سیلاب بہت سوں کا روزگار ہے

تحریر:وسعت اللہ خان، بشکریہ: بی بی سی اردو

ہِز ایکسیلینسی! جو انتظامیہ آپ کے فوٹو سیشن دوروں سے قبل ناکارہ تھی آپ کی آمد کے نتیجے میں کیسے اس کی آئلنگ ہو جائے گی اور کیمرے کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ کی اداکاری کے بعد آپ کا ہیلی کاپٹر اُڑن چھو ہوتے ہی یہی انتظامیہ خودکار طریقے سے آخر کیوں چلتی رہے گی؟ آج کل تو ٹیکنالوجی اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ محل یا بنگلے سے نکلے بغیر ہی آپ مصیبت زدگان کے جھمگٹے میں تصویر بنوا کے اپنا رانجھا راضی کر سکتے ہیں۔کوئی بھی اچھا پروفیشنل ویڈیو گرافر آپ کی فرمائش کے مطابق بیک ڈراپ بدل بدل کے من پسند تصاویر بناتا چلا جائے گا۔
اب تو ایسے سستے سستے ایپ دستیاب ہیں کہ آپ خود ہی اپنی تصویر ان میں ڈال کر حسبِ منشا بصری پس منظر بدل سکتے ہیں۔ حتی کہ سیلابی پانی میں جوتے پہن کے یا ننگے پاؤں شڑاپ شڑاپ کا ایفیکٹ بھی ڈال سکتے ہیں۔ حضور اس ٹیکنالوجیکل ترقی کا فائدہ اٹھائیے تاکہ آپ کو بنفسِ نفیس سیلابی علاقوں کا ڈزاسٹر ٹورزم نہ کرنا پڑے۔ویسے تو آپ جگ جگ جئیں اور کہیں بھی آئیں جائیں۔ پر مسئلے کی نزاکت بھی تو سمجھیں۔
دیکھیے جب آپ کسی متاثرہ علاقے میں ہیلی کاپٹر سے اترتے ہیں تو سارا میڈیا اپنا کام چھوڑ چھاڑ کے آپ کے پیچھے لگ لیتا ہے۔ پورے ضلع کی پولیس کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ مینجمنٹ کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کیسے آپ کے جوتے گیلے ہونے کے بعد اپنے پلو سے لشکا کے پہنا دے۔ اور جن زندگی بیزاروں کے غم میں آپ آسمان سے پنکھے ہلاتے ہوئے اترتے ہیں۔ وہ لوگ کھانا،

سیلاب زدگان سے اظہار یکجہتی ، مریم نواز کل جنوبی پنجاب کا دورہ کرینگی

پانی، خیمہ، خوراک، دوا، تدفین کے لیے سوکھی جگہ اور زچہ کی ستر پوشی کے لیے بروقت چادر میسر نہ آنے پر نہایت چڑُچڑے اور بدتمیز ہو کر بادشاہ، حاکم یا افسر سے بات کرنے کے ادب آداب تک بھول جاتے ہیں۔ ان میں سے کئی اپنی ناقص خاندانی تربیت کے سبب غصے سے پھٹ پڑتے ہیں اور نعرے بازی شروع کر دیتے ہیں اور ایک آدھ پتھر یا تھپڑ بھی اچھال دیتے ہیں۔
ایسے ماحول میں آپ جیسے بن بلائے مہمان کی توقیر اور اپنی رہی سہی عزت اور نوکری بچانے کے لیے مجبوراً پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑتا ہے، ہلڑ بازی کے پرچے میں مصالحہ تیز کرنے کے لیے دہشت گردی کی فرمائشی دفعات ڈالنا پڑتی ہیں۔ گرفتاریاں کرنا پڑتی ہیں اور پھر بعد میں قیدی کی مالی استطاعت کا حساب کتاب کر کے اسے ضمانت پر چھوڑنا پڑتا ہے۔ لہٰذا عزت ماآب مت آئیے۔ ان لاکھوں زلت ماآبوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیجیے۔ آپ کے ہیلی کاپٹر وزٹ پر جتنے لاکھ روپے کا خرچہ ہوتا ہے، اسی رقم سے اشیا خرید کے اپنا وزٹنگ کارڈ اور تصویر چسپاں کر کے چھوٹے چھوٹے امدادی پیکٹ بھجوا دیا کریں۔ اس وقت ان ہجومیوں کے لیے چھوٹی سے چھوٹی مدد بھی آپ کے چہرہِ انور کے دیدار سے زیادہ قیمتی ہے۔ آپ کی آمنے سامنے زیارت پھر کبھی سہی۔ہز ایکسیلینسی یقین مانیے جو لوگ آپ کے کان بھر رہے ہیں کہ بارشوں اور سیلاب نے سارا کاروبارِ خیات معطل کر دیا ہے۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہر شے معمول کے حساب سے رواں ہے۔ ہر ادارہ ویسا ہی مستعد ہے جیسا سیلاب سے پہلے تھا۔
کچھ نہیں بدلا سرکار۔ شانت رہیے، پہلے کی طرح اب بھی امدادی سامان کی ریوڑیاں اپنے اپنوں میں بٹ رہی ہیں۔ ذخیرہ اندوزوں کو تو آسمان نے واقعی چھپر پھاڑ کے عطا کر دیا ہے۔ لالچ کی منڈی آج بھی طلب اور رسد کے اصول پر چل رہی ہے۔ سیاسی مخالفین کا مقدماتی تعاقب اور چھترول بھی کل کی طرح ہشاش بشاش ہے۔ جن اداروں کا بنیادی کام شہریوں کو جبراً بنا فردِ جرم بتائے اٹھانا ہے۔ وہ آج بھی اپنے فرائض سے لمحے بھر کو غافل نہیں۔ نکاسی آب و صحت و صفائی اور صاف پانی کی فراہمی پہلے بھی قدرت کے حوالے تھی آج بھی ویسا ہی ہے۔ بلکہ دعا دیں سیلاب کو کہ راستے میں برسوں سے بچھا گند بھی وہ کرپٹ منصوبوں اور جبری قبضوں سمیت اپنے دامن میں چھپا کے لیے جاتا ہے۔
گھبرایے نہیں صاحب، آپ پر کوئی انگلی نہیں اٹھانے کا۔ عام آدمی کی یادداشت روزمرہ مسائل نے ہمیشہ کی طرح اپنے پاس گروی رکھی ہوئی ہے۔ اور اب تو اس پر نئی بارش و سیلاب کا سودِ مرکب بھی چڑھ گیا ہے۔
پچھلے بہتر برس کو ہی اگر لے لیں تو انیس سو پچاس سے اب تک اکیس بڑے سیلاب آ چکے ہیں۔ بیسویں (دو ہزار دس) اور اکیسویں سیلاب (دو ہزار بائیس) کے درمیان بارہ برس حائل ہیں۔ جو انتظامی و ادارہ جاتی اسباق دو ہزار دس کے سیلاب کے بعد رٹنے کا دعویٰ کیا گیا، اگر ان میں سے آدھے اسباق بھی عمل کی سان پر چڑھ جاتے تو آج شاید صبر کی تلقین میں بھی تھوڑا بہت وزن رہ جاتا۔
مگر ہمیشہ کی طرح مذکورہ سفارشات اور ناکامیوں پر بس ایک جادوئی جملے کی چادر ڈال دی جاتی ہے کہ ’اللہ مالک ہے۔ وہی مصیبت ٹالے گا، کسی کو اس موقع پر یاد نہیں رہتا کہ اللہ نے عقلِ سلیم بھی عطا کی ہے جس پر ہم اپنی آسانی کے لیے جب چاہتے ہیں تالا لگا دیتے ہیں۔ شاید ہم میں سے کوئی بھی مظلوم نہیں۔ مظلوم اتنے کایاں نہیں ہوتے۔ ہم تو خود ساختہ بے چارے ہیں اور یہی بے چارگی ایک مدت سے ہمارا انفرادی، گروہی، ادارہ جاتی اور قومی روزگار ہے۔کسی کو کسی نے بھلا آج تک اپنے روزگار پر لات مارتے دیکھا؟

Related Articles

Back to top button