جو لین اسانج نے اپنی امریکہ حوالگی کے فیصلے کیخلاف اپیل کر دی

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج نے برطانیہ کی جانب سے انہیں امریکا کے حوالے کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی۔

عالمی میڈیا رپورٹس میں وکی لیکس کی جانب سے جاری بیان کےحوالے سے بتایاگیا کہ جولین اسانج کے وکلا نے برطانیہ کی ہائیکورٹ میں امریکا اور برطانوی وزیر داخلہ پریتی پٹیل کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق جولین اسانج کے وکلا کا کہنا ہے کہ وکی لیکس کے بانی کو ان کے سیاسی نظریات کے باعث سزا دی جارہی ہے۔ ان کی اہلیہ اسٹیلا اسانج کا کہنا ہے کہ جولین اسانج کے خلاف مقدمات غیرقانونی ہیں اور شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے شوہر کے خلاف امریکی کوششیں مجرمانہ ہیں۔

یاد رہےکہ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے کمپیوٹر پروگرامر جولین اسانج نے 2006 میں وکی لیکس کی بنیاد رکھی اور 2010 میں انہوں نے اس وقت عالمی سطح پر توجہ حاصل کی جب وکی لیکس نے سابق امریکی فوجی چیلسا میننگ کی جانب سے فراہم کردہ خفیہ دستاویزات شائع کیں۔

وکی لیکس نے تقریبا 7 لاکھ 50 ہزار کے قریب خفیہ معلومات افشا کیں جن میں عراق، افغان جنگ اور دیگر عالمی امور نمایاں ہیں۔

51 سالہ جولین اسانج کو جاسوسی کے 17 مقدمات میں 175 سال قید کی سزا سنائی جاچکی ہے۔

برطانوی وزیر داخلہ نے جون 2022 میں جولین اسانج کو امریکا کے حوالے کرنے کی منظوری دی تھی۔

Related Articles

Back to top button