ٹوئیٹر کی خریداری کس وجہ سے ڈیڈ لاک کا شکار ہوگئی؟

ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک اور ٹوئیٹر انتظامیہ کے مابین خریداری کا معاہدہ تاحال تعطل کا شکار ہے کیونکہ ٹوئیٹر نے ابھی تک ایلون مسک کے تین خدشات کے حوالے سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا ہے۔ دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ایلون مسک نے سماجی رابطے کی معروف ویب سائٹ ٹوئیٹر کو 44 ارب ڈالرز میں خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی، لیکن انہوں نے سوشل میڈیا نیٹ ورک پر موجود جعلی ٹوئیٹر اکاؤنٹس کی تعداد بارے ’’انتہائی اہم‘‘ سوالات اٹھائے تھے جن کے جواب نہ ملنے کی وجہ سے معاہدہ تعطل کا شکار ہے۔

ایلون مسک کا موقف ہے کہ ٹوئٹر پر جعلی اور سپیم اکاؤنٹس کی تعداد بہت زیادہ ہے لہٰذا ہم ابھی تک اس معاملے پر اتفاق رائے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایلون مسک نے بتایا کہ ٹوئٹر کے ذمے واجب الادا قرض کے بارے میں بھی سوالات ہیں اور یہ سوال بھی موجود ہے کہ کیا شیئر ہولڈرز اس معاہدے کی حمایت کریں گے؟ لہٰذا میرے خیال میں معاہدے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے یہ 3 مسائل درپیش ہیں جن کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

ایلون مسک نے کہا کہ وہ شمالی امریکا کی 80 فیصد اور دنیا کی نصف آبادی کو ٹوئٹر پر لانا چاہتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایسی چیز ہونی چاہئے جو لوگوں کے لیے پرکشش ہو، اور ایسی جگہ نہ ہو جہاں وہ بے چینی محسوس کریں یا ہراساں ہوں اور اسے استعمال نہ کریں۔

انکا کہنا تھا کہ میرے خیال میں اظہارِ رائے کی آزادی اور رسائی کی آزادی میں بڑا فرق ہے، آپ عوامی مقامات پر جو بھی کہنا چاہیں اسے کہنے کی لگ بھگ مکمل آزادی آپ کو حاصل ہے لیکن آپ جو کچھ بھی کہتے ہیں، بیشک وہ متنازع ہو، اسے پورے ملک میں نشر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ایلون مسک نے کہا کہ لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ ٹوئٹر کی عمومی حکمت عملی یہ ہونی چاہئے کہ لوگوں کو وہ کہنے دیں جو وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کہنا چاہتے ہیں لیکن پھر اس چیز کو محدود کریں کہ ٹوئٹر صارفین کی ترجیحات کے مطابق کون کون اسے دیکھ سکتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اگر معاہدہ آگے بڑھتا ہے تو ان کا کردار ٹوئٹر کو آگے لے جانا ہوگا جیسا کہ ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے معاملے میں کیا۔

دوسری جانب ٹویٹر کے بورڈ نے اتفاق رائے سے یہ سفارش کر دی کہ کمپنی کے حصص یافتگان ایلون مسک کی خریداری کے معاہدے کو قبول کر لیں، سوشل میڈیا کمپنی ٹویٹر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اتفاق رائے سے یہ سفارش کی ہے کہ کمپنی کے شیئر ہولڈرز ایلون مسک کو اس کے فروخت کے معاہدے کو منظور کرنے کیلئے ووٹ کریں۔ اطلاعات کے مطابق ٹویٹر آئندہ مہینوں میں شیئر ہولڈرز کی ایک خصوصی میٹنگ منعقد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، خرید کے اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے جن اہم اقدامات کی ضرورت ہے ان میں سے یہ ایک اہم قدم ہے۔ ٹویٹر کے بورڈ نے اپریل میں متفقہ طور پر کمپنی کو ایلون مسک کو 44 بلین ڈالر میں فروخت کرنے پر اتفاق کیا تھا، ٹویٹر کے ملازمین کے ساتھ ایک ورچوئل میٹنگ کے دوران ایلون مسک نے اپنے ارادوں کے بارے میں ملے جلے اشارے کیے، تاہم ساتھ ہی کمپنی خریدنے کی اپنی خواہش کا اعادہ بھی کیا تھا۔

ایک سوال پر ایلون مسک نے کہا کہ امکان ہے کہ آئندہ 3 ماہ میں ٹیسلا کے ملازمین کی تعداد میں تقریباً 3.5 فیصد کمی آئے گی لیکن ایک سال میں یہ تعداد دوبارہ بڑھنا شروع ہو جائے گی۔سال 2024 میں اگلے امریکی صدارتی انتخابات سے متعلق سوال پر ایلون مسک نے کہا انہوں نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ کس کی حمایت کرنی ہے لیکن وہ صدارتی امیدوار کی انتخابی مہم میں 2 سے ڈھائی کروڑ ڈالر لگانے کے لیے تیار ہیں، اس سے قبل ایلون مسک یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ فلوریڈا کے ریپبلکن گورنر رون ڈی سینٹس کی حمایت کر سکتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button