پولینڈ پرمیزائل حملہ کس نے کیا؟

پولینڈ کے صدرآن زے دودا نے کہا ہے کہ ایسے کوئی شواہد اور امکانات نہیں کہ ملک کی حدود میں گرنے والے میزائل پولینڈ پر حملہ تھا۔

انہوں ے کہا کہ یوکرین کے دفاعی افواج مختلف سمتوں میں میزائل فائر کرتے رہے ہیں اور اس کا غالب امکان ہے کہ بدقستی سے ان میزائلوں میں سے ایک پولینڈ کی حدود میں گرا،اس بات کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ کچھ بھی نہیں جس سے یہ تاثر ملے کہ یہ پولینڈ پر حملہ تھا۔

روس اور یوکرین کے قریبی ملک پولینڈ کے ایک سرحدی علاقے میں نامعلوم مقام سے میزائل گرا جس میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

عالمی خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق پولینڈ میں میزائل حملے سے عالمی سطح پر بھی کھلبلی مچ گئی۔ 70 لاکھ گھر بجلی سے محروم ہوگئے جب کہ 2 افراد ہلاک ہوگئے۔پولینڈ نے حملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی سرزمین پر گرنے والا میزائل روسی ساختہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق برطانوی وزیراعظم رشی سنک اور جرمن چانسلر سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے جی-20 اجلاس کے دوران پولینڈ پر حملے کا ذمہ دار روس کو ٹھہراتے ہوئے کڑی تنقید کی ہے۔

ادھر روس نے حملے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولینڈ پر حملہ روس کو نیٹو سے لڑوانے کی سازش ہے۔ روس نے اس دن یوکرین پر جو بھی حملے کیے وہ پولینڈ کی سرحد سے 35 کلومیٹر دور تھے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ یہ تقریباً ناممکن لگتا ہے کہ میزائل حملہ روس نے کیا ہو۔ روسی صدر پوٹن ایسی فاش غلطی کبھی نہیں کریں گے۔

دوسری جانب ادھر یوکرین کی جانب سے اس حملے پر تاحال کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ چونکہ روس اور یوکرین جنگ جاری ہے اس لیے خدشہ ہے کہ یہ میزائل انہی دو ممالک سے پولینڈ پر فائر ہوا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اے پی سے سے گفتگو میں چند اعلیٰ امریکی حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتاتا کہ یہ میزائل یوکرین فوج نے روسی میزائل کو فضا میں ہی تباہ کرنے کے لیے داغا تھا تاہم ہدف کو لگنے کے بجائے میزائل پولینڈ میں جا گرا۔

Related Articles

Back to top button