بھارتی عدالت نے راجیو گاندھی کے قاتلوں کو معافی کیوں دی؟


بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے راجیو گاندھی قتل کیس میں ملوث 7 مجرموں کی 31 سال قید بھگتنے کے بعد رہائی کا فیصل کانگریس پارٹی کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے اور اسے غیرمنصفانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے مئی 2022 میں 46 سالہ وزیر اعظم راجیو گاندھی قتل کی 7ویں خاتون مجرم نالینی کو اپنے غیر معمولی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے رہا کر دیا تھا۔ اب اسی رہائی کو بنیاد بناتے ہوئے مزید 6 مجرموں کو بھی رہا کرنے کا حکم دیدیا گیا ہے جو کانگریس کی جانب سے تنقید کی زد میں ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر کانگریس کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ یہ فیصلہ ’ناقابلِ قبول اور مکمل طور پر غلط ہے کیوں کہ قاتلوں کو کسی صورت معافی نہیں دی جا سکتی۔

سپریم کورٹ نے تازہ فیصلے میں خاتون نالینی کے علاوہ سری ہرن، سنتھن، مروگن، رابرٹ پیاس اور آر پی روی چندرن کو رہا کرنے حکم دیتے ہوئے کہا کہ ان افراد کا جیل میں برتاؤ کافی اچھا تھا۔ ان سب نے دوران قید اپنی تعلیم جاری رکھی، انہوں نے ڈگریاں لیں، کتابیں لکھیں اور اسکے علاوہ سماجی خدمات انجام دیں لہذا انہیں رہائی دے کر نارمل زندگی شروع کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ راجیو گاندھی کو 21 مئی 1991 کو تامل ناڈو میں سری لنکا سے تعلق رکھنے والے لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلم کی ایک خاتون خودکش بمبار نے قتل کر دیا تھا۔ اس حملے میں 14 دیگر افراد بھی مارے گئے تھے۔ اس کیس میں ابتدائی طور پر 7 ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔

بعد ازاں 7 میں صرف 4 کی سزائے موت برقرار رکھی گئی تاہم ان میں سے بھی 3 کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا گیا جب کہ 19 دیگر ملزمان کو رہا کردیا گیا تھا۔ راجیو کے قاتلوں نے تین دہائیوں سے زیادہ وقت جیل میں گزارا۔راجیو کے قاتلوں کی رہائی پر بھارت میں بہت زیادہ بحث و مباحثہ جاری ہے، گانگریس نے عدالتی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ‘مکمل طور پر ناقابل قبول’ اور ‘بالکل غلط’ قرار دیا ہے۔ کانگریس کے ترجمان نے ٹوئیٹر پر جاری بیان میں کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بھارتیوں کے جذبات سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ لیکن کانگریس پارٹی کی جانب سے راجیو کے قاتلوں کی رہائی کے فیصلے پر تنقید اس لیے سمجھ سے بالاتر ہے کہ قتل ہونے والے سابق وزیر اعظم کے خاندان نے قاتلوں میں شامل ایک خاتون نالینی کو معاف کر دیا تھا۔

جب نالینی کو راجیو کے قتل میں گرفتار کیا گیا وہ تب حاملہ تھیں۔ نالینی سری ہرن کو خودکش سکواڈ کی رکن قرار دیا گیا تھا۔ نالینی کو پہلے تین دیگر مجرموں کے ساتھ موت کی سزا سنائی گئی تھی، لیکن سونیا گاندھی کی اپیل سے معافی ملنے کے بعد نالینی کی سزا کو کم کر کے عمر قید کر دیا گیا تھا۔ سونیا نے کہا تھا کہ ایک معصوم بچے کو نالینی کی غلطی کی سزا کیسے دی جا سکتی ہے جو ابھی دنیا میں نہیں آیا۔ 19 افراد کو پہلے ہی بری کر دیا گیا تھا ٹرائل کورٹ نے راجیو گاندھی قتل کیس میں 26 مجرموں کو موت کی سزا سنائی تھی۔ تاہم مئی 1999 میں سپریم کورٹ نے 19 افراد کو بری کر دیا۔ باقی سات ملزمان میں سے چار کو موت کی سزا سنائی گئی اور باقی کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ چاروں کی رحم کی درخواست پر تمل ناڈو کے گورنر نے نالینی کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ باقی ملزمان کی رحم کی درخواست صدر نے 2011 میں مسترد کر دی تھی۔ راجیو گاندھی کے بیٹے راہول نے بھی کچھ برس پہلے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہوں نے اور ان کی بہن پریانکا نے اپنے والد کے قاتلوں کو معاف کردیا ہے۔ 2018 میں راہول گاندھی نے کہا تھا کہ ہم لوگ کئی برسوں سے بہت زیادہ تکلیف اور غصے میں تھے، لیکن اب ہم نے مجرمان کو معاف کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ اکتوبر 1984 میں اپنی والدہ اور سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد راجیو، بھارت کے سب سے پہلے کم عمر وزیر اعظم بنے تھے۔ کانگریس کا بھارت کی سیاست میں برسوں غلبہ رہا، راجیو گاندھی کی بیوہ سونیا اب بھی انتہائی طاقت ور ہیں جبکہ ان کا بیٹا راہول گاندھی موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اہم سیاسی حریف سمجھتا ہے۔

راجیو گاندھی کے قتل کو ان کے اس فیصلے کا ردعمل قرار دیا گیا تھا جب انہوں نے 1987 میں سری لنکا کے تامل باغیوں کو غیر مسلح کرنے کے لیے بھارتی فورسز کو بھیجا تھا۔ باغیوں کے ساتھ لڑائی میں ایک ہزار سے زائد فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد بھارت نے اپنے فوجیوں کو واپس بلا لیا تھا۔ اپنے لیے علیحدہ ملک کا مطالبہ کرنے والی تامل ٹائیگرز نے 1983 میں سری لنکن حکومت کے خلاف بغاوت کا آغاز کیا تھا جس کے دوران فوج اور سرکاری شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ خانہ جنگی سری لنکن فوج کی تامل ٹائیگرز کو مئی 2009 میں شکست دینے تک جاری رہی تھی۔

Related Articles

Back to top button