تاجکستان ،کرغزستان کی جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 81 ہوگئی

کرغزستان اور تاجکستان کی افواج کے درمیان سرحد پر جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 81 ہو گئی ہے جبکہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے دونوں فریقوں سے پُرامن رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔

روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں نے ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کی تصدیق کی ہے جہاں دوسرے دن عارضی جنگ بندی ناکام ہوگئی۔ سابق سوویت ریاستوں کے درمیان 14 سے 16 ستمبر تک سرحدی جھڑپیں شروع ہوئیں جن میں کرغزستان اور تاجکستان نے ایک دوسرے پر ٹینک، مارٹر، راکٹ، توپ خانے اور ڈرونز کے ذریعے قریبی آبادیوں پر حملوں کا الزام عائد کیا۔

رپورٹ کے مطابق وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان سرحدی معاملات سوویت دور کے ہیں جب ماسکو نے علاقوں کی تقسیم مختلف گروپوں کی آبادیوں اور نسلی بنیادوں پر کرنے کی کوشش کی تھی۔

کرغزستان نے اتوار کو 36 ہلاکتوں کی تصدیق کی اور کہا کہ سرحدی علاقے سے ایک لاکھ 37 ہزار افراد کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، کرغز حکومت نے پیر کو ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں یومِ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب تاجکستان نے بھی جھڑپوں میں 35 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ تاہم علاقے سے شہریوں کے انخلا کے حوالے سے کچھ نہیں بتای

خیال رہے کہ دونوں ملکوں نے 16 ستمبر کو سیزفائر پر اتفاق کیا تھا جس کے بعد بڑے پیمانے پر جنگ کا خطرہ ٹل گیا تاہم فائرنگ اور شیلنگ کے بعض واقعات کے الزامات عائد کیے جا رہے ہی۔

دوسری جانب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ٹیلیفون پر کرغز صدر صادر جاپروف اور تاجک صدر امام علی رحمان سے گفتگو کی ہے

ایک بیان میں صدر پوتن نے دونوں ملکوں پر زور دیا کہ وہ تشدد کو بڑھانے کے بجائے جتنا جلدی ممکن ہو ایسے سیاسی و سفارتی اقدامات کریں جس سے مکمل امن واپس لایا جا سکے۔

انکا کہنا تھا دونوں ملکوں کو اس حوالے سے معاونت فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی۔

Related Articles

Back to top button