دبئی کے حکمران کو بیوی سے طلاق 55 کروڑ پاؤنڈ میں پڑ گئی


برطانوی عدالت میں دبئی کے جابر حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم اور انکی چھٹی اہلیہ شہزادی حیا کے درمیان طلاق کے کیس کا ڈراپ سین ہو گیا ہے جس کے تحت شوہر پر بھاری ترین جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ برطانوی قانونی تاریخ کا سب سے بڑا مقدمہ قرار دیے جانے والے کیس میں عدالت نے حکم دیا ہے کہ شیخ محمد اپنی اہلیہ اردن کے سابق شاہ حسین کی 47 سالہ بیٹی حیا بنت الحسین کو طلاق کے نتیجے میں 55 کروڑ پاؤنڈ دیں گے جس میں نقد رقم اور اثاثے شامل ہیں۔ برطانوی ہائی کورٹ نے شیخ محمد کو حکم دیا ہے کہ وہ شہزادی حیا کو یکمشت ساڑھے پچیس کروڑ پاؤنڈ کی رقم ادا کریں اور اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
یاد رہے کہ شیخ محمد المکتوم دبئی کے ارب پتی حکمران اور متحدہ عرب امارات کے وزیراعظم ہیں اور شہزادی حیا ان کی چھ بیویوں میں سب سے چھوٹی بیوی تھیں۔ برطانوی عدالت کے فیصلے میں شہزادی حیا کو کروڑوں پاؤنڈ کی دو جائیدادوں کے انتظامات کے اخراجات کے لیے بھی رقم فراہم کی گئی ہے۔ ان میں ایک جائیداد لندن کے کینزنگٹن پیلس میں واقع ہے جبکہ دوسری سرے کاؤنٹی کے ایک قصبے ایگھم میں ان کی مرکزی رہائش گاہ ہے۔ عدالت نے شہزادی اور انکے خاندان کی سلامتی اور حفاظت کے لیے بھی خاطر خواہ رقم مختص کی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی چھٹیوں پر ہونے والے اخراجات، ان کے ملازمین کی تنخواہیں، ان کے گھر میں آیاؤں، نرسوں اور دیگر عملے کی تنخواہیں کے ساتھ شہزادی کے گھر میں رہنے والے پالتوں جانوروں کے اخراجات بھی دبئی کے حاکم کو ادا کرنا ہوں گے۔
برطانوی عدالت نے شیخ محمد کو شہزادی حیا سے پیدا ہونے والے دو بچوں، 14 سالہ بیٹی اور نو سالہ بیٹے میں سے ہر ایک کو الگ الگ سالانہ 56 لاکھ پاؤنڈ بھی ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس رقم کی باقاعدہ ادائیگی کے لیے عدالت نے 29 کروڑ پاؤنڈ کی رقم بطور زرِ ضمانت رکھنے کا حکم بھی دیا ہے۔ یاد رہے کہ طویل عرصے سے جاری اس قانونی جنگ نے خلیج کے شاہی خاندانوں کی عام طور پر خفیہ رکھی جانے والی دنیا کو افشا کیا ہے۔ شہزادی حیا سنہ 2019 میں اپنے بچوں کے ساتھ دبئی سے بھاگ کر برطانیہ آ گئی تھیں۔ انھوں نے فرار ہونے کا یہ جواز دیا تھا کہ انھیں خطرہ ہے کہ انھیں قتل کر دیا جائے گا، کیونکہ اس واقعہ سے قبل شیخ محمد نے ان کی دو دیگر بیٹیوں، شیخہ لطیفہ اور شیخہ شمسہ کو اغوا کر لیا تھا اور انھیں ان کی مرضی کے خلاف دبئی واپس بھیج دیا گیا تھا۔ 72 برس کے شیخ محمد نے، جو گھڑدوڑ کی دنیا میں ایک بہت بااثر شخصیت مانے جاتے ہیں، اس اغوا کی تردید کی تھی۔ تاہم 2020 کے ہائی کورٹ کے فیصلے میں اغوا اور قتل کے تمام امکانات کو درست کہا گیا تھا۔
یاد رہے کہ برطانیہ میں مقیم شہزادی حیا نے طلاق کا کیس دائر کرنے کے بعد اپنے ایک سابق برطانوی باڈی گارڈ سے شادی کرلی تھی۔ شیخ محمد المکتوم نے اس شادی سے پہلے ایک نظم بھی کہی تھی جس کا عنوان تھا ‘تم زندہ رہے، تم مر گئے’۔ اس سے یہ فرض کیا گیا تھا کہ شہزادی کو اس کے سابق برطانوی محافظ کے ساتھ تعلقات کا پتہ چلنے کے بعد قتل کر دیا جائے گا۔ شہزادی حیا کو برطانیہ منتقل ہونے کے بعد دھمکیاں ملتی رہیں۔ اُنھیں ‘ہم کہیں بھی پہنچ سکتے ہیں‘ جیسے پیغامات ملتے رہے جس کے بعد انھوں نے اپنی جان کے خوف کی وجہ سے سکیورٹی پر بہت زیادہ رقم خرچ کی کہ کہیں ان کے بچوں کو اغوا نہ کر لیا جائے اور انھیں دبئی واپس نہ پہنچا دیا جائے۔
شہزادی حیا یہ کہتے ہوئے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے، اپنے دوبچوں کے ہمراہ 2019 میں دبئی سے فرار ہو کر برطانیہ پہنچیں۔ برطانوی ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ شیخ محمد نے شہزادی حیا، اس کے محافظوں اور اس کی قانونی ٹیم کے موبائل فون کو غیر قانونی طور پر ہیک کیا تھا، جس میں ٹوری پارٹی کی بیرونس شیکلٹن کا فون بھی شامل ہیں۔ یہ ہیکنگ پیگاسس نامی بدنامِ زمانہ سپائی ویئر کا استعمال کرتے ہوئے کی گئی تھی جو ہیکنگ کا نشانہ بنائے جانے والے فونز پر کنٹرول کرتا ہے اور اسے اسرائیلی فرم این ایس او (NSO) گروپ نے تیار کیا تھا۔ شیخ محمد نے کہا کہ ان کے قبضے میں ہیک کیا گیا کوئی مواد نہیں تھا اور اس کے ظاہری یا خفیہ اختیار سے کوئی نگرانی بھی نہیں کی گئی تھی۔ تاہم برطانیہ میں ہائی کورٹ کے فیملی ڈویژن کے صدر نے اپنے فیصلے میں اس سے مختلف رائے دی۔
طلاق کے فیصلے میں مسٹر جسٹس مور نے کہا کہ پہلے کے فیصلوں کو دیکھتے ہوئے شہزادی اور اس کے دو بچے خاص طور پر ایک خطرناک حالت میں پھنسے ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں برطانیہ میں اپنی مسلسل حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بہت سخت سکیورٹی کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں جو بنیادی خطرہ درپیش تھا وہ بیرونی ذرائع سے نہیں تھا بلکہ ان بچوں کے والد کی طرف سے تھا، جو ریاست کے تمام وسائل استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جج نے کہا کہ ‘ان بچوں کے لیے ایک واضح اور ہمیشہ سے موجود خطرہ ہے جو تقریباً یقینی ہے جب تک کہ وہ اپنی آزادی حاصل نہیں کر لیتے ہیں۔’ جج نے شہزادی حیا کے بارے میں مزید کہا کہ ’ان کے لیے اپنی باقی زندگی میں ایک واضح خطرہ ہمیشہ موجود رہے گا، چاہے وہ شیخ محمد کی طرف سے ہو یا کسی اور جانب سے۔’

Related Articles

Back to top button