کیا الظواہری کو نشانہ بنانے والا میزائل پاکستانی راستے سے گزرا؟

پاکستانی حکام نے اس خبر کی تردید کی ہے کہ کابل میں القاعدہ کے مفرور سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کو نشانہ بنانے والا میزائل داغنے کے لیے پاکستانی فضائی حدود کا استعمال ہوا، لیکن امریکی حکام ابھی تک اس حوالے سے واضح گفتگو کرنے کو تیار نہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ایمن الظواہری کو نشانہ بنانے والا ڈرون پاکستان سے نہیں اڑا تھا۔

یاد رہے کہ 31 جولائی کو امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ امریکا نے ایک حملے میں القاعدہ کے سربراہ اور اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی ایمن الظواہری کو ہلاک کردیا ہے، یہ حملہ 2011 میں القاعدہ کی بنیاد رکھنے والے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کے لیے سب سے بڑا دھچکا ہے کیونکہ اسامہ کو القاعدہ کا چہرہ اور ظواہری کو اس کا دماغ کہا جاتا تھا۔ ظواہری کو کابل میں ایک ‘سیف ہاؤس’ کی بالکونی میں بلیڈوں والے میزائیل سے قتل کیا گیا جہاں وہ اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ رہتے تھے، اس کے علاوہ کوئی اور جانی نقصان نہیں ہوا۔

امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایمن الظواہری کو ہلاک کرنے والے امریکی ڈرون کو ممکنہ طور پر کرغزستان کی ایئربیس سے لانچ کیا گیا جو کہ امریکی فضائیہ چلا رہی ہے۔تاہم امریکی انتظامیہ ابھی تک یہ بتانے سے انکار کر رہی ہے کہ ڈرون کہاں سے ٹیک آف کیا گیا اور اس نے کون سا راستہ استعمال کیا۔ محکمہ دفاع نے صرف ایک مختصر بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ایمن الظواہری کو کابل کے مرکز میں ایک اوور دی ہورائزن آپریشن میں مارا گیا، جہاں وہ طالبان کے مہمان کے طور پر مقیم تھے۔بیان میں کہا گیا کہ 31 جولائی کو کابل کے وقت کے مطابق صبح 6:18 پر انسداد دہشت گردی کی کارروائی میں دو ہیلی فائرز میزائلوں سے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکا کے سب سے بڑے ریڈیو نیوز نیٹ ورک، نیشنل پبلک ریڈیو نے نشاندہی کی ہے کہ امریکی حکام یہ نہیں بتا رہے کہ انہوں نے ڈرون کو کہاں سے لانچ کیا، لیکن امریکا کے پاس اس علاقے میں اب کوئی فوجی اڈہ نہیں ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ طیارے نے اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے طویل فاصلہ طے کیا ہوگا۔ واشنگٹن کے ولسن سینٹر میں جنوبی ایشیائی امور کے اسکالر مائیکل کوگل مین نے نشاندہی کی کہ ڈرون حملے نے اس حملے میں پاکستان کے ممکنہ کردار پر امریکا میں ‘بہت زیادہ بحث’ دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ میں اس کے کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کروں گا لیکن اس بات پر بھی مکمل یقین نہیں کروں گا کہ کسی قسم کا کوئی کردار نہیں تھا’۔ مائیکل کوگل مین نے اپنی توجہ دو ممکنہ صورتوں پر مرکوز کی جس میں فضائی حدود اور انٹیلی جنس شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جغرافیہ جھوٹ نہیں بولتا، اگر یہ ڈرون خلیج میں امریکی اڈے سے لانچ کیا گیا تو یہ ایران کے اوپر سے پرواز نہیں کر سکے گا، اگر آپ تیز رفتار آپریشن شروع کر رہے ہیں تو وسطی ایشیا کے اوپر سے اڑان بھرنا بہت مشکل ہے اور اسے ہٹانا مشکل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس صورت میں پاکستانی فضائی حدود انٹیلی جنس سپورٹ کے لیے انتہائی مطلوبہ آپشن معلوم ہوتی ہے اور امریکی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ اس آپریشن کی منصوبہ بندی اور نگرانی میں مہینوں کا عرصہ لگا۔

شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب میں بڑے بریک تھرو کا امکان

مائیکل کوگل مین نے کہا کہ ‘کیا امریکا بغیر زمینی موجودگی کے یہ سب کچھ اکیلے کر سکتا ہے؟ اگر پاکستان نہیں تو ‘کچھ متعصب طالبان ارکان نے یہ معلومات امریکا کو فراہم کی ہوں گی’۔ یعنی ظواہری کو مارنے کی امریکی کاروائی میں پاکستان کا کچھ نہ کچھ کردار ضرور ہے۔

Related Articles

Back to top button