راجیوگاندھی کے قاتل نے خود کوفریڈم فائٹرقراردے دیا


سابق بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کے قتل کیس میں عمر قید کاٹ کر رہائی پانے والے مجرم آر پی روی چندرن نے خود کو فریڈم فائٹر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی عوام کو ہمیں دہشت گرد یا قاتلوں کے بجائے مظلوم کے طور پر دیکھنا چاہیے کیونکہ ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ دہشت گرد کون ہے اور آزادی کی جنگ کون لڑ رہا ہے۔ جیل سے رہائی کے بعدآر پی روی چندر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وقت انہیں بے قصور ثابت کرے گا حالانکہ انہوں نے تیس برس طویل قید کاٹ لی ہے۔ یاد رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے راجیو گاندھی قتل کیس میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے چھ ملزمان کو بری کر کے رہا کر دیا ہے۔ ان میں سے ایک روی چندرن ہیں۔

اس سے قبل رواں سال 18 مئی کو سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ جسٹس بی آر گاوائی اور جسٹس بی وی ناگارتھنانے آرٹیکل 142 کے تحت حاصل خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ملزم اے جی پیراریولن کی 31 سال بعد رہائی کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے جیل میں ’مناسب برتاؤ‘ کی بنیاد پر سزا یافتہ مجرموں کو رہا کیا تھا۔ روی چندرن کا کہنا تھا کہ ’شمالی انڈیا کے لوگوں کو ہمیں دہشت گرد یا قاتلوں کے بجائے مظلوم کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ وقت اور طاقت تعین کرتا ہے کہ کون دہشت گرد ہے اور کون آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے۔ چاہے ہم دہشت گرد ہونے کا الزام برداشت کر رہے ہیں لیکن وقت فیصلہ کرے گا کہ ہم مظلوم ہیں۔‘قتل کیس میں 30 سال بعد رہا ہونے والے چھ ملزمان میں نالینی شری ہارن بھی شامل ہیں جنہوں نے رہائی کے بعد ریاست تامل ناڈو اور مرکزی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ عمر قید کی سزا کاٹنے والے مجرمان میں سے نالینی شری ہارن جیل میں سب سے زیادہ عرصہ گزارنے والی خاتون ہیں۔ نالینی شری ہارن نے کہا کہ ان کے گھر والے طویل عرصے سے ان کے انتظار میں ہیں اور اب وہ ان کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہیں۔’میں اپنی فیملی کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔ جب پوچھا گیا کہ کیا وہ گاندھی خاندان کے کسی فرد سے ملنا چاہیں گی، تو نالینی کا کہنا تھا کہ ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں اور وہ وہیں جائیں گی جہاں ان کے شوہر جائیں گے۔

یاد رہے کہ 21 مئی 1991 کو راجیو گاندھی کو سری لنکن شدت پسند تنظیم لبریشن ٹائیگرز آف تامل کی دھنو نامی ایک خاتون خودکش بمبار نے تامل ناڈو کے علاقے میں ایک انتخابی ریلی کے دوران دھماک کر کے قتل کر دیا تھا۔ لیکن 2018 میں راجیو گاندھی کے بیٹے راہل گاندھی نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے اور انکی بہن پرینکا گاندھی نے اپنے والد کے قاتلوں کو معاف کر دیا ہے۔

Related Articles

Back to top button