سعودی عرب، چین کے درمیان شراکت داری کے 35 معاہدے

چینی صدر مسٹر شی کے دورہ سعودی عرب کے دوران 35 مختلف ترقیاتی معاہدوں پر دستخط کیے گئے، خادم حرمین شریفین سے ریاض کے قصر یمامہ میں چینی صدر نے سعودی ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی موجودگی میں ملاقات کی تھی۔

شاہ سلمان نے چینی صدر اوران کے ہمراہ وفد کو سعودی عرب میں خوش آمدید کہا جب کہ چینی صدر نے مملکت کے دورے پرمسرت کا اظہار کیا، دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب اورچین کی تاریخی دوستی کا جائزہ لیا اورمختلف شعبوں میں دونوں ملک اوردوست عوام کے وسیع ترمفاد میں دوستانہ تعلقات کو مضبوط بنانے کی تدابیر پرتبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پرسعودی وزیر مملکت و رکن کابینہ و مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر مساعد العیبان بھی موجود تھے، چین کی جانب سے کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی دفتر کی مجلس قائمہ کے رکن اوروفد میں شامل دیگراعلی عہدیدار بھی موجود تھے۔چینی صدر کے دورہ ریاض کے موقع پردرالحکومت میں دونوں ملکوں کے اداروں کے درمیان مختلف شعبوں میں 35 معاہدے کیے گئے۔ فریقین نے مفاہمتی یاداشتوں پربھی دستخط کیے۔

فریقین کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان معاہدوں سے دونوں ملکوں کے اقتصادی وسرمایہ کاری کے رشتوں کے استحکام میں مدد ملے گی جبکہ سعودی ویژن 2030 کے اہداف حاصل ہوں گے۔فریقین نے توانائی، ٹرانسپوٹ، کان کنی، لاجسٹک خدمات، آٹو انڈسٹری، طبی نگہداشت، انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں میں معاہدے کیے ہیں۔

سعودی وزارت سرمایہ کاری نے تین مفاہمتی یاداشتوں پردستخط کیے ایک کے تحت المونیم انڈسٹریل کمپلکس قائم کیاجائے گا دوسری مفاہمتی یادشت کے تحت پیٹرو کیمیکل کے شعبے میں امدادی صنعتوں کے استحکام سے ہے جبکہ تیسری مفاہمتی یاداشت ٹیکنالوجی کے فروغ ریسرچ اورمیڈیکل آلات کی مملکت میں تیاری کے بارے میں ہے۔

مملکت نے چین کی تین کمپنیوں کے ساتھ رہائشی امور میں تین مفاہمتی یاداشتیں کیں ان میں سے ہرایک کے تحت چین کی شراکت سے ایک لاکھ مکان تعمیر کیے جائیں گے۔

Related Articles

Back to top button