300روسی فوجی شام پہنچ گئے

روس نے شام میں ترکی سے منسلک سرحد میں نگرانی کے لیے 300 ملیٹری پولیس پہنچا دیے جو شہریوں کی سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ کرد جنگجووں کو 30 کلومیٹر کا علاقہ خالی کرنے میں بھی تعاون کریں گے۔
خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ ہے کہ ترکی اور شام کی سرحد میں تنازع کی جگہ پر نگرانی کے لیے 300 اہلکار پہنچ چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملیٹری پولیس کے اہلکاروں کو روس کی چیچنیا کے خطے سے شام بھیجا گیا ہے جو عوام کی سلامتی کو یقینی بنائیں گے اور سرحد سے 30 کلومیٹر کے علاقے سے واپسی میں کرد فورسز سے کی مدد کریں گے۔
روسی وزارت دفاع کے مطابق اس عمل کو مکمل کرنے کے لیے ملیٹری پولیس کے ساتھ ساتھ 20 سے زائد فوجی گاڑیاں بھی شام بھیجی جاچکی ہیں۔
خیال رہے کہ روس اور ترکی نے رواں ہفتے ایک معاہدے پر دستخط کیا تھا جس کے مطابق روسی ملیٹری پولیس اور شامی سرحدی گارڈز، کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) کو سرحد میں 30 کلومیٹر کا علاقہ خالی کرنے میں معاونت کریں گے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ساحلی شہر سوچی میں طویل مذاکرات کے بعد یہ معاہدہ طے پایا تھا۔
رپورٹ کے مطابق شام پہنچنے والے روسی اہلکار اگلے ہفتے سے باقاعدہ نگرانی کا آغاز کریں گے۔
روس اور ترکی کے درمیان مذاکرات شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے اعلان کے بعد کرد جنگجووں کے خلاف ترکی کے آپریشن سے پیدا ہونے والی صورت حال پر کیے گئے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی پر معاشی پابندیوں کا اعلان کیا تھا تاہم نائب صدر مائیک پینس نے اردوان سے مذاکرات کے بعد یقین دہانی کرائی تھی کہ کرد سرحد میں 30 کلومیٹر کا علاقہ خالی کریں گے اور معاشی پابندیاں بھی معطل رہیں گی جس کے لیے جنگ بندی کی جائے۔
دوسری جانب امریکا نے گزشتہ روز ہی کہا تھا کہ وہ شمال مشرقی شام میں تیل کی تنصیبات کے تحفظ کے لیے امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔
کرد جنگجو شام میں داعش کے خلاف جنگ میں امریکا کے اتحادی تھے تاہم امریکی صدر نے رواں ماہ کے آغاز میں اپنی فوجیوں کو واپس بلانے کا اچانک اعلان کیا تھا جس پر کردوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button