ظواہری کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کا اگلا سربراہ کون بنے گا؟


2011 میں القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں امریکی افواج کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد 11 برس تک تنظیم کی قیادت کرنے والے ایمن الظواہری کی کابل میں امریکی ڈرون حملے میں موت کے بعد اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ القاعدہ کا اگلا سربراہ کون ہوگا؟

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مصری سرجن ڈاکٹر ایمن الظواہری کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کی باگ ڈور سنبھالے کے لیے ایمن الظواہری کے آخری زندہ جانشین سیف العدل کا نام سامنے آ رہا ہے کیونکہ القاعدہ رہنمائوں کی اکثریت ایمن الظواہری کی طرح مختلف حملوں میں جانیں گنوا چکی ہے، تاہم ایمن الظواہری کے نائب قرار دیے گئے پانچ رہنمائوں میں سے آخری زندہ شخص سیف العدل ہیں۔

الظواہری کی طرح مصر میں پیدا ہونے والے سیف العدل ممکنہ القاعدہ چیف بنتے نظر آ رہے ہیں۔

سیف العدل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس وقت ایران میں پابندیوں کی زندگی گزار رہے ہیں، یاد رہے کہ ایران ایک ایسا ملک ہے جسے القاعدہ اپنا سخت ترین دشمن تصور کرتی ہے، سیف العدل القاعدہ کے بانی ارکان میں سے ہیں اور اسامہ کے بھروسہ مند ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں، وہ ایک پراسرار شخصیت کے حامل ہیں۔ امریکی حکام کی ان میں کافی دلچسپی رہی ہے اور وہ امریکہ کے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کی سب سے مطلوب دہشتگردوں کی فہرست میں بھی موجود ہیں، ایف بی آئی نے ان کی معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر انعامی رقم دینے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ ان پر اگست 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر بیک وقت ہونے والے بم حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا جاتا ہے جن میں 220 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ القاعدہ میں شمولیت سے پہلے کی ان کی زندگی کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات نہیں ہیں، ایف بی آئی کے مطابق سیف العدل 11 اپریل 1963 کو پیدا ہوئے تھے۔ یوں ان کی عمر تقریبا 60 برس بنتی ہے۔

القاعدہ تنظیم میں اعلیٰ رتبے کے باوجود سیف العدل گروہ کی جانب سے نشر ہونے والے پروپیگنڈا میں بہت کم نظر آئے، ان کی اصل شناخت کے بارے میں بھی ابہام ہے، ان کے نام سیف العدل کا عربی میں مطلب ’’انصاف کی تلوار‘‘ ہے، لیکن یہ بھی غالباً ان کا فرضی نام ہے۔ امریکی انٹیلی جینس حکام دعویٰ کرتے ہیں کہ سیف العدل کو اکثر غلطی سے مصری فوج کے سپیشل فورسز دستے کے سابق کرنل محمد ابراہیم سے ملایا جاتا ہے۔ سیف العدل نے افغانستان میں 1980 کی دہائی میں اُسامہ بن لادن کے ساتھ تب سوویت یونین کیخلاف جنگ میں حصہ لیا جب القاعدہ کی بنیاد رکھی جا رہی تھی، افغانستان کے بعد العدل صومالیہ منتقل ہو گئے جہاں انھوں نے اندرونی خانہ جنگی میں امریکی مداخلت کے خلاف لڑنے کے لیے مقامی جنگجوؤں کو تربیت دی۔ سیف العدل 90 کی دہائی میں افغانستان لوٹے، یہ وہ وقت تھا جب افغانستان میں طالبان اپنا اثر و رسوخ جما رہے تھے، لیکن وہ 2001 میں نائن الیون حملوں کے بعد امریکی قبضے کے باعث ملک چھوڑ کر چند القاعدہ اراکین کے ہمراہ ایران منتقل ہوگئے تھے، خیال کیا جاتا ہے کہ ان کو ایرانی حکام نے 2003 میں حراست میں لے لیا تھا، پھر یہ خبر آئی کہ 12 سال بعد ایرانی حکام نے ان کو قیدیوں کے تبادلے میں دیگر القاعدہ اراکین کے ساتھ رہا کر دیا گیا تھا۔

اس طویل ترین حراست کے باوجود سیف العدل کو القاعدہ میں اہم شخصیت کا درجہ حاصل رہا اور 2011 میں اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ایمن الظواہری کو تنظیم کے نئے سربراہ کے طور پر مستحکم کرنے میں بھی انہوں نے کافی مدد فراہم کی تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیف العدل کو الظواہری کی ہلاکت کے بعد نیا القاعدہ سربراہ تعینات کرنا پیچیدہ عمل ہو سکتا ہے، امریکی انسداد دہشت گردی کے ماہر کولن پی کلارک کا دعویٰ ہے کہ سیف العدل اب بھی ایران میں ہی ہیں اور نظر بندی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر ان کی تعیناتی مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے، انکے مطابق سیف کے لیے ایران میں نظر بندی کی زندگی گزارتے ہوئے ایک عالمی دہشت گرد تنظیم کو چلانا بہت مشکل ہوگا، وہ بھی ایسے میں جب ان کو سکیورٹی مسائل کا بھی سامنا ہوگا۔ واضح رہے کہ القاعدہ کے ایک اور اہم رہنما ابو محمد المصری کو 2020 میں تہران میں اسرائیلی کمانڈوز نے ایک خفیہ آپریشن میں ہلاک کر دیا تھا۔

سکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے القاعدہ کی سربراہی کے لیے اُمیدواروں کی کوئی لمبی چوڑی فہرست نہیں کیونکہ بہت سے اہم اور سینئر رہنما بھی الظواہری کی طرح مارے جا چکے ہیں۔اگر سیف العدل القاعدہ کے سربراہ نہ بن پائے تو ممکن ہے کہ القاعدہ ان علاقائی تنظیموں میں سے کسی ایک کے سربراہ کو چن لے جن سے اس کا الحاق ہے، ان میں صومالیہ کی الشباب، یمن اور مالی کی تنظیمیں شامل ہیں، لیکن یہ نہایت غیر معمولی فیصلہ ہوگا کیونکہ ایسی کوئی نظیر اب تک موجود نہیں۔ تاہم ایسا فیصلہ حیران کن اس لیے نہیں ہوگا کہ ایمن الظواہری کی سربراہی میں القاعدہ نے رفتہ رفتہ ذیلی تنظیموں کو زیادہ اختیارات دے دیئے تھے، 2013 میں القاعدہ مالی کے رہنما ناصر الوحشی کے بارے میں کہا گیا تھا کہ ان کو الظواہری کا نائب مقرر کر دیا گیا ہے۔

اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ علاقائی رہنما بھی مرکزی سربراہ کے کردار کیلئے اُمیدوار ہو سکتے ہیں لیکن الوحشی نہیں کیونکہ وہ 2015 میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ الظواہری کی جگہ لینے کیلئے جس کسی کو بھی چنا جائے گا اس کو امریکی حملے سے بچنے کیلئے اپنے آپ کو خفیہ رکھنے میں ویسی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جن کا سامنا ایمن الظواہری یا دیگر القاعدہ رہنماؤں کو تھا۔

Related Articles

Back to top button