آرمی چیف سنیارٹی کی بنیاد پر لگانے کیلئے ترمیم کا امکان


لندن میں بلاول بھٹو زرداری اور میاں نواز شریف کے مابین حالیہ ملاقاتوں کے بعد اب 2006 میں پیپلز پارٹی، نواز لیگ اور 15 دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان طے پانے والے میثاق جمہوریت کے ترمیمی ڈرافٹ کی تیاری کا کام جاری ہے جس کا بنیادی مقصد ملک میں جمہوریت کا تسلسل برقراررکھنا اور فوجی مداخلت کا راستہ مکمل طور پر بند کرنا ہے۔ اس سلسلے میں یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ فوج کو سیاست سے دور کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی طرح آرمی چیف کا تقرر بھی سنیارٹی کی بنیاد پر ہو تا کہ کسی تنازع کا امکان ہی نہ رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کی موجودہ حکومت الیکشن سے پہلے جو آئینی اصلاحات لانا چاہتی ہے ان میں یہ ترمیم لانے کا امکان بھی موجود ہے۔

پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو اور مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف ایک طویل سیاسی رقابت کے بعد 15 مئی 2006 کو ایک صفحے پر اکٹھے ہوئے تھے، جس کو میثاق جمہوریت کا نام دیا گیا۔ رب پاکستان میں نواز شریف کی حکومت کی معطلی اور جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کو تقریبا سات سال گزر چکے تھے۔ ماضی کی یہ دونوں حریف جماعتیں پہلے مرحلے میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت میں قریب آئیں جسکے بعد انھوں نے اس میثاق پر دستخط کیے۔ ان دنوں جنرل پرویز مشرف نے بعض ایسی آئینی ترامیم متعارف کرائیں جس سے وزیراعظم کے اختیارات محدود ہوئے اور مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو سیاست سے باہر رکھا گیا جس میں تیسری بار وزیر اعظم بننے پر پابندی بھی شامل تھی۔

2006 میں بےنظیر بھٹو شہید اور نواز شریف کے مابین طے ہونے والے میثاق جمہوریت میں فوج سے متعلق 15 آرٹیکلز موجود تھے لیکن ان میں سے صرف ایک شق یا آرٹیکل پر عمل درآمد ہو سکا جو کہ کابینہ کی دفاعی کمیٹی کو مؤثر بنانے سے متعلق تھا۔ بنیادی وجہ یہ رہی کہ 2006 کے بعد سے اقتدار میں آنے والی حکومتیں کمزور اور فوج تگڑی رہی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے مابین طے پانے والے میثاق جمہوریت کے مطابق آرمی، نیوی اور ائیر فورس کے چیفس نے گردشی بنیادوں پر پاکستانی آرمی فورسز کا سربراہ بننا تھا لیکن آرمی کی مخالفت کی وجہ سے کوئی بھی حکومت ہے ایسی آئینی ترمیم نہ کر پائی، جیسا کہ میثاق جمہوریت کے تحت فیصلہ کیا گیا تھا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کہ نئے الیکشن سے پہلے آئینی اصلاحات کے مجوزہ پیکج میں اس آئینی ترمیم کو شامل کرنے کی کوشش بھی کی جاسکتی ہے۔

اسکے علاوہ 2006 کے میثاقِ جمہوریت کی ایک اہم شق آئینی عدالت کا قیام بھی تھا تاہم اس پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ میثاق جمہوریت کے گواہ اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کے مرکزی کردار رضا ربانی کہتے ہیں کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے وقت یہ جائزہ لیا گیا تھا کہ آئینی عدالت کی کتنی افادیت ہو گی۔ ’اس وقت سیاسی جماعتوں کا جو تجزیہ سامنے آیا تھا کہ آئینی عدالت کے پاس ہو سکتا ہے اتنا کام نہ ہو اور ایک متبادل عدالتی ڈھانچہ لا کر کھڑا کر دیں اور پتہ چلے کے اکا دکا مقدمات ہی ریفر ہو رہے ہیں۔‘ انکا کہنا تھا کہ اگر آپ آج کے حالات دیکھیں تو آئینی عدالت کے پاس جتنا بزنس ہو گا شاید کسی اور عدالت کے پاس نہ ہو۔‘

یاد رہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے 16 سال قبل جس میثاقِ جمہوریت پر دستخط کیے تھے اس میں یہ طے پایا تھا کہ سیاست اور اقتدار میں فوجی مداخلت نہیں ہو گی۔ اب 16 برس بعد اپریل 2022 میں عمران خان کی اقتدار سے بے دخلی کے وقت فوج کی جانب سے کہا گیا کہ وہ اس سیاسی تبدیلی میں غیر جانبدار ہیں۔ میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے والے مسلم لیگ نون کے رہنما اور خیبر پختونخوا کے سابق گورنر اقبال ظفر جھگڑا کہتے ہیں کہ یہ دو جماعتیں نہیں بلکہ 17 جماعتیں تھیں۔ اس وقت اے آر ڈی موجود تھی اور ان جماعتوں کی موجودگی میں یہ سب کچھ ہوا تھا اور لندن میں ایک کل جماعتی کانفرنس ہوئی تھی جس کی منظوری کے بعد اس معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔

چارٹر آف ڈیموکریسی میں 1973 کے آئین کو 10 اکتوبر 1999 کی شکل میں بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا، صوبائی خود مختاری کے علاوہ فوجی اداروں کے وسائل اور ان کے کردار پر سویلین بالادستی قائم کرنے پر زور دیا گیا۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ وہ کسی فوجی حکومت میں شامل ہوں گی اور نہ ہی حکومت میں آنے اور منتخب حکومت کے خاتمے کے لیے فوج کی حمایت طلب کریں گی۔ ملک کے دفاعی بجٹ کو منظوری کے لیے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کی سفارش کی گئی اور یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ڈیفنس کیبنٹ کمیٹی کی سربراہی وزیراعظم کے پاس ہونی چاہیے۔ ایک ایسا کمیشن بنانے کی سفارش کی گئی جو سنہ 1996 کے بعد جمہوری حکومتوں کو ہٹانے اور کارگل جیسے واقعات کی تحقیقات کرے اور اس سے متعلق ذمہ داری کا تعین کرے۔

آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلیجنس اور تمام دیگر خفیہ ایجنسیوں کو منتخب حکومت کے ماتحت بنانے اور تمام خفیہ اداروں کے سیاسی شعبے ختم کرنے کی سفارش کی گئی۔ فوج اورعدلیہ کے تمام افسروں کو ارکانِ پارلیمنٹ کی طرح اپنی جائیداد اور آمدنی کے سالانہ گوشوارے جمع کرانے کا پابند بنانے اور ایک ایسی کمیٹی بنانے کی سفارش کی گئی جو فوج اور خفیہ اداروں میں وسائل کے ضیاع کو روکنے کے بارے میں سفارشات مرتب کرے۔ ملٹری لینڈ اور کنٹونمینٹ کو وزارتِ دفاع کے تحت کرنے اور ایک ایسا کمیشن بنانے کی سفارش کی گئی جو 12 اکتوبر 1999 کے بعد فوج کو الاٹ کی گئی زمینوں کے کیسوں کا جائزہ لے۔

اب 16 برس بعد اسی میثاق جمہوریت یا چارٹر آف ڈیمو کریسی کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی جانب سے ایک مشترکہ ڈرافٹ کی تیاری کا عمل جاری ہے جس میں آئینی اصلاحات کے لیے مجوزہ ترامیم بھی شامل کی جائیں گی۔

Related Articles

Back to top button