پہلی قبائلی خاتون دروپدی مرموبھارت کی 15 ویں صدربن گئی

انتہائی پسماندہ قبائلی طبقے سے تعلق رکھنے والی دروپدی مرمو بھارت کی 15 ویں صدر بن گئی ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این وی رمنا نے پیر کے دن پارلیمان کے تاریخی دربار ہال میں دروپدی مرمو سے بھارت کے نئے صدر کے عہدے کا حلف لیا۔ وہ دلت طبقے سے تعلق رکھنے والے صدر رام ناتھ کووند کی جانشین ہوں گی،حلف برداری کے بعد مرمو کو اکیس توپوں کی سلامی دی گئی۔

مرمو نے عہدے کا حلف لینے کے بعد اپنی تقریر میں کہا کہ ان کا انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت میں غریب بھی خواب دیکھ سکتا ہے اور وہ پورے بھی ہوسکتے ہیں۔

انکا کہنا تھا میرا سفر اوڈیشہ کے ایک چھوٹے سے قبائلی گاوں سے شروع ہوا، جہاں ابتدائی تعلیم حاصل کرنا بھی ایک خواب جیسا تھا لیکن تمام رکاوٹوں کے باوجود میں کالج جانے والی اپنے گاؤں کی پہلی بیٹی بنی۔ مجھے وارڈ کونسلر سے بھارت کے صدر بننے تک کا موقع ملا۔ یہ ہماری جمہوریت کی طاقت ہے اور میرا انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت میں غریب خواب دیکھ بھی سکتا ہے اور انہیں پورا بھی کرسکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق چونسٹھ سالہ مرمو بھارت کی سب سے کم عمر صدر ہیں۔ وہ ملک کی ایسی پہلی صدر ہیں جن کی پیدائش آزاد بھارت میں ہوئی۔ انہوں نے کہا، میرا انتخاب ملک کے ہرغریب کی کامیابی ہے اور یہ بھارت کی کروڑوں خواتین کی صلاحیتوں کا مظہر بھی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے مرمو کو صدر کے عہدے پر فائز ہونے پر مبارک باد دیتے ہوئے اسے بھارت کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے ایک ٹوئٹ کرکے کہا کہ بالخصوص غریبوں، پسماندہ اور دبے کچلے عوام کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔

خیال رہے کہ بھارتی صدر تینوں افواج کا “کمانڈر ان چیف” بھی ہوتا ہے لیکن اس کی حیثیت بڑی حد تک علامتی اور نمائشی ہوتی ہے کیونکہ تمام انتظامی امور کا فیصلہ وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کرتی ہے، جس پر صدر کو صرف اپنی مہر ثبت کرنی ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ مرمو کا تعلق سنتھال قبیلے سے ہے۔ بھارت میں بیشتر قبائل سرنا مذہب کو مانتے ہیں جو ہندو مذہب سے یکسر مختلف ہے۔ حالانکہ ہندو قوم پرست جماعت آر ایس ایس قبائلیوں کو ہندو دھرم کا حصہ قرار دینے کی کوشش کرتی رہی ہے تاہم یہ قبائل اس کی شدید مخالفت کرتے رہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button