اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے24گھنٹوں میں خاتون سمیت3فلسطینی شہید

اسرائیلی فوج نے 24 گھنٹے کے دوران خاتون سمیت 3 فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔

عرب میڈیاکی رپورٹ کے مطابق فلسطین کے علاقہ غرب اردن میں اسرائیلی فوسرز کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔وزرات صحت کے مطابق اسرائیلی فورسز نے بیت اللحم کے قریب واقع مہاجرکیمپ پر چڑھائی کردی اور فائرنگ کر کے 29سالہ ایمان محمود محیسین کو شہید کردیا۔

رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے فلسطینیوں کے حقوق کیلئے قائم گروپس کا کہناہےکہ صیہونی فورسز کی طرف سے24گھنٹوں کے دوران کی جانے والی کارروائیوں میں اب تک3فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔اسرائیلی مظالم کا شکارہونےوالامحیسین 3بچوں کا باپ تھا اور اسرائیلی جیل میں 3سال قید بھی رہا تھا۔

عرب میڈیا نے بتایا کہ اسرائیلی فورسزکی طرف سے کی گئی ایک اور کارروائی میں 24سالہ بلاول اود قباحہ شہید ہوگئے۔ قباحہ کوتشویشناک حالت میں جینن سٹی اسپتال منتقل کیاگیا تھا۔

اس سے قبل غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی مسلح فورسز کی جانب سے نہتے فلسطینیوں کے خلاف مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔حالیہ واقعے میں اسرائیلی کی دہشت گردانہ فورسز نے غرب اردن کے جنوبی علاقے الخلیل میں نوجوان لڑکی کو فائرنگ کرکے شہید کیا ہے۔مقتولہ کی شناخت غفران ہارون وارسنہ کے نام سے ہوئی ہے جسے شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکی اور خالق حقیقی سے جاملی۔

رپورٹ کے مطابق مقتولہ غفران ہارون وارسنہ کو رواں برس کے اوائل میں اسرائیلی فورسز نے بے گناہ گرفتار کرلیا تھا جنہیں اپریل میں ہی رہائی ملی تھی اور اب غاصب فورسز کے ہاتھوں ان کی شہادت ہوگئی۔

Related Articles

Back to top button