محمد بن سلمان سعودی عرب کے کم عمر ترین وزیراعظم کیسے بنے؟


سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود کی تیسری اہلیہ فہدہ بن فلاح کے سب سے بڑے صاحبزادے اور ’’ایم بی ایس‘‘ کے نام سے مشہور شہزادہ محمد بن سلمان نے صرف 36 برس کی عمر میں سعودی وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہو کر ایک نیا ریکارڈ بنا دیا ہے، یاد رہے کہ سعودی عرب میں عام طور پر بادشاہ ہی وزیرِاعظم ہوتا ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ بادشاہ نے اپنی زندگی میں ہی وزارت عظمیٰ کسی اور کو دے دی ہے۔ اس سے پہلے محمد بن سلمان سعودی ولی عہد، وزیر داخلہ اور نائب وزیر اعظم کے عہدوں پر بھی ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں۔ سعودی بادشاہ شاہ سلمان نے 27 ستمبر کو کابینہ میں رد و بدل کرتے ہوئے ولی عہد محمد بن سلمان کو وزیراعظم مقرر کر دیا تھا، محمد بن سلمان کو گذشتہ کئی برسوں سے سعودی سلطنت کا سربراہ سمجھا جاتا ہے کیونک وہ اپنے والد سے زیادہ متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

محمد بن سلمان نے گذشتہ برسوں کے دوران سعودی عرب میں کئی ثقافتی اور سماجی تبدیلیاں متعارف کروائیں لیکن ساتھ ہی اُن کی نگرانی میں مخالف آوازوں کو سلب کرنے کی کوشش بھی کی گئی، بطور وزیرِ دفاع ان کی جگہ ان کے چھوٹے بھائی خالد بن سلمان نے لی ہے جو اس سے قبل نائب وزیرِ دفاع تھے۔ محمد بن سلمان کو 2015 میں وزیرِ دفاع بنایا گیا تھا۔

محمد بن سلمان 31 اگست 1985 کو پیدا ہوئے۔ وہ سلمان بن عبدالعزیز السعود کی تیسری اہلیہ فہدہ بن فلاح کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں، ریاض کی کنگ سعود یونیورسٹی سے بیچلرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد شہزداہ محمد نے کئی سرکاری اداروں میں کام کیا، اُن کی ایک ہی بیوی ہے جن سے ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ انھیں 2009 میں اپنے والد کا مشیرِ خصوصی مقرر کیا گیا جو اُس وقت ریاض کے گورنر تھے، شہزادہ محمد کے سیاسی سفر میں ایک اہم موڑ اپریل 2015 میں تب یا جب شاہ سلمان نے اپنی جانشینی کی قطار میں نئی نسل کو شامل کیا۔ شاہ سلمان نے سوتیلے بھائی مقرن بن عبدالعزیز کو ہٹا کر اپنے بھتیجے محمد بن نائف کو ولی عہد مقرر کیا جبکہ اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد مقرر کر دیا، اس فیصلے کے بعد محمد بن سلمان کی تخت تک رسائی ممکن بنانے کے لیے بس محمد بن نائف کو ہٹانا تھا جو کہ کچھ عرصے بعد کر دیا گیا، ولی عہد کے پاس نائب وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ وزیر دفاع کا عہدہ بھی تھا۔ شہزادہ محمد بن سلمان 29 برس کی عمر میں دنیا کے سب سے نو عمر وزیر دفاع بنے تھے۔

محمد بن سلمان کے وزارتِ دفاع کا قلمدان سنبھالتے ہی سعودی عرب نے اپنے جنوبی ہمسایہ ملک یمن میں عملی طور پر جنگی کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ یمنی تنازع دراصل ایران اور سعودی عرب کے درمیان پراکسی وار ہے۔ سال 2015 میں یمن جنگ کے بعد شہزادہ محمد بن سلمان نے مئی 2017 میں درجنوں شہزادوں، امرا اور سابق وزرا کو گرفتار کروا لیا تھا، یہ ایک بڑا جوا تھا جس سے شاہی خاندان کے رشتوں میں دراڑ پڑ سکتی تھی لیکن سلمان نہ صرف اس میں کامیاب رہے بلکہ انھوں نے گرفتار کیے گئے شہزادوں اور امرا سے پیسے بھی نکلوائے۔ اب نوجوان سعودی ولی عہد کی پوزیشن مضبوط سے مضبوط تر ہو گئی ہے اور ان کے تقریباً سارے حریف راستے سے ہٹا دیئے گئے ہیں، سلمان نے ملک میں عورتوں کے حقوق کے حوالے سے کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں جوکہ قدامت پسند ملک کے مذہبی علما کیلئے کسی دھماکے سے کم نہیں ہے۔ انھوں نے عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دی، بغیر مرد کفیل کے کاروبار شروع کرنے کا موقع دیا، ان کے ہی دور میں ایک خاتون سعودی عرب کی سٹاک ایکسچینج کی سربراہ بنیں، اسی طرح آماد خیالی کا سلسلہ جاری رہا اور اپریل 2018 میں 35 برس بعد سعودی عرب کے سنیما میں دوبارہ فلم دکھائی گئی، اور سعوی عرب میں پہلے انٹرٹینمنٹ سٹی کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا وزیراعظم بننے کے بعد اب شہزادہ محمد بن سلمان مکمل با اختیار ہو گئے ہیں اور انہیں اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے میں اب کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔

Related Articles

Back to top button