حق حلال کی کمائی حرام کریں، مگر شعیب نے کہا میں آپ سے متفق نہیں ہوں کیونکہ آپ کی کوئی کرامت ابھی تک میرے سامنے نہیں آئی جبکہ ایک دفعہ جہاز سے اترنے کے بعد میں نے اپنے جوتے ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھے۔ نئے نئے خریدے تھے اور پائوں زخمی کررہے تھے۔ لائونج کی طرف جاتے ہوئےایک فیملی مجھے عقیدت بھری نظروں سے دیکھتی رہی، پھر ان میں سے ایک میرے پاس آیا اور پوچھا کہ قبلہ آپ جوتے کیوں نہیں پہن رہے، میں نے کہا میری کیا مجال کہ میں داتا کی نگری میں جوتے پہن کر پھروں، بس اس کے بعد پھرفون نمبر پوچھا، یہ بھی پوچھا کہ آپ کا آستانہ عالیہ کہاں ہے، میں نے کہا یہ باتیں مجھے خود بتانے کی اجازت نہیں، اجازت ملنے پر ایک دن آپ خود مجھے اپنے گھر میں پائیں گے۔ یہ سن کر میں نے اپنی تجویز واپس لے لی کہ چہ نیست پاک را با عالم پاک۔البتہ ایک تجویز میرے ذہن میں بہت اچھی آئی کہ شعیب کی دل میں اترنے والی شستہ شاعری کہیں اس زندگی کی دین نہیں جو اس نے دوران ملازمت اور ملازمت کے بعد گزاری ہے؟ اس طرز زندگی کا آپ خود ہی اندازہ لگائیں کہ وہ پنجاب کا ڈی جی پی آر تھا بہت سے اختیارات کا مالک اور اخبارات کو سرکاری اشتہارات دینے کا اختیار رکھنے والا مگر اس نے اس اختیار سے ایک حرام کی کوڑی بھی اپنے رزق میں شامل نہیں ہونے دی، حالانکہ جھولیاں بھرنے والے مختلف ادوار میں دوزخ کا یہ سامان بھر بھر کر اپنے بچوں کے لئے لے جاتے رہے، شعیب نے ساری عمر رزق حلال کمایا درمیان میں جب ملازمت تعطل کا شکار ہوئی تو اس نے گھر میں مزید کھانے تیار کرکے ہوم ڈیلیوری سروس شروع کر دی اور آج بھی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا گھر بار چلانے کے لئے اس نوعیت کے کام کرتا رہتا ہے ۔وہ دل کا بھی بہت بڑا ہے اس کا گھر ہم سب کے لئے ہے منصور آفاق شایدسال بھر اس کے گھر میں قیام پذیر رہا ہے اور برادرم آفاق خیالی بھی امریکہ سے جب پاکستان آتے ہیں تو اس کی طرف قیام کرتے ہیں مگر ان اچھی باتوں کی وجہ سے میں نے اپنا یہ آئیڈیا بھی ڈ راپ کر دیا کہ لوگ کرپشن کرپشن کی گردان سننا چاہتے ہیں کسی کی اچھائی نہیں برائی سننے کے خواہاں ہوتے ہیں اس لئے میں نے ایک دفعہ ذہن پر زور دیا !تب ذہن میں یہ بات آئی کہ دل پر پتھر رکھ کر ہی سہی اس کے علم و فضل کے حوالے سے بات شروع کیوں نہ کروں پہلے وہ دوستوں کی محفل میں علم وادب کی گتھیاں سلجھایا کرتا تھا ان دنوں فیس بک پر مختلف موضوعات کے حوالے سے اس کی آرا دیکھنے کو ملتی ہیں جس سے یہ جملہ کہ شعرا تلمیز الرحمن ہوتے ہیں شعیب کا منہ دیکھتا رہ جاتا ہے شعیب تو بہت پڑھنے لکھنے اور ’’سوچنے‘‘والا شخص ہے مگر پھر میں نے سوچا کہ یہ تو میرے جیسے عالم شخص کے سامنے کوئی خاصیت والی بات نہیں ہے میرے قلم اور زبان سے تو ہر وقت پھول جھڑتے ہیں سو یہاں سے بات شروع کرکے اپنے برخوردار کو آسمان پر چڑھانا مجھے مناسب نہیں لگامجھے یہ بھی یاد تھا کہ شعیب دوستوں اور اجنبیوں کے لئے سہولتیں پیدا کرنے والا انسان ہے۔ دوسرے شہروں سے جو ادیب لاہور آتے ہیں وہ ان کے لئے اپنی کار بھیجتا ہے مگر پرابلم یہ ہے کہ یہ بات بھی تعریف کے زمرے میں آتی ہے جو ان دنوں محفل کے آداب کے منافی سمجھی جاتی ہے۔آخر میں ایک شرارت میرے ذہن میں آئی کہ کیوں نا اس کے شعر

اب اداس ہوتے ہو سردیوں کی شاموں میں

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

کے دوسرے مصرعے کے ساتھ وہ سلوک کروں جو میں نے روحی کنجاہی کا ایک مصرعے حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی کے ساتھ کیا تھا کہ اسے کسی بھی اخباری خبر کسی بھی شعر اور کسی بھی مضمون کے آخر میں جڑ دیا جائے تو سارا نفس مضمون جڑ سے اکھڑ جاتا ہے یہی سلوک بھی شعیب کے مصرعے ’’اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں ‘‘ تسلی بخش طور پر کر سکتا تھا مگر ’’جا چھوڑا تجھے حافظ قرآن سمجھ کر ‘‘ والا مصرعہ یاد آ گیا اور یہ بھی کہ ایک تھرڈ کلاس اخبار کے ایڈیٹر کے مسلسل منت ترلے کرنے کے باوجود جب شعیب نے اس کے اخبار کے لئے اشتہار نہیں دیا تو اس نے اگلے دن اسکاا شعر صفحہ اول پر لگایا اور اس پر جلی حروف میں لکھا ۔

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

اور اب شعیب سے معذرت کہ جب اس کی شاعری پر صحیح راستہ دکھانا یاد آیا تو اس کے ساتھ ہی کالم کے لئے ایک ہزار لفظوںسے زیادہ لکھ کر ایڈیٹر کو شرمندہ نہ کریں والی ہدایت کا خیال بھی آ گیا ۔اور آخر ی بات یہ کہ میں نے اپنے خفیہ ذرائع سے شعیب کی بہت سی غزلیں ادھر ادھر سے جمع کر لی تھیں جن کی وہ کسی کو ہوا بھی نہیں لگنے دیتا لیکن اف یہ ایک ہزار لفظ کوئی بات نہیں آپ اس کے چند اشعار سے اس کی شاعری کی نغمہ وخوشبو سے معطر ہوں فی الحال اتنا ہی سہی۔

بکھر جائیگا ان گلیوں میں نیلے کانج کی صورت

یہ زعم آسماں سارا ستارے ٹوٹنے تک ہے

بینر پہ لکھے حرف خوش آمد یہ جو خوش ہے

دیوار پہ لکھی ہوئی تحریر بھی دیکھے

وہ مجھ سے پوچھ رہا ہے سبب اداسی کا

میں روپڑوں گا جو اس وقت مسکرا نہ سکا

اب لئے پھرتا ہوں کشکول گدائی جس میں

کبھی تلوار چلاتا تھا میں اس ہاتھ کےساتھ

ایک ذرہ بھی نہ مل پائے گا میرا مجھ کو

زندگی تو نے کہاں لاکے بکھیرا مجھ کو

چلا جو شہروں کو انساں کسی نے یہ نہ کہا

یہ تیغ وتیر انہی جنگلوں میں رہنے دے

Related Articles

Back to top button