سوئیڈن میں قرآن مجید کی بیحرمتی،جھڑپوں میں متعدد زخمی،30 گرفتار

سوئیڈن میں قرآن مجید کی بے حرمتی کے بعد احتجاج اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ پولیس نے30افراد کو گرفتار کر لیا۔
عالمی میڈیا کے مطابق قرآن پاک کی بے حرمتی کیخلاف سوئیڈن کے مختلف شہروں میں مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔ گزشتہ 4 روز سے جاری احتجاج کے دوران پولیس اورمظاہرین میں جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ ہنگاموں کے دوران بس سمیت بہت سی گاڑیوں کوآگ لگا دی گئی۔ پولیس نے 30 سے زائد مظاہرین کوگرفتارکرلیا۔
عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سوئیڈن میں اسلام دشمن انتہا پسند دائیں بازو کے گروپ ’ہارڈ لائن‘ نے ڈنمارک نژاد سوئیڈن کے سیاستدان راسمس پلوڈن کی زیر قیادت قرآن کی جلدیں نذر آتش کیں۔ راسمس ایک وکیل اور یوٹیوبر ہیں جو سوئیڈش رکن اسمبلی کا الیکشن لڑنا چاہتے ہیں لیکن سوئیڈن کے دورے پر موجود سیاستدان کے پاس امیدوار بننے کے لیے فی الحال زیادہ تعداد میں دستخط موجود نہیں ہیں۔ انتہا پسند سیاستدان نے ہفتے کو مالمو میں قرآن کی ایک جلد نذر آتش کی تھی جس کے بعد وہاں کے اسکول میں رات میں آگ بھڑک اٹھی تھی اور چار دن سے مسلسل احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس قبیح عمل کی وجہ سے حالیہ دنوں میں احتجاج کرنے والے مسلمان مظاہرین اور پولیس کے درمیان متعدد جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
خیال رہے کہ جمعرات اور جمعہ کو ہونے والی جھڑپوں میں 12 پولیس افسران زخمی ہو گئے تھے، پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ اتوار کو نورکوپنگ میں احتجاج کے دوران 8 افراد اور لنکوپنگ میں کیے گئے احتجاج میں 18 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
ادھر سعودی عرب نے قرآن مجید کی جلدیں نذر آتش اور اس کی بے حرمتی کرنے کے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں قرآن کریم کی بے حرمتی اور مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی مذمت کرتے ہوئے مکالمے، بقائے باہمی اور برداشت جیسی اقدار کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ بیان میں نفرت، شدت پسندی اور بے دخلی کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے تمام مذاہب اور مقدس مقامات کی بے حرمتی کو روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا ہے۔
دوسری جانب عراق کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے بغداد میں سوئیڈن کے ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ عراقی وزارت خارجہ نے ناظم الامور کو باور کرایا کہ اس طرح کے واقعات کے یورپ بالخصوص سوئیڈن سے مسلمان ممالک خصوصاً عرب ممالک سے تعلقات پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یادر ہے کہ پلوڈن نے سوئیڈن بھر میں ایسٹر کے موقع پر مظاہروں کی اجازت طلب کی تھی اور وہ قرآن کی بے حرمتی کے کئی واقعات کی اس سے قبل بھی سربراہی کر چکے ہیں۔

Related Articles

Back to top button