کشیدگی میں اضافہ ،چین کی تائیوان کے اردگردفوجی مشقیں

چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے تائیوان کے جزیرے کے ارد گرد پانیوں اور فضائی حدود میں لائیو فائر سمیت فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں جب کہ اس دوران مخصوص علاقوں میں میزائل بھی فائر کیے گئے ہیں۔

چینی میڈیا کے مطابق بڑے پیمانے پر شروع ہونے والی عسکری سرگرمیوں میں لائیو فائراوردیگر فوجی مشقیں شامل ہوں گی، جس کا آغاز مقامی وقت کے مطابق جمعرات کی دوپہر 12 بجے سے ہوگیا اور یہ مشقیں آئندہ اتوار کی دوپہر تک جاری رہیں گی۔ میڈیا ذرائع کے مطابق بعض مقامات پر چینی فوجی مشقیں تائیوان کے ساحلی علاقے سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہوں گی۔

گلوبل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی کی ایک فورس نے تائیوان کے مشرقی علاقے میں مخصوص سمندری مقامات پر کئی اقسام کے میزائل داغے۔ ترجمان پی ایل اے کے مطابق میزائل داغنے کا عمل راکٹ فورس کی لائیو فائر میزئال صلاحیتوں کا تجربہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق تائیوان کی وزارت دفاع نے چین کی جانب سے شمال مشرقی اور جنوب مغربی پانیوں میں کئی بیلسٹک اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل داغے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کی عسکری سرگرمیوں کے جواب میں ہماری مسلح افواج معمول کے مطابق الرٹ ہیں۔ ہم کسی بھی قسم کی کشیدگی کے بجائے خطے کی سلامتی اور استحکام چاہتے ہیں، تاہم اگر بات ہماری خودمختاری پر آئے گی تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

انہوں نے چینی فوجی مشقوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تائیوان نے خبردار کیا ہے کہ یہ چین کی جانب سے بڑے پیمانے پر شروع ہونے والی عسکری سرگرمی علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ترجمان وزارت دفاع نے پریس کانفرنس میں اسے بین الاقوامی نظام کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ چین کی جانب سے غیر معمولی فوجی مشقیں امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کے دورہ تائیوان کے بعد شروع ہوئی ہیں۔ اس متنازع دورے پر چین کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ہے جب کہ چین نے امریکی سفیر کو طلب کرکے اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرایا تھا۔

حمزہ کے حلف کے معاملہ پر فیصلہ محفوظ، 6:30 سنایا جائیگا

یاد رہے کہ چین نے نینسی پلوسی کے دورے سے قبل متنبہ کیا تھا کہ اگر امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکرنینسی پلوسی نے تائیوان کا دورہ کیا تو فوج کو متحرک کردے گا۔ ترجمان چینی دفتر خارجہ کے مطابق نینسی پلوسی کا دورۂ تائیوان چین کی خودمختاری اور آزادی کو چیلنج کرنا ہے، ایسی صورت میں چین کی طرف سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Related Articles

Back to top button