امریکہ کےوسط مدتی الیکشن میں پاکستانی نژادامیدوارکامیاب

امریکا کے وسطِ مدتی الیکشن میں ووٹوں کی گنتی کاسلسلہ جاری ہے تاہم بعض حلقوں کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں جن میں کئی پاکستانی نژاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کے وسط مدتی الیکشن کے ابتدائی نتائج میں ٹیکساس سے پاکستانی نژاد امریکی شہری سلمان بھوجانی ریاستی اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے،اسی طرح ٹیکساس میں ہی پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر سلیمان لالانی کی جیت کا امکان روشن ہے۔ علی سجاد مسلسل تیسری بار بھی آرٹیشیا شہر کے میئر منتخب ہوگئے۔

رپورٹس کے مطابق ادھر کیلی فورنیا کے ڈسٹرکٹ فورٹی میں پاکستانی نژاد امریکی شہری ڈاکٹر آصف محمود کا ری پبلکنز کے کانگریس یونگ کے ساتھ کانٹے کا مقابلہ جاری ہے۔ ڈاکٹر آصف محمود کے پہلے مسلمان سینیٹر کے طور پر کامیابی کے امکانات بھی ہیں۔

اس کےعلاوہ علی سجاد نے آرٹیشیا شہر کا میئر منتخب ہونے کی ہیٹ ٹرک کرلی۔ انھیں مسلسل تیسری بار فتح ملی۔ ان کا تعلق حکمراں جماعت ڈیموکریٹک سے ہے تاہم ان انتخابات میں ری پبلکنز کے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے امکان ہے۔

یاد رہے کہ امریکا میں ایوان زیریں کو ایوان نمائندگان اور ایوان بالا کو سینیٹ کہا جاتا ہے اور ان دونوں ایوان کے ارکان کو مجموعی طور پر کانگریس کہا جاتا ہے یعنی کانگریس سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے تمام ارکان پر مشتمل مشترکہ پارلیمنٹ ہے۔

اس وقت ایوان بالا میں مجموعی 100 نشستوں میں سے 48 حکمراں جماعت کے پاس ہیں اور دو آزاد امیدواروں کی حمایت بھی حاصل ہے جب کہ 50 ہی نشستیں اپوزیشن ری پبلکنز کے پاس ہیں،ایوان زیریں یعنی ایوان نمائندگان میں مجموعی نشستیں 435 ہیں جن میں سے 220 حکمراں جماعت جب کہ 212 ری پبلکنز کو حاصل ہیں 2 نشستیں خالی ہیں اور 6 براہ راست ممبر ہوتے ہیں۔

رپوٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ایوان نمائندگاں میں 435 میں سے حکمراں جماعت 188 اور ری پبلکنز 202 نشستوں پر کامیابی سمیٹ لیں گی تاہم اکثریت ثابت کرنے کے لیے 218 نشستوں کی ضرورت ہوگی۔

اسی طرح سینیٹ کی 35 نشستوں میں سے اکثر پر ری پبلکنز کی جیت کے امکانات ہیں جس کے بعد سینیٹ میں دلچسپ صورت حال ہوجائے گی اور صدر جوبائیڈن کو اپنی پالیسیوں کی منظوری کے لیے اپوزیشن کی سخت مزاحمت کا سامنا ہوگا۔

واضح رہے کہ امریکا میں ہر دو سال بعد وسط مدتی الیکشن ہوتے ہیں جس میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 100 نشستوں میں سے 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوتی ہے۔

Related Articles

Back to top button