گستاخانہ بیانات، پرامن ہندوئوں کا بھی بی جے پی رہنمائوں کی گرفتاری کا مطالبہ

بھارت میں نبی کریم ؐ کی شان میں بی جے پی رہنمائوں کے گستاخانہ بیانات پر جہاں مسلمان سراپا احتجاج ہیں وہیں پر امن ہندو ئوں کی جانب سے بھی بی جے پی رہنمائوں کی گرفتاری کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔

بیٹری اور UPS کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ کیوں؟

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی یونیورسٹی کے پروفیسراپوروانند کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کیخلاف جونفرت پیداکی جارہی ہے اس کا سلسلہ توکئی برسوں سے جاری ہے لیکن بی جے پی کی حکومت برسراقتدارآئی تو پھر آرایس ایس کے ذریعے ایسے اقدامات اٹھائے گئے جن سے مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔
انکا کہنا تھا خاص طورپرمسلمانوں کے مذہبی جذبات کومجروح کرنے کے لئے کبھی مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی توکبھی پیغمبراسلام ﷺ کی ذات کونشانہ بنایا گیا، ہندوستان میں مسلمانوں کی تضحیک کو معمول بنا دیا گیا ہے جس کے لیے شدت پسند ہندوخاص طور پرآرایس ایس والے کھلے عام اجازت ہے، جب نوپورشرما نے یہ گستاخانہ حرکت کی تھی حکومت کوچاہیے تھا کہ فوری ان کیخلاف کارروائی کرتی لیکن حکومت نے ٹال مٹول سے کام لیا اورجب مسلمانوں ملکوں کی طرف سے احتجاج سامنے آیا تو پھرایف آئی آرکاٹی گئی لیکن نوپورشرما اور نوین جندل کوابھی تک گرفتارنہیں کیا گیا جس سے ملک کے اندراحتجاج کا سلسلہ شروع ہوا جو اب زور پکڑتا جارہا ہے اور ایسی صورت میں حکومت مظاہرین کو گرفتار کرکے جلتی پرتیل کا ڈالنے کاکام کررہی ہے۔

دہلی یونیورسٹی کے پروفیسراپوروانند نے کہا گستاخانہ بیان دینے اور اُس پر ڈھٹائی دکھانے کے بعد دنیا بھرمیں بھارت کی ساکھ متاثرہوئی ہے، بنارس کی گیان واپی مسجد کا معاملہ بھی چل رہا ہے۔انہوں نے کہا جولوگ یہ سمجھتے تھے کہ 1991 میں جب سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے حوالے سے فیصلہ دیا تھا اس فیصلے سے ہی تنازع کی ایک نئی راہ کھول دی گئی تھی حالانکہ 1991 میں یہ ایکٹ منظورہوچکا ہے کہ 15 اگست 1947 کو ہندوستان میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی جوعبادت گاہیں تھیں ان کا درجہ (اسٹیٹس) تبدیل نہیں کیا جائے گا، اب اس قانون کے ہوتے ہوئے پھرکس طرح ایک قدیم اورتاریخی گیان واپی مسجد بارے یہ کہاجارہا ہے کہ یہاں شیومندرتھا اورایک فوارے کو ہندوشیولنگ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نوجوان بھارتی سماجی کارکن راہول کپورنے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنیوالے ادارے کہتے ہیں کہ نوپورشرما اورنوین جندل کوگرفتارکرنے کا فیصلہ حکومت کو کرنا ہے،میرا پولیس انتظامیہ سے سوال ہے کہ کیا آپ کا کام صرف مظاہرین پرفائرنگ کرنا، انہیں گرفتارکرنا اوران کے گھروں کومسمارکرناہے؟سماجی کارکن آفرین فاطمہ کا گھرمسمارکردیاگیاہے، سینکڑوں مسلمانوں کیخلاف مقدمات درج کرکے گرفتارکیا گیا جبکہ احتجاج کاسلسلہ بڑھتاجارہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سربراہ سردارامیرسنگھ نے بھی بھارت میں پیغمبرﷺ اسلام کی شان میں گستاخی کی مذمت کرتے ہوئے کہا بھارت میں مسلمانوں اورسکھوں کو متحد ہو کر ہندوانتہا پسندوں کامقابلہ کرنا ہوگا، ہندو شدت پسندوں نے سکھوں کے مقدس مقاما ت کی بے حرمتی کے ساتھ مسلمانوں پربھی زمین تنگ کررکھی ہے۔

Related Articles

Back to top button