سہیل وڑائچ کہانی!

تحریر: عطاالحق قاسمی ، بشکریہ : روزنامہ جنگ

میرا خیال تھا کہ میں سہیل وڑائچ کو پوری طرح جانتا ہوں مگر ان کی زندگی پر ضیاالحق نقشبندی کی کتاب ’’سہیل وڑائچ کہانی‘‘ پڑھی تو ایک بار پھر یہی لگا کہ میں سہیل وڑائچ کو واقعی بہت اچھی طرح جانتا ہوں ۔اسی طرح میرا خیال تھا کہ ضیاالحق نقشبندی کی شخصیت مجھ سے چھپی ہوئی نہیں ہے کیونکہ ان سے میرے تعلقات اس وقت سے ہیں جب انہوں نے اپنے نام کے ساتھ نیا نیا ’’پیر‘‘ لکھنا شروع کیا تھا مگر کتاب پڑھنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ ’’پیرصاحب‘‘ تو اس دوران بہت سے ’’مقامات‘‘ طے کر چکے ہیں اور ان سے بہتر سوانحی انٹرویو اور کوئی نہیں لے سکتا، مجھے افسوس ہوا کہ میں انہیں اپنا سوانحی انٹرویو متعدد بار وعدہ کے باوجود کیوں نہ دے سکا۔ چلیں یہ بات تو ہوتی رہیں گی اس سے پہلے میں اپنی اس مسرت کا اظہار کر لوں کہ سہیل کا شجرہ جب میرے شجرہ نسب سے ملتا جلتا ہے ہم دونوں کے بزرگ روحانیت کے سلسلے سے وابستہ تھے بلکہ ایک اور مماثلت یہ کہ سہیل کے دادا اور میرے والد پیر صاحب گولڑہ شریف کے ہاتھ پر بیعت تھےاور والد سیال شریف کےمگر ان کے والد نے اپنے اس راج دلارے کا ہاتھ بھی پیر صاحب گولڑہ شریف کے ہاتھوں میں دیا اور کہا کہ تم اپنے دادا کے سلسلے پر چلو!ایک بات اور وہ یہ کہ سہیل کے آئیڈیل ان کے والد تھے اور میرے آئیڈیل بھی میرے والد ہیں۔ابھی تک صحافت سے وابستہ دوستوں میں کوئی سہیل وڑائچ سے زیادہ عجزوانکسار اور ادب آداب میں ان کے برابر نہیں پہنچ سکا ۔خیر یہ بات تو سبھی جانتے ہیں لیکن انہیں اپنے باپ دادا اور چچائوں سے جس قدر محبت بلکہ عشق ہے اس مقام پر پہنچنے کے بعد کم کم ہی لوگ اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ ان کی تعلیم و تربیت کے سبب اس مقام تک پہنچے ہیں بلکہ اکثر یہی سننے میں آتا ہے کہ انہیں یہ مقام صرف اپنی محنت اور کوشش کے ذریعے حاصل ہوا ہے۔سہیل وڑائچ نے اس ضمن میں اپنے والد ،اپنے دادا اور اپنے چچائوں کا باربار ذکر کیا ہے اور یوں یہ کتاب صرف سہیل وڑائچ کی سوانح حیات نہیں رہی بلکہ ان کے بزرگوں کی زندگی کا احاطہ بھی کرتی ہے، کہا جاتا ہے کہ ایک نوجوان اپنے غریب والد کو اپنے دوستوں کےسامنے نہیں آنے دیتا تھا ایک دن صاحب بہادر ڈرائنگ روم میں اپنے دوستوں کےساتھ گپ شپ میں مشغول تھے کہ ان کے والد دھوتی اور قمیض میں کمرے میں داخل ہوئے جس پر ان کا بیوروکریٹ بیٹا شرمندگی سے پانی پانی ہوگیا اس نے فوراً اپنے دوستوں کو بتایا کہ یہ بزرگ میرے والد کے دوست ہیں جس پر وہ بزرگ اپنی توہین برداشت نہ کر سکے اور کہا ’’میں ان کے والد کا نہیں ان کی والدہ کا دوست ہوں‘‘سہیل وڑائچ خوش قسمت ہیں کہ ان کے والد کم حیثیت نہیں تھے اور اگر ہوتے بھی تو ان پر فخر کا اظہار اس طرح کرتے جیسے وہ آج کرتے ہیں ۔سہیل وڑائچ نے اپنی زندگی کے بعض بہت دلچسپ واقعات بھی سنائے ہیں مثلاً یہ کہ وہ جب ساتویں جماعت میں تھے تو انہوں نے اپنے اسکول کے ایک ڈرامے میں لڑکی کا کردار ادا کیا اس ڈرامے کے کافی دن کے بعد تک پورا اسکول مجھے چھیڑتا رہا مگر اس کے نتیجےنے مجھے آئندہ کی ساری تنقید سے بے نیاز کر دیا کہ لوگ تنقید سے زیادہ کیا کرسکتے ہیں۔میں سہیل کی شخصیت ان کے کالم اور ان کے تجزیوں کا بہت بڑا مداح ہوں وہ مجھے بہت عزیز تھے اور اب ان کی سوانح پڑھ کر ان سے محبت میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ شادی کے تیرہ برس کے بعد ان کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی اور انہوں نے اس کا جو نام رکھا شاید ہی کسی اور والد نے اپنے آبائو اجدادسے اتنی محبت کا مظاہرہ کیا ہو انہوں نے بیٹے کا نام رحمت علی بخش رکھا اس لئے کہ ان کے نانا کا نام رحمت تھا اور دادا کا علی بخش اور یوں ان دونوں ناموں کو ملا دیا۔اب مجھے یہ اعتراف کر لینا چاہئے کہ یہ تو میرے علم میں تھا کہ وہ بہت عمدہ انسان اور کالم نگار ہیں مگر بہت سی باتوں کا علم زیر نظر کتاب کے حوالے سے ہوا میں انہیں پہلے دن سے ترقی پسند اور بہت پڑھا لکھا انسان سمجھتا ہوں مگر مجھے اس حوالےسے بہت سی باتوں کا علم نہیں تھا مثلاً یہ کہ وہ بزرگوں کے مزارات پر بھی جاتے ہیں دعائیں بھی مانگتے ہیں ان کے آئیڈیل نبی اکرمؐ ہیں وہ تقدیر پر بھی یقین رکھتے ہیںاور دعائوںپر بھی، مگر وہ سچے ترقی پسند ہیں ۔ایک تقریب میں ان کے والد ماجد نے ’’لڈھی‘‘بھی ڈالی اور سہیل نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سوچ سب کی ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتی ہے مگر کلچر کے سامنے کوئی سوالات اٹھائے بھی تو بات نہیں بنتی کہ کلچر صدیوں میں اپنی شکل بدلتا بھی رہتا ہے اور اس کے بنیادی خدوخال وہی رہتے ہیں۔ سہیل عورتوں کے حقوق، پسے ہوئے طبقوں کی پذیرائی، انصاف پر مبنی نظام معیشت اور ہر قسم کے تعصبات سے مبرا معاشرےکے خواب دیکھتے ہیں مجھے ان کی یہ بات بہت اچھی لگی کہ انہیں اپنے اساتذہ کے نام بھی یاد ہیں اور اس مقام پر پہنچنے کے بعد بھی انکے دل میں ان کا احترام بدرجہ اتم موجود ہے۔ انہوں نے پرائمری اسکو ل، ہائی اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ کے نام بھی اپنے انٹرویو میں لئے ہیں۔ یونیورسٹی کے اساتذہ میں سے پروفیسر اسماعیل بھٹی اور بٹ صاحب مجھےبھی یاد ہیں اور سہیل نے جو کچھ ان کے بارے میں لکھا ہے میرا اپنا تجربہ بھی وہی ہے اس طرح پروفیسر خورشید نقوی، پروفیسر رفیع الدین ہاشمی اور دوسرے بہت سے ناموں سے میری بھی وابستگی رہی ہے ہمارے بعض ترقی پسند دوست اشفاق احمد کے ذکر پر بہت ناک بھوں چڑھاتے ہیں مگر سہیل نے ان کی ’’رجعت پسندی‘‘ میں ان کا ہنر دریافت کیا اور کھل کر ان سے اپنی محبت کا اظہار کیا، اسی طرح اپنے صحافتی سفر کے ہم رکاب دوستوں کو بھی فراموش نہیں کیا۔سہیل وڑائچ بجا طور پر جنرل ضیاالحق کی ملائیت اور فسطائیت کے خلاف رہے ہیں وہ میڈیا کی مکمل آزادی کے قائل ہیں انہوں نے بہت بہادری سے آزادی کی یہ جنگ لڑی اور کہیں ہتھیار نہیں ڈالے۔ہمارے سیاست دانوں کے بارے میں بھی سہیل وڑائچ نے کھل کر اظہار خیال کیا ہے مثلاً نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں سیف الرحمان نے جن چودہ ناپسندیدہ صحافیوں کی فہرست تیار کی اس میں ان کا نام بھی شامل تھا مگر جب میاں صاحب جلاوطن ہوئے تو وہ پہلے صحافی تھے جس نے جدہ جاکر ان کا انٹرویو کیا اور بعدازاں اس انٹرویو کو ’’غدار کون‘‘ کے عنوان سے اپنی کتاب میں شامل کیا ،تاہم بائی دی وے میں بتاتا چلوں کہ اس کتاب کی اشاعت سے پہلے میا ںصاحب نے سہیل وڑائچ سے کہا تھا کہ اشاعت سے پہلے مسودہ عطا الحق قاسمی کو دکھا لینا میں نے وہ مسودہ دیکھا بس صرف دیکھا اور دیکھتا ہی چلا گیا کہ انٹرویو دینے والا اور انٹرویو لینے والا دونوں صاحب کمال تھے اور ہاں ’’سہیل وڑائچ کی کہانی ‘‘ میں نواز شریف کے ذکر اذکار میں سہیل صاحب نے کہا ہے کہ نواز شریف بڑے مخلص انسان ہیں ان کا اکنامک وژن بڑا واضح ہے شاید وہ مطالعے کے عادی نہیں لیکن تجربے سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا ہے مجھے یہ یقین ہو گیا تھا کہ جمہوریت پر ان کا ایمان بہت پختہ ہے لیڈر ہمیشہ بحرانوں سے پیدا ہوتے ہیں نواز شریف صاحب وزیر اعظم بن گئے تھے لیکن لیڈر اس وقت تک نہیں بن پائے جب تک بحرانوں سے نہیں گزرے تھے۔ میں اگر چاہوں تو ضیاالحق نقشبندی کے اس انٹرویو پر ایک پوری کتاب لکھ سکتا ہوں مگر بے شمار اہم باتیں نظرانداز کرکے ان اہم باتوں کا ذکر کیا ہے جو انسان دوستی کے حوالے سے میرے سامنے آئیں اور میرے خیال میں سہیل وڑائچ کے عقیدے کے حوالے سے انہیں جو نام دیا جاسکتا ہے وہ ’’انسان دوست‘‘ کے علاوہ اور کچھ نہیں میں صرف آدھی کتاب پڑھ سکا ہوں آدھی کتاب پر میرا یہ آدھا کالم ہے آخر میں ضیاالحق نقشبندی کے اس ہنر کا اعتراف کہ انہوں نے کرید کرید کر وہ سوالات کئے جن سے سہیل کی پوری شخصیت سامنے آگئی ہے اور سچ پوچھیں تو قدیم اور جدید ثقافت کی قدروں کی مکمل پاسداری کی مثالیں اس کتاب میں نظر آئی ہیں، میرے خیال میں یہ کتاب ہر لائبریری میں ہونا چاہئے یہ ایک سچی کتاب ہے!

Related Articles

Back to top button