ایران کی عدالت کا امریکہ کے خلاف بڑا فیصلہ سامنے آگیا

ایران کی عدالت نے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ امریکہ ایرانی نیوکلیئر سائنسدانوں کے گھر والوں کو چار بلین ڈالر بطور زر تلافی ادا کرے۔

عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایرانی عدالت کا جمعرات 23 جون کے روز آج ایک بڑا علامتی فیصلہ سناتے ہوئے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ ان ایرانی نیوکلیئر سائنسدانوں کے گھر والوں کو چار بلین ڈالر بطور زر تلافی ادا کرے، جنہیں حالیہ برسوں کے دوران ہدف بنا کر قتل کیا گیا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے تہران اپنے جوہری سائنسدانوں پر ہونے والے ٹارگٹ حملوں میں ملوث ہونے کا الزام اسرائیل پر لگاتا آیا ہے تاہم اس بار ایران نے براہ راست اپنے دیرینہ دشمن اسرائیل پر الزام عائد نہیں کیا۔ واضح رہے کہ ایران نے 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد سے اب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018ء میں ایران کے جوہری معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری اختیار کرتے ہوئے تہران پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ اس سے ایران کی تیل کی زیادہ تر آمدن منقطع ہو گئی اور ایران کی بین الاقوامی مالیاتی لین دین بھی رُک گئی یہ امر واضح نہیں ہے کہ امریکہ کے خلاف ایرانی مقدمات کو ایک ایسے وقت میں اُٹھانا جبکہ فریقین ایک دوسرے کے خلاف دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، کس حد تک مؤثر ثابت ہو گا، یہ کھلا سوال ہے۔ ایران میں کوئی امریکی اثاثے موجود نہیں ہیں جنہیں ایران ضبط کر سکے۔ اس کے باوجود ایرانی عدالت جو امریکہ کے خلاف شکایات کا جائزہ لینے کے لیے وقف ہے،ان میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سابق صدر باراک اوباما کے ساتھ ساتھ سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو، سابق مندوب برائے ایران برائن ہُک اور سابق وزیر دفاع ایشٹن کارٹر شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے امریکہ کے موجودہ صدر جو بائیڈن نے منصب سنبھالنے کے بعد جوہری معاہدے پر واپس جانا چاہا تاہم حالیہ ہفتوں میں جوہری مذاکرات تعطل کا شکار رہے ایران نے اپنی جوہری تنصیبات سے نگرانی کرنے والے 27 کیمرے ہٹا دیے تھے۔ اس پر اقوام متحدہ کی اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام نیوکلیئیر ڈیل کے لیے”مہلک دھچکا‘‘ ثابت ہو سکتا ہے، ایرانی عدالت نے کہا ہے کہ امریکہ تلافی کے طور پر کُل 4.3 بلین ڈالر ادا کرے، جس میں فیس بھی شامل ہے۔

Related Articles

Back to top button