بھارتی حکام پہلی بارطالبان سے مذاکرات کیلئے کابل پہنچ گئے

بھارتی حکام امریکی انخلا کے بعد پہلی بار طالبان سے مذاکرات کیلئے کابل پہنچ چکے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت کا ایک اعلی سطحی وفد طالبان کے سینیئر عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کے لیے کابل پہنچا ہے۔ گزشتہ برس امریکہ کے افغانستان سے اچانک انخلاء اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارتی حکام کا یہ پہلا دورہ ہے۔

جمعرات 2 جون کو بھارتی حکام کی جانب سےجاری ایک بیان میں بھارتی حکام کے کابل پہنچنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارتی ٹیم طالبان کے سینیئر اراکین کے ساتھ ملاقات کرے گی اور افغانستان کے عوام کو بھارت کی جانب سے انسانی امداد فراہم کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کرے گی۔

بھارتی وفد کی قیادت بھارتی وزارت خارجہ میں پاکستان، افغانستان اور ایران کے جوائنٹ سکریٹری جے پی سنگھ کر رہے ہیں۔ وہ اس سے قبل دوحہ میں طالبان رہنماؤں سے ملاقات کر چکے ہیں۔

عالمی میڈیا کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ نے کہ بھارتی وفد کے کابل دورے کا مقصد افغانستان میں بھارتی انسانی امداد کی ترسیل کا جائزہ لینا ہے۔ وفد کے اراکین وہاں امدادی سرگرمیاں انجام دینے والی بین الاقوامی تنظیموں کے اراکین سے بھی ملاقات کریں گے اور مختلف مقامات پر بھارتی پروجیکٹوں کے نفاذ کا جائزہ لیں گے۔

عالمی میڈیا کے مطابق بھارتی وفد کا کابل دورہ اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ نئی دہلی نے طالبان انتظامیہ کو اب تک تسلیم نہیں کیا ہے اور بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ طالبان کو تسلیم کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لے۔

واضح رہے کہ بھارت نے گزشتہ برس اگست میں افغانستان میں اپنے سفارت خانہ اور قونصل خانے بند کر دیے تھے اور اپنے تمام عملے کو واپس بلا لیا تھا۔ گزشتہ ماہ بھارتی وزارت خارجہ نے کہا تھا اسے اس بات کا کوئی علم نہیں کہ افغانستان میں سفارت خانہ کب کھل سکے گا۔

Related Articles

Back to top button