جنگل کا قانون

تحریر:حامد میر، بشکریہ : روزنامہ جنگ

تیز بارش کی آواز سے اچانک آنکھ کھل گئی۔ وقت دیکھا تو صبح کے پانچ بج رہے تھے لحاف کے اندر سردی محسوس ہو رہی تھی پہلو بدلا تو سر ایک بھاری بھر کم کتاب سے ٹکرا گیا گزشتہ رات یہ کتاب پڑھتے پڑھتے میں سو گیا تھا ،اس کتاب کے ایک باب میں دل اٹک گیا تھا باب کا عنوان تھا ’’جنگل کا قانون‘‘ الطاف حسن قریشی صاحب نے یہ تحریر اپریل 1970ء میں لکھی تھی اور میں اسے جنوری 2023ء کی ایک سرد رات کو پڑھ رہا تھا یہ تحریر جس کتاب میں شامل ہے اسکا نام ہے ’’مشرقی پاکستان.. . ایک ٹوٹا ہوا تارا‘‘

الطاف حسن قریشی صاحب کی یہ کتاب مشرقی پاکستان کے بارے میں ہے جو نصف صدی قبل بنگلہ دیش بن گیا لیکن مجھے یہ کتاب پڑھتے ہوئے بار بار احساس ہوا کہ نصف صدی قبل کے کئی کردار اپنا نام بدل کر دوبارہ سرگرم ہو چکے ہیں اور کئی واقعات دوبارہ دہرائے جا رہے ہیں۔کتاب کے صفحہ نمبر 1115پر ’’جنگل کا قانون ‘‘ جن الفاظ میں میرے سامنے تھا وہ کچھ یوں ہیں ’’ہمارے مسائل جنگل کی آگ کی طرح پھیلتے جا رہے ہیں جنگل کا قانون آگ میں نہ جلا، منگل بھی جنگل بن گیا ۔جنگل میں چند بھیڑیئے ہیں بھیڑیوں نے خود کو زبردست ڈپلومیٹ بنا لیا ہے ۔یوں آتے ہیں جیسے کوئی مہربان آیا ہو، یوں جاتے ہیں جیسے کوئی غم خوار جا رہا ہو لیکن انکی نظریں ہوس ناکیوں سے پر ہیں ۔اب وہ چیرتے پھاڑتے نہیں سائنٹفک طریقوں سے خون پی جاتے ہیں،افکار کا رس چوس جاتے ہیں، سنا ہے بھیڑیوں کے سردار سے جنگل کے بادشاہ کا سمجھوتہ ہو گیا ہے۔جنگل میں سانپ بھی ہیں، بستیوں میں بھی سانپ ہیں اور بعض آستینوں میں بھی سانپ ہیں۔ سانپ کو مارا بھی نہیں جا سکتا کیونکہ سانپ کو مارنا جنگل کے قانون میں ایک سنگین جرم ہے ۔ہم نے خیالات کے جنگل میں ہوائی قلعے تعمیرکر لئے ہیں اور وہاں سے ہوائیاں اڑا رہے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ ہمارے چہروں پر بھی ہوائیاں اڑ رہی ہیں مگر چہرے کو خوش نظر رکھنے کیلئے ہم نے پلاسٹک کے چہرے حاصل کرلئے ہیں ۔اب پلاسٹک کی زبان سے پلاسٹک کی باتیں ہوا کریںگی اور ہمارے وعدے بھی پلاسٹک کے ہونگے انہی وعدوں کے سہارے ہماری زندگی کو استحکام اور دوام حاصل ہو گا‘‘۔

مذکورہ بالا الفاظ 1970ء کے پاکستان کے بارے میں لکھے گئے تھے جو ابھی دولخت نہیں ہوا تھا لیکن افسوس کہ یہ الفاظ 2023ء کے پاکستان پر بھی صادق آ رہے ہیں اور اس لئے میرا دل ان الفاظ میں اٹک گیا تھا، میں بستر سے اٹھا گرم جیکٹ پہنی اور کتاب اٹھا کر ٹی وی لائونج میں آگیا ۔لائٹ جلا کر میں نے ’’جنگل کا قانون‘‘ دوبارہ پڑھا اگلے باب کا عنوان تھا ’’کل کا بھی خیال رکھئے‘‘ یہ مئی 1970ء کی تحریر تھی الطاف حسن قریشی مسلسل اس بحران کے بارے میں خبردار کر رہے تھے جس نے دسمبر 1971ء میں قائد اعظم ؒکا پاکستان توڑ دیا اور میں سوچ رہا تھا کہ حکمران طبقہ 1970ء میں بھی بے حس تھا اور 2023ء میں بھی وہی بے حسی دکھا رہا ہے پریشان دل کے ساتھ میں نے ٹی وی کو آن کر دیا تو اسکرین پر بریکنگ نیوز چل رہی تھی کہ تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا ہے ۔فواد چودھری کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی شان میں گستاخی کرنے پر گرفتار کیاگیا۔انہیں ہتھکڑی لگا کر لاہور کی کینٹ کچہری میں پیش کیا گیا۔یہ منظر دیکھ کر مجھے عمران خان کا دور حکومت یاد آگیا جب عرفان صدیقی صاحب کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا اور جج صاحبہ نے انہیں سنے بغیر ہی اڈیالہ جیل بھیج دیا ۔

فواد چودھری نے جو الفاظ الیکشن کمیشن کے بارے میں استعمال کئے ان سے زیادہ سخت الفاظ تو عمران خان استعمال کر چکے ہیں ۔عمران خان ایک طرف فوری انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں دوسری طرف الیکشن کمیشن کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انتخابات میں انہیں دو تہائی اکثریت نہ ملی تو وہ انتخابی نتائج تسلیم نہیں کریں گے۔ عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن کی توہین کے معاملے پر کارروائی ابھی چل رہی ہے ۔اس مقدمے میں فواد چودھری اور اسد عمر بھی شریک ملزم ہیں، اس مقدمے میں تینوں کے خلاف کارروائی کی جاتی تو قابل فہم تھی لیکن صرف فواد چودھری کے خلاف کارروائی سے سیاسی انتقام کی بو آتی ہے ۔شہباز شریف کی حکومت سیاسی مخالفین کے خلاف وہی کچھ کر رہی ہے جو عمران خان کی حکومت اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف کرتی تھی ۔سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنیوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔نصف صدی قبل بھی یہی حالات تھے۔ الطاف حسن قریشی صاحب کی پرانی تحریروں میں جہاں پاکستان کیلئے بہت درد نظر آتا ہے وہاں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ 1970ء میں بھی سیاسی اختلاف کو کفرو اسلام کی جنگ بنا دیا گیا تھا۔ایک جگہ پر انہوں نے پاکستان کے دشمنوں کی نشاندہی کی ہے اور انہیں بیرونی طاقتوں کا ایجنٹ قرار دیا ہے ۔آگے چل کر عوامی لیگ، نیپ بھاشانی گروپ، نیپ ولی خان گروپ، پیپلزپارٹی ،جی ایم سید گروپ اور کانگریسی علما کو پاکستان کے دشمن قرار دے دیا گیا۔ جن جماعتوں کو الطاف حسن قریشی پاکستان کا دشمن سمجھتے تھے 1970ء کے انتخابات میں پاکستان کے عوام نے ان جماعتوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ جیت گئی سندھ اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کو اکثریت ملی، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں نیپ اور جے یو آئی کو اکثریت ملی۔1970ء میں ہمارے بزرگ ایک دوسرے کو غدار اور کافر قرار دے رہے تھے اور2023ء میں ہم بھی ایک دوسرے پر غداری کے الزامات لگا رہے ہیں ۔غداری کے الزامات اور سیاسی مخالفین کو جیلوں میں پھینکنے سے نصف صدی قبل پاکستان نے جو نقصان اٹھایا تھا آج اس سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے ۔یہ سبق صرف شہباز شریف کو نہیں عمران خان کو بھی سیکھنا ہے ۔عمران خان نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے پہلے قومی اسمبلی سے استعفے دیئے پھر پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کر دیں۔ حالات و واقعات نے ثابت کیا کہ ان کے دونوں فیصلے غلط تھے اور جب انہوں نے قومی اسمبلی میں واپسی کا ارادہ کیا تو اسپیکر قومی اسمبلی نے ان کے استعفے قبول کرلئے سپیکر نےبھی ہٹ دھرمی دکھائی۔

سیاسی جماعتوں کی قیادت سے گزارش ہے کہ حالات کی نزاکت کا احساس کریں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اورتحریک انصاف کی آپس کی دشمنیوں نے آئین و قانون کو ایک مذاق بنا دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں جنگل کا قانون نافذ ہے جہاں انسانوں پر ظلم جائز ہے اور بھیڑیوں کو چیر پھاڑ کرنے کی کھلی آزادی ہے جنگل کے قانون سے نجات میں ہی پاکستان کی نجات ہے۔

قرآن پاک کی بے حرمتی اسلاموفوبیا ذہنیت کی عکاس ہے

Related Articles

Back to top button