سعودی عرب : پرائیویٹ ملازمین کی تنخواہوں میں 40 فیصد کٹوتی

سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں، جن کی زیادہ تر گنتی نجی شعبے سے وابستہ ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے نجی شعبے کے تمام ملازمین کےلیے انتہائی بُری خبر سُنا دی گئی ہے۔ سعودی اخبار الشرق الاوسط کے مطابق وزارت محنت و سماجی بہبود نے اعلان کیا ہے کہ نجی شعبے کی کمپنیوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے معاشی بحران کے باعث اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں 40 فیصد تک کمی کر سکتی ہیں۔
جبکہ انہیں ملازمین کی ملازمت کے کانٹریکٹس چھ ماہ کے بعد ختم کرنے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔ اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے وزارت محنت و سماجی بہبود کی جانب سے کیے گئے اس اعلان کی تحریری کاپی موصول ہوئی ہے جس کے مطابق موجودہ صورت حال میں لیبر قوانین میں ترمیم کر دی گئی ہے۔
جس کے بعد کسی بھی کمپنی یا مالک کو اختیار ہو گا کہ وہ اپنے ملازمین کو چھ ماہ کی تنخواہ 40 فیصد کی کٹوتی کر کے دے سکتے ہیں۔
اس چھ ماہ کی مُدت کے بعد وہ اپنے ملازمین کو فوری طور پر نوکری سے فارغ کر سکیں گے۔ جن ملازمین کی تنخواہ میں کٹوتی کی جائے گی، ان کے کام کے اوقات بھی کم کیے جائیں گے۔ ایسی کمپنیوں اور مالکان کو بھی ملازمین کی تنخواہیں گھٹانے کا اختیار دیا گیا ہے جنہیں حکومت کی طرف سے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے ریلیف پیکیج کے تحت مالی امداد دی جا رہی ہے یا پھر حکومتی ٹیکسز سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔
وزارت محنت کے اس اعلان سے کارکنوں کے حق میں ایک بہتری یہ ہوئی ہے کہ انہیں چھ ماہ سے پہلے نوکری سے فارغ نہیں کیا جا سکے گا۔ البتہ کمپنی کی جانب سے ان کی تنخواہوں میں 40فیصد کمی ضرور ہو سکتی ہے۔ تاہم کمپنیوں کو اس رعایت سے فائدہ اُٹھانے سے پہلے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ واقعی مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔ جن ملازمین کو سالانہ چھُٹی دی گئی ہے، انہیں بھی چھ ماہ کے دوران تنخواہوں کی ادائیگی لازمی ہوگی۔ اخبار کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جونہی یہ فیصلہ سعودی عرب کے سرکاری گزٹ ’اُم القریٰ‘ میں شائع کر دیا جائے گا، اس کے بعد سے یہ نافذ العمل ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button