سیلاب پر سیاست

تحریر:ماریہ میمن ، بشکریہ: اردو نیوز

وطن عزیز میں ہر بات پر سیاست ہو سکتی ہے اور ہوتی ہے۔ خارجہ پالیسی پر سیاست اور داخلی مسائل پر سیاست، قانون پر سیاست اور عدالت پر سیاست، مذہب سے لے کر معیشت تک پر سیاست، ذاتی سے لے کر کاروباری زندگی تک سیاست۔
ہم سے زیادہ سیاسی طور پر متحرک شاید ہی کوئی اور قوم ہو۔ عام حالت میں سیاست کی یہ کثرت جمہوریت کا حسن ہے۔ آج کل مگر عام حالات نہیں ہیں۔وطن عزیز کا آدھے سے زیادہ حصہ بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہے۔ خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کا بیشتر حصہ زیر آب ہے۔متاثر ہونے والوں میں اکثریت غریب عوام کی ہے جو سیلاب میں اپنا مال و متاع ، گھر بار، مویشی اور پیاروں کو کھو رہے ہیں۔ لاکھوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں اور کھلے آسمان کے نیچے دن گزارنے پر مجبور ہیں۔
بارشیں تھم بھی جائیں گی اور سیلاب اتر بھی جائے گا مگر ان کے مسائل ختم نہیں ہوں گے۔ ایک طرف بیماری ہے اور دوسری طرف بے روز گاری، گھروں کی بحالی اس کے علاوہ۔بچاؤ، امداد اور بحالی کا عمل ہفتوں نہیں مہینوں لے گا۔ کروڑوں نہیں اربوں روپے مختص کرنا ہوں گے۔ یہ سب کسی بھی حکومت اور حکومتی عہدیدار کو مصروف رکھنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ مگر پھر آ جاتی ہے سیاست۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت سیاسی درجہ حرارت عروج پر ہے۔
دونوں اطراف سے ایف آئی آرز بھی درج ہو رہی ہیں اور دھڑا دھڑ پریس کانفرنسوں کا بھی زور ہے۔ اس کے باوجود یہ توقع تھی کہ اس قدرتی آفت میں سیاست کا دخل نہیں ہو گا۔یہ امید البتہ عبث ثابت ہوئی اور اب نظر آ رہا ہے کہ تمام فریقین سیلاب کا بہانہ بنا کر مخالف کو تنقید کا نشانہ بنانے کا کوئی موقع جانے نہیں دے رہے۔ ایک طرف سے جلسوں کو آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے تو دوسری طرف فوٹو سیشن ہدف تنقید ہیں۔ اس سب میں سیلاب متاثرین کے لیے ضروری مرحلے، بچاؤ، امداد اور بحالی کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔

کیا بغاوت پر اکسانے والے شہباز گل کو معافی ملے گی؟

موجودہ سیاسی صورتحال کا المیہ یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ہی کسی نہ کسی شکل میں حکومت میں ہیں۔وفاق میں ن لیگ ہے تو پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف۔ سندھ میں پیپلز پارٹی ہے تو کئی چھوٹی پارٹیاں بشمول ایم کیو ایم اور جے یو آئی ایف بھی اقتدار میں حصے دار ہیں اگر ذمہ داری بنتی ہے تو کوئی بھی حکومت اور سیاسی جماعت اس سے بری الذمہ نہیں۔ اس دوران کسی بھی ایک جماعت کا دوسرے پر الزام لگانا اپنی جگہ ایک افسوسناک صورتحال ہے۔
سیلاب کی صورتحال ایک دو دن میں نہیں پیدا ہوئی۔
ملک میں غیرمعمولی بارشیں کچھ عرصے سے جاری تھیں۔ بارشوں کے بعد سیلاب کے بارے میں اندازہ لگانے میں تاخیر کی ذمہ داری سب حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ اس تاخیر کا مداوا اب فوری اور جامع حکمت عملی کی صورت میں ہونا چاہیے نا کہ الزام تراشی کی صورت میں۔
اگر سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر لوگوں کے مسائل کے حل نہیں ڈھونڈ سکتیں تو ایک دوسرے کو انفرادی طور پر تو کام کرنے دیں۔ یہی وہ وقت ہے جب کچھ عرصہ کے لیے سیاست کو بریک کی ضرورت ہے اور یہی وہ وقت ہے جب ذاتی کے بجائے عوام کے مفاد کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ آج کے حالات عام حالات نہیں۔

Related Articles

Back to top button