شاہ چارلس سوئم کا تاریخی تاج تبدیل کیوں کر دیا گیا؟

ملکہ الزبتھ کی وفات کے بعد بادشاہ بننے والے چارلس سوئم کی تاج پوشی کیلئے شاہی خاندان کے جواہرات میں سب سے اہم اور منفرد حیثیت کے حامل سترہویں صدی کے سینٹ ایڈورڈ کراؤن میں چند اہم تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بکنگھم پیلس نے کہا ہے کہ آئندہ سال 6 مئی کو شاہ چارلس سوئم کی تاج پوشی کی تقریب کے لیے تاج میں رد و بدل کیا جائے گا، ٹھوس سونے سے بنے ہوئے اس تاج میں قیمتی پتھر یاقوت، ایمے تھیسٹ، نیلم، گارنیٹ، پکھراج اور ٹرملین جڑے ہوئے ہیں۔

سینٹ ایڈورڈ کے تاج سمیت شاہی خاندان کی جواہرات کی انمول کلیکشن ٹاور آف لندن میں رکھی گئی ہے جسے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں سیاح شوق سے دیکھنے آتے ہیں، سینٹ ایڈورڈ کا تاج آخری مرتبہ 1953 میں ہونے والی تاج پوشی کی تقریب کے دوران ملکہ الزبتھ دوئم کے سر پر رکھا گیا تھا، ملکہ الزبتھ دوئم کی 96 سال کی عمر میں وفات کے بعد تخت سنبھالنے والے چارلس سوئم کو یہ تاج پہنایا جائے گا۔

یہ تاج دراصل 11ویں صدی کے بادشاہ سینٹ ایڈورڈ دی کنفیسر کے تاج کی جگہ پر 1611 میں شاہ چارلس دوئم کے لیے تیار کیا گیا تھا، اصلی تاج کو شاہ برطانیہ چارلس اول کی سزائے موت کے بعد آگ میں پگھلا دیا گیا تھا۔

نیا تاج اتنا بھاری تھا کہ کئی صدیوں تک اسے صرف تاج پوشی کی تقریب کے موقع پر ہی پہنا جاتا تھا، بعد ازاں 1911 میں شاہ جارج پنجم کی تاج ہوشی کی تقریب کے لیے اس میں ترمیم کر کے اسے کچھ ہلکا کیا گیا لیکن ابھی بھی اس کا وزن 2.23 کلو گرام یعنی تقریباً پانچ پونڈ ہے۔ 6 مئی کو لندن کے تاریخی ویسٹ منسٹر ایبے چرچ میں منعقد ہونے والی تاج پوشی کی تقریب میں چارلس سوئم کو سینٹ ایڈورڈ کا تاج پہنایا جائے گا، سروس کے دوران ہی ان کے سر پر امپیریل سٹیٹ کراؤن بھی رکھا جائے گا۔ امپیریل سٹیٹ کراؤن 1937 میں ملکہ الزبتھ دوئم کے والد شاہ جارج ششم کی تاج پوجی کے لیے تیار کیا گیا تھا، اس تاج میں دیگر قیمتی پتھروں کے علاوہ دو ہزار سے زائد ہیرے جڑے ہوئے ہیں۔

Related Articles

Back to top button