جیل میں کپتان سے آٹھ صحافیوں کو گفتگو کا موقع

تحریر:نصرت جاوید۔۔۔۔۔۔۔۔بشکریہ:روزنامہ نوائے وقت
بہت دیر کے بعد فقط آٹھ صحافیوں کو پیر کے روز عمران خان کے ساتھ گفتگو کا موقعہ مل گیا۔ اڈیالہ جیل میں ان کے خلاف سائفر کیس کے حوالے سے جاری کارروائی اس کا سبب ہوئی۔بہت دیر کے بعد نصیب ہوئے اس موقعہ کو مگر میرے نوجوان ساتھیوں نے میری ناقص رائے میں ’’کام کی بات‘‘ نکالنے کے لئے استعمال نہیں کیا۔ سوشل میڈیا پر بنائے اپنے اکائونٹ اور وہاں چلائے پیغامات کے ذریعے بنیادی پیغام فقط یہ دیتے رہے کہ جیل عمران خان کو ’’توڑ ‘‘نہیں پائی ہے۔نظر بظاہر وہ خود کو مشکلات کے بھنور میں پھنسے رہنے کے بجائے مطمئن اور ریلیکس محسوس کررہے ہیں۔ قصہ مختصر جیل ان کے لئے اعصاب شکن تجربہ ثابت نہیں ہوئی۔
عمران خان کے بارے میں اکثر لوگوں کا یہ خیال تھا کہ وہ جیل کی سختیاں برداشت نہیں کر پائیں گے۔میں نے اس دعویٰ سے کبھی اتفاق نہیں کیا۔بچپن ہی سے وہ کسرتی طبیعت والے ہیں۔ایچی سن کالج میں کرکٹ کے علاوہ ہاکی بھی بہت شوق سے کھیلتے رہے۔بعدازاں فاسٹ بائولر ہونے کی ضد باندھ لی تو اس شعبے کے لئے درکار توانائی کے حصول اور اسے برقرار رکھنے کے لئے ماہرین کی نگرانی میں خصوصی ورزشوں کی عادت اپنالی۔ کرکٹ کی لگن میں ہوئی ریاضتوں نے انہیں سخت جان بنادیا۔کئی بار اس کالم میں بیان کرچکا ہوں کہ علم معیشت سے مختص ’’قانون تقلیل افادہ‘‘ قیدی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔غالب کے بتائے مشکلوں کا اپنی کثرت کی وجہ سے ’’آسان‘‘ ہوجانے والا معاملہ۔
میرے چند ساتھیوں کوشاید یہ تقابل برا لگے۔ مریم نواز شریف صاحبہ بھی لیکن ایک قدامت پرست خاندان کی بہت لاڈلی بچی تھیں۔پیار سے انہیں ’’گڑیا‘‘ پکارا جاتا تھا۔2018ء کے انتخاب کے قریب وہ اپنے والد کا ہاتھ تھام کر اپنی والدہ کو بستر مرگ کے حوالے کرنے کے بعد پاکستان لوٹی تھیں۔ جیل ہی میں انہیں اپنی والدہ کے انتقال کی خبر ملی۔ اس کے علاوہ ایک بار اپنے والد سے ملاقات کے دوران ایک اور مقدمے کی وجہ سے گرفتاربھی ہوئیں۔جیل مگر انہیں ’’توڑنے‘‘ میں ناکام رہی تھی۔
عمران خان اور مریم نواز صاحبہ قدآور سیاستدان ہیں۔ انہیں اپنی ساکھ کے تحفظ کیلئے مشکل ترین حالات میں بھی خود کو پْراعتماد دکھانا لازمی ہے۔ ان کے برعکس مفتاح اسماعیل سیاست میں تقریباََ نووارد تھے۔ تعلق ان کا ایسی برادری سے ہے جو فقط کاروبار کے ساتھ مختص تصور ہوتی ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے شاہد خاقان عباسی کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے سے انکار کردیا اور سنگین جرائم کے عادی افراد کیلئے اڈیالہ جیل میں بنائی حوالات میں کئی مہینے ہنستے مسکراتے گزاردئیے۔ عمران خان کے پرستار مگر اپنے کپتان کی ثابت قدمی کو جرات وبہادری کایک وتنہا مظہر تصور کرتے ہیں۔ان کے رہ نما سے اڈیالہ جیل میں ملنے والے صحافیوں نے ان کے دل میں موجود خیالات کی تصدیق فراہم کردی۔سوشل میڈیا پر اس کی وجہ سے رونق بھی لگ گئی۔
سیاسی رہ نما?ں سے ان کے پرستاروں کی اندھی نفرت وعقیدت نے گزشتہ کئی مہینوں سے مجھے حیران کرنا چھوڑ دیا ہے۔اسے نظرانداز کرتے ہوئے پرانی طرز کا مجھ ایسا صحافی محض یہ جاننے پر توجہ مرکوز رکھتا ہے کہ عمران خان جیسے قد آور سیاستدان اپنے لئے کونسے اہداف طے کئے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اپنے لئے طے شدہ اہداف کے حصول کے لئے وہ جو حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہیں وہ بارآور ثابت ہوسکتی ہے یا نہیں۔
مذکورہ بالا تناظر میں عمران خان کو ان دنوں درپیش مسائل کا جائزہ لیں تو میری دانست میں ان کے خلاف سائفر کے حوالے سے قائم ہوا مقدمہ سنگین ترین ہے۔ ریاستی امور سے نآشنا عام پاکستانی اگرچہ اس کی سنگینی کے ادراک کے قابل نہیں۔کئی بار اس کالم میں سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ’’سائفر‘‘ کے ذریعے دنیا کی کسی بھی حکومت کو ملا پیغام نہایت ’’حساس‘‘ اور ’’خفیہ‘‘شمار ہوتا ہے۔اسے عام زبان میں نہیں لکھا جاتا۔اس کا حقیقی متن جاننے کے لئے ایک ’’کلید‘‘ استعمال کرنا ہوتی ہے جسے ریاستیں کسی غیر کے ہاتھ لگنے نہیں دیتیں۔
عمران خان گزشتہ برس کے مارچ سے اصرار کئے چلے جارہے ہیں کہ خود کو دنیا کی واحد سپرطاقت تصور کرتا امریکہ ان کی پاکستان کو ’’خودمختار‘‘ بنانے کی لگن سے مشتعل ہوگیا تھا۔بائیڈن انتظامیہ کے دل میں ان کے خلاف مبینہ طورپر اْبلتے اشتعال کو انہوں نے روس کے یوکرین پر حملہ آور ہونے کے ایک دن قبل ماسکو پہنچ کر مزید بھڑکایا۔اس کے بعد امریکی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ سطحی اہلکار ڈونلڈ لو نے پاکستان کے ان دنوں واشنگٹن میں تعینات سفیر اسد مجید خان سے ملاقات کی اور پیغام دیا کہ عمران خان اپنے آزاد منش رویے سے باز نہ آئے تو امریکہ ان کو اقتدار سے فارغ کردے گا۔ عمران خان کے مذکورہ دعویٰ کوامریکہ سرکاری ترجمانوں کے ذریعے مستقل رد کئے جارہا ہے۔
فی الوقت جو مقدمہ ’’سائفر‘‘ کے حوالے سے سابق وزیر اعظم کے خلاف اڈیالہ جیل میں چلایا جارہا ہے وہ عمران خان کو سرکاری طورپر ’’خفیہ‘‘ دستاویز عوام کے روبرو لانے کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔اس کے علاوہ الزام یہ بھی ہے کہ امریکہ میں تعینات ہمارے سفیر نے ڈونلڈ لو کی گفتگو پر مبنی جو پیغام اسلام آباد بھیجا تھا وہ عمران خان کی سنائی داستان سے ’’مختلف‘‘ ہے۔ڈونلڈ لو اور اسد مجید خان کے مابین گفتگو تلخ تھی مگر اس میں عمران حکومت کا تختہ الٹنے کی دھمکی نہیں دی گئی تھی۔عمران خان نے ’’زیب داستان‘‘ کے لئے ازخود یہ کہانی گھڑی اور یوں پاکستان کے لئے سفارتی محاذ پر سنگین مشکلات کھڑی کردیں۔
قانون کی مبادیات سے نابلد مگر سیاست کا دیرینہ طالب علم ہوتے ہوئے میں دیانتداری سے یہ محسوس کرتا ہوں کہ اپنے دفاع کے لئے عمران خان کو تمام ترتوجہ اس امر پر مرکوز رکھنا چاہیے کہ انہیں امریکہ نے واقعتا اقتدار سے معزول کرنے کی دھمکی بھجوائی تھی۔ اسے ثابت کرنے کے لئے لازمی ہے کہ اسد مجید صاحب کا بھیجا ’’سائفر‘‘ عدالت میں ایک بار پھر اس دن کے لئے استعمال ہوئی ’’کلیدی زبان‘‘یعنی کوڈ کے استعمال کے ذریعے غور سے پڑھا جائے۔ یہ واقعہ مگر ’’کھلی عدالت‘‘میں ہونہیں پائے گا کیونکہ دنیا کی کوئی ریاست نہیں چاہتی کہ اس کے اہلکار حکومت کو حساس معاملات کی بابت آگاہ رکھنے کے لئے جو ’’کوڈ‘‘استعمال کرتے ہیں وہ غیروں کے ہاتھ لگے۔
خان صاحب بخوبی جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے مذکورہ بالا پہلو پر توجہ مرکوز رکھی تو وہ اپنا دفاع نہیں کرپائیں گے۔اسی باعث وہ معاملے کو ’’قانونی‘‘ کے بجائے ’’سیاسی‘‘ بنارہے ہیں۔اس تناظر میں سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کو عدالت میں جرح کے لئے بلوانے کا مطالبہ تو کسی حد تک سمجھ میں آتا ہے۔میرا کوڑھ مغزمگر وہ قانون ڈھونڈنے میں اب تک ناکام رہا ہے جو ہماری عدالتوں کو اس قابل بنائے کہ وہ امریکی وزارت خارجہ کے کسی اہلکار کو گواہی یا جرح کے لئے اپنے روبرو طلب کرسکیں۔ بہرحال محاورے والے ہاتھی کی طرح عمران خان صاحب ’’بڑے‘‘ آدمی ہیں۔مجھ ایسے دوٹکے کے رپورٹر کے

جمہوریت کی آزمائش کے دن

ذہن میں آئے خدشات پر توجہ کیوں دیں۔

Related Articles

Back to top button