ہر حقیقت کے پیچھے ”اندر“ کی کوئی کہانی نہیں ہوتی

تحریر:نصرت جاوید، بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت

یقین ہونا شروع ہو گیا ہے کہ میری زبان ”کالی“ہے۔ جو برا خیال اس سے ادا ہو جائے بالآخر عمل پیرا ہوا نظر آتا ہے۔ اطمینان اگرچہ یہ سوچتے ہوئے میسر رہا کہ ذہن میں برجستہ طور پر نمودار ہوئے مایوس کن خیالات عموماً ہمارے سیاسی منظر نامے تک ہی محدود رہتے ہیں۔ امید سے مایوسی مگر اب ”دیگر علاقوں“ میں بھی اپنا اثردکھانا شروع ہو گئی ہے۔

میرے دیرینہ قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ کرکٹ سے مجھے ہرگز لگاﺅ نہیں۔ اس کھیل سے بے اعتنائی بسا اوقات چند محفلوں میں مزید تنہائی کا احساس بھی دلاتی ہے۔ کرکٹ کی وجہ سے نامور ہوئی چند شخصیات سے اچانک ملاقات ہو جائے تو ان کے کارناموں کے بارے میں لاعلمی شرمندہ ہونے کو مجبور کر دیتی ہے۔ ہفتے کی شام مگر ایک عجیب واقعہ ہوا۔

ایک مہربان دوست ہیں۔ کرکٹ کی باریکیوں کو یوں جانتے ہیں جیسے کوئی ماہر موسیقار کسی ساز کے ہر تار کے اثر سے آگاہ ہوتا ہے۔ گھر میں اکیلے بیٹھے انہوں نے مجھے کھانے پر مدعو کر لیا۔ ان کے ہاں پہنچ کر اپنی نشست سنبھالنے کے چند ہی لمحوں بعد میں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ پاکستان ورلڈ کپ جیت نہیں پائے گا۔ انگلینڈ کی ٹیم بہت تگڑی نظر آ رہی ہے۔ دوست کو حیرت ہوئی کہ میں گفتگو کا آغاز کرکٹ سے کر رہا ہوں۔ ان کی مہربانی کہ اس ضمن میں میری جہالت کا مذاق نہیں اڑایا۔ میرا خدشہ سنا اور اس موضوع کی جانب مڑ گئے جس کے بارے میں گفتگو کرنا مجھے بہت بھاتا ہے۔ اتوار کے دن میرا خدشہ مگر درست ثابت ہوا۔

اکثر پاکستانیوں کی طرح میری بھی یہ خواہش تھی کہ ورلڈ کپ کا فائنل پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ہو۔اسی خواہش سے مغلوب ہو کر میرے گھر والے بھارت اور انگلینڈ کے مابین ہوا سیمی فائنل بہت چاﺅ سے دیکھ رہے تھے۔مجھے اس گیم کے تقریباً دس اوور دیکھنے کو ملے۔

انہیں دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ انگلینڈ کی ٹیم سوچ سمجھ کر تیار ہوئی حکمت عملی کو یکسوئی سے میدان میں بار آور بنانا چاہ رہی ہے۔ فقط اس مشاہدے کی بنیاد پر اتوار کے دن ہوئے میچ کی بابت بڑھک لگا دی۔”تکا“ لگ گیا۔

محض اتفاق یہ بھی ہوا کہ ہفتے کی شام سونے سے قبل اپنے ٹویٹر اکاﺅنٹ پر سرسری نگاہ ڈالی تو وہاں کسی عالمی چینل کی کلپ لگی تھی۔ مذکورہ کلپ میں ماضی کے چند شہرہ آفاق کرکٹر اتوار کے دن ہونے والے میچ کے امکانات زیر بحث لا رہے ہیں۔ ایک کھلاڑی جس کا نام میں بھول رہا ہوں مسلسل خبردار کرتا رہا کہ انگلینڈ کو محتاط رہنا ہو گا۔ پاکستان کے شاہین آفریدی جیسے باﺅلر انگلینڈ کے بلے بازوں کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔

آئین چیپل نام کے مشہور زمانہ کھلاڑی کی شکل و صورت سے میں واقف تھا۔ وہ انتہائی وثوق سے مگر مصر رہا کہ پاکستان کے باﺅلروں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اپنی رائے پر اصرار کرتے ہوئے اس نے یہ فقرہ بھی ادا کیا کہ پاکستانی اپنی سرشت میں Panicer ہیں۔ یہ اصطلاح اس نے انگریزی کے لفظ Panic سے نکالی تھی۔ ساد ہ لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ اس کی نظر میں ہم بحرانی لمحات میں گھبرا جاتے ہیں۔ معاملات توقع کے مطابق آگے بڑھتے نظر نہ آئیں تو ہمارے اذہان ماﺅف ہو جاتے ہیں۔ ایمانداری کی بات یہ بھی ہے کہ چیپل کی رائے کو میں نے ایک نسل پرست گورے کی متعصبانہ سوچ کا اظہار بھی تصور کیا۔ Panicers کا لفظ مگر دل پر لے گیا۔

اس لفظ کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے روایتی اور سوشل میڈیا پر چھائے ”ذہن سازوں“ کے دو اہم موضوعات پر ادا کردہ خیالات سنے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف اپنے بھائی سے لندن میں طویل مشاورت کے بعد’ ’جپھیوں پپیوں“ کے ساتھ پاکستان کے لئے روانہ ہوتے نظر آئے تھے۔ اس کے بعد اچانک خبر آ گئی کہ شہباز شریف صاحب نے ایئرپورٹ رخصت ہونے کے بجائے لندن میں اپنا قیام بڑھا دیا ہے۔ ”ذرائع“ نے فقط یہ وضاحت دی کہ وزیر اعظم کی طبیعت ناساز ہے۔ وہ بخار کی کیفیت میں ہیں۔ اس کی وجہ سے لندن میں ایک دن مزید قیام کو مجبور ہوئے۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر کا بوجھ

ہم مگر بلھے شاہ کے بیان کردہ ”شک شبے“کے دور میں جی رہے ہیں۔ اپنے یوٹیوب کے ذریعے رونق لگانے والوں کی لہٰذا چاندی ہو گئی۔ ان کی اکثریت یہ ثابت کرنے کو ڈٹ گئی کہ رواں مہینے میں جو اہم ترین تعیناتی ہونا ہے اس کے حوالے سے وزیر اعظم صاحب کو ان کے بڑے بھائی نے جو حکمت عملی اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے شہباز صاحب اسے بروئے کارلانے کو آمادہ نہیں۔ اگر تیار بھی ہیں تو ”قدم بڑھانے“ سے گھبرا رہے ہیں۔

مذکورہ یاوہ گوئی کو مزید تقویت پہنچانے کےلئے ”اندر“ کی کچھ ”چوندی چوندی“ خبروں کا ذکر بھی ہوا۔ وہ ”خبریں“ سنتے ہوئے عملی صحافت سے ریٹائر ہوئے مجھ گوشہ نشین کو اپنی کم مائیگی کا بھرپور احساس ہوا۔ وزیر اعظم کی وطن واپسی میں تاخیر کی جو داستانیں بیان ہوتی رہیں میرے جھکی ذہن کو البتہ ناقابل یقین محسوس ہوتی رہیں۔ سوال اٹھانے کی ہمیں لیکن عادت نہیں رہی۔ روایتی اور سوشل میڈیا پر چھائے ”ذہن سازوں“ سے اپنے دلوں میں موجود خیالات کی”تصدیق“ہی کے طلب گار رہتے ہیں۔ وزیر اعظم نے البتہ لندن میں اپنے قیام کو مزید طول نہیں دیا ہے۔ غالباً یہ کالم لکھتے وقت وہ وزیر اعظم کے اسلام آباد والے دفتر پہنچ چکے ہوں گے۔

شہباز شریف کے لندن میں اپنا قیام ایک دن بڑھانے کے علاوہ سعودی عرب کے شاہزاہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے التوا کی بابت بھی تاویلات کا طوفان اٹھا رہا۔ پیر کی صبح چھپے کالم میں اسے تفصیلی طور پر زیر بحث لا چکا ہوں۔ جو بیان کر چکا ہوں اس میں اضافے کی گنجائش نہیں۔

ہاتھ باندھ کر التجا محض یہ کرنا ہے کہ کبھی کبھار حقائق کو ویسے ہی زیر غور لانے میں کوئی حرج نہیں جیسے وہ نظر آ رہے ہوتے ہیں۔ ہر حقیقت کے پیچھے ”اندر“ کی کوئی کہانی نہیں ہوتی جس کا کھوج لگانے کا ڈھونگ رچاتے ہوئے مجھ ایسے صحافی اپنا سیزن لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے بیان کردہ خیالات پر سوالات اٹھانے کی عادت اپنائیں۔ یہ آپ کو ہیجان سے محفوظ رکھنے میں انتہائی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

Related Articles

Back to top button